Posts

ادعیہ ماثورہ

Image
ادعیۂ ماثورہ: مفہوم، فضیلت اور اہمیت اےبی فاروقی الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، حضرت محمد ﷺ پر جن کی حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کی اصلاح کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انہی ذرائعِ اصلاح میں ایک نہایت اہم ذریعہ دعا ہے۔ دعا نہ صرف بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتی ہے بلکہ دل کی کیفیت، نیت کی پاکیزگی اور روحانی سکون کا بھی سبب بنتی ہے۔ ادعیۂ ماثورہ کیا ہیں؟ ادعیۂ ماثورہ سے مراد وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم ﷺ سے قولاً یا عملاً ثابت ہوں اور جنہیں آپ ﷺ نے خود پڑھا، سکھایا یا ان کی ترغیب دی۔ یہ دعائیں قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ﷺ سے ماخوذ ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں سب سے زیادہ مستند، جامع اور بابرکت مانا جاتا ہے۔ ادعیۂ ماثورہ کی فضیلت 1. قبولیت کے زیادہ قریب چونکہ یہ دعائیں براہِ راست نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں، اس لیے ان کی قبولیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ 2. جامعیت اور حکمت ان دعاؤں میں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی سمیٹ دی گئی ہے، جو انسانی عقل س...

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

Image
عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ تحریر: عبدالباسط فاروقی 🌿 عورت کا مفہوم اور اسلامی تصور عورت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا تعلق ستر اور پردہ سے ہے۔ فقہی اصطلاح میں مرد اور عورت دونوں کے لیے ستر کے احکام متعین کیے گئے ہیں تاکہ معاشرے میں حیا اور پاکیزگی برقرار رہے۔ اسلام نے عورت کو ایک باوقار مقام عطا کیا ہے، جہاں اس کی عزت، حفاظت اور حقوق کو مکمل اہمیت دی گئی ہے۔ 🌍 تاریخی تناظر: دو انتہائیں اسلام سے پہلے مختلف معاشروں میں عورت کے ساتھ دو طرح کے رویے دیکھنے میں آئے۔ ایک طرف ایسے معاشرے تھے جہاں عورت کو مکمل آزادی کے نام پر بے وقعت کر دیا گیا، جبکہ دوسری طرف ایسے معاشرے بھی تھے جہاں اس پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اسلام نے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا۔ ⚖️ اسلام کا معتدل راستہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو جوڑے کی صورت میں پیدا فرمایا۔ یہی فطری نظام ہے جس کے تحت زندگی کا تسلسل قائم رہتا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی بیوی کے حقوق شوہر پر لازم قرار دیے گئے بہن کی عزت و حفاظت کو اہمیت دی گئی بیٹی کی بہترین تربیت کو جنت...

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

Image
میرے شیخ کی داستاں مولانا عبدالقادر کی حیات جاویداں   مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ ایک عالم ربانی، عظیم مصلح، مربی اور استاد الاساتذہ تھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے رکن اور جمعیت اتحاد العلماء کے صدر کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، وہ کلیہ الدعوہ الاسلامیہ چہلہ بانڈی مظفرآباد کے بانی بھی تھے۔ اتحاد امت کے داعی مولانا ندیم رحمتہ اللہ علیہ اتحاد امت کے ایک عظیم داعی تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی اور ان کے اسٹیج پر ہمیشہ تمام مکاتب فکر کے لوگ موجود ہوتے تھے۔ ان کی وفات کو ایک سال ہو چکا ہے، لیکن ایک شاگرد، دوست اور مربی کے طور پر ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات ناقابل فراموش ہیں۔ زندگی کا مقصد مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی خودی اور خودداری سے عبارت تھی۔ انہوں نے پاکستان کے کونے کونے میں دعوت اسلام اور نظام اسلامی کے نفاذ کے اہم پہلو کو اجاگر کیا۔ وہ حسن اخلاق کے مالک تھے اور جو بھی ان سے ملتا، ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ ان سے ملنے جلنے والے لوگ انہیں ہم...

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ

Image
  یاد رفتہ۔۔۔ پردیس کی 🔥 تپش اور دیس کی ٹھنڈی یادیں!! انسان جب پردیس میں مقیم رہتا ہے تو اسے اپنے وطن میں گزرے ہوئے لمحات، نشت وبرخاست کی یادیں گھیرے رہتی ہیں ۔ کبھی گاوں کےدلفریب مناظر ستاتےہیں تو کبھی احباب کی ایک لمبی فہرست اس کے سامنے آ دمکتی ہے۔ پردیس کی زندگی اور یاد وطن کا جبر!!! انسان سے وابسطہ ہر ہر سنہری یاد اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔اور پھر وطن اگر کشمیر جنت ارضی جیسا ہو تو پھر عہد رفتہ جبر بن کر انسان پر برستا ہے۔ احساسات کو الفاظ کا روپ دیتے ہوئے مشقت ہو رہی ہے بہر حال پردیس میں اپنوں سے دور رہنا جان جوکھوں کا کام ہے۔یہ زندگی ایک مختصر سے دورانیے پر مشتمل خالق لم یزل کا ایک بیش بہا تحفہ ہے۔اس کو زندہ دلی سے جینا چاہیے۔ معاشی خوشحالی یا سماجی فرحت اگر یہ زندگی فقط اپنی مصروفیات اور معاشی خوشحالی کے حصول میں ہی خرچ ہو جائے تو یہ ایک قابل افسوس عمل ہے ۔اس زندگی میں انسان کو جہاں اللہ رب العزت کو خوش کرنا ہے اور اعلائے کلمتہ اللہ کے لیے جدوجہد کرنی ہے وہاں اپنی معاشرتی زندگی اور سماجی میل جول کوبھی اہمیت دینی ہےتاکہ ایک بھر پور زندگی سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔قدرت کی طرف ...

یوم یکجہتی کشمیر،تاریخی پس منظراور ہماری ذمہ داریاں

Image
تاریخی پس منظر: 1987 کے انتخابات اور عوامی ردِعمل تحریر  اے بی فاروقی اگرچہ کشمیر میں حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی جڑیں بہت پرانی ہیں، لیکن اس کا ایک اہم موڑ 23 مارچ 1987 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات تھے۔ تمام مسلم نمائندہ جماعتوں نے اس امید کے ساتھ ان انتخابات میں حصہ لیا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھیں گے، لیکن عوامی رائے کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے دبا دیا گیا۔ اس سیاسی ناانصافی نے کشمیری قیادت اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ روایتی سیاسی عمل ان کے مسائل کا حل نہیں بن پا رہا۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے جدوجہدِ آزادی میں ایک نئی لہر پیدا ہوئی اور عوامی قیادت نے اپنے حقوق کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنے کو قرینِ مصلحت سمجھا۔ یومِ یکجہتی کشمیر کا آغاز کیسے ہوا؟ وادیِ کشمیر کی ابتر صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف 5 جنوری 1989 کو امیر جماعت اسلامی پاکستان، محترم قاضی حسین احمد (رحمتہ اللہ علیہ) نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے 5 فروری کو ملک گیر ہڑتال اور   یکجہتی کی کال دی۔ ہر سال ۵ فرروی کو ہر رابطہ پل پر انسانی زنجیر بنائی جاتی ہے اس...

فحاشی و عریانی کا معاشرتی اثر اور اسلامی تعلیمات

Image
✍️ از قلم: اے بی فاروقی تمہید اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی پاکیزگی پر زور دیتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثرات نے معاشرے میں اخلاقی اقدار کو متاثر کیا ہے، جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں حیاء کی اہمیت قرآن مجید میں مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہوں کی حفاظت اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۃ النور میں فحاشی و بے حیائی کو پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جب حیاء ختم ہو جائے تو انسان جو چاہے کرے” (مفہوم حدیث) یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حیاء ایمان کی بنیاد ہے۔ معاشرتی میڈیا اور اخلاقی چیلنجز آج کے دور میں اشتہارات، ڈرامے اور سوشل میڈیا مواد میں اکثر ایسے مناظر شامل ہوتے ہیں جو معاشرتی اقدار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نوجوان نسل کے ذہن اور کردار پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ غضِ بصر (نگاہوں کی حفاظت) کی اہمیت اسلام میں غیر محرم سے نگاہیں بچانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ دل و دماغ پاکیزہ رہیں۔ علماء کے مطابق مسلسل غیر مناسب مناظر کا سامن...

سماجی انصاف کی فراہمی: زینب کیس کا تاریخی فیصلہ اور معاشرتی ذمہ داری

Image
تحریر: اے بی فاروقی معاشرے کی بقا کا دارومدار انصاف کی فوری فراہمی پر ہوتا ہے۔ قصور کے المناک واقعے نے جہاں پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہیں مجرم کو اس کے کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عمل نے نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کوٹ لکھپت جیل میں مجرم کی سزا پر عملدرآمد محض ایک قانونی کارروائی نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ایک عبرت ناک مثال ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کا متحرک کردار اس پورے کیس میں پاکستانی میڈیا (مطبوعہ و برقی) کا کردار انتہائی قابلِ تحسین رہا۔ میڈیا نے تعصبات سے بالاتر ہو کر اس مسئلے کو اٹھایا اور اس وقت تک پیروی جاری رکھی جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو گئے۔ اسی طرح کراچی سے خیبر تک سول سوسائٹی کا بھرپور احتجاج اور غم و غصے کا اظہار اس بات کی علامت تھا کہ ہمارا معاشرہ ایسے قبیح افعال کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عوام کے اس دباؤ نے نہ صرف تحقیقاتی اداروں کو متحرک رکھا بلکہ سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں کو بھی اس پر فوری کارروائی کرنے پر مجبور کیا۔ عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عوامی اطمینان جب تک یہ کیس عدالت میں زیرِ سماعت رہا، عوام...

ریاستِ مدینہ کا تصور اور عصری سیاست: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں "ریاستِ مدینہ" کا تصور ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک ہندو رکنِ اسمبلی رمیش کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی گئی، جس نے ایوان کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ قرارداد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ شراب ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو سراہا، لیکن اکثریت کی رائے کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ شراب کی حرمت اور اسلامی تعلیمات اسلام میں شراب کی حرمت "نصِ قطعی" سے ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز کو گناہِ کبیرہ اور تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب حرمتِ شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرامؓ نے اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک نظریاتی ریاست میں ایسے قوانین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں شعائرِ اسلام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہو۔ ریاستِ مدینہ کا دعویٰ اور عملی اقدامات موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو "ریاستِ مدینہ" کے نقشِ قدم پر چلا...

عوامی حکمرانی بمقابلہ دلوں کی حکمرانی: حضرت حاجی عبدالوہاب صاحبؒ کی حیاتِ مبارکہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی آج کے جمہوری دور میں عوام پانچ سال کے لیے اپنے نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس مختصر عرصے میں ہی عوام اپنے نمائندوں سے اس قدر شاکی ہو جاتے ہیں کہ اگلے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں تو یہ قانون ہے کہ کوئی شخص دو بار سے زیادہ اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ لیکن بندگانِ خدا میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ "دلوں کی دائمی حکمرانی" عطا فرما دیتا ہے۔ اولیاء اللہ: اللہ کی پہچان کا ذریعہ اولیاء اللہ کا اصل منصب بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لانا ہوتا ہے۔ حدیثِ قدسی کے مطابق، جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے سمع و بصر اور قوتِ عمل میں اپنی رضا شامل کر دیتا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ راتیں آہ و زاری میں گزارتے ہیں اور دن میں اللہ کی مخلوق کو خالق سے جوڑنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف دو ہی وظیفوں کے گرد گھومتا ہے اللہ کی بڑائی کا بیان: کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کا مشاہدہ کرنا اور کروانا۔ اسوۂ رسول ﷺ کی ترویج: نبی کریم...

انسانیت کا تحفظ اور اسلام کا پیغامِ امن: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی امن و امان کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں شدت پسندی کے جو واقعات رونما ہوئے، ان کا نشانہ معصوم انسانیت بنی۔ اسلام، جو کہ امن کا داعی دین ہے، کسی بھی بے گناہ  کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور حقِ زندگی قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: "جس نے کسی انسان کو (ناحق) قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا" (سورۃ المائدہ: 32)۔ اس نصِ قطعی سے ثابت ہوتا ہے کہ معصوم شہریوں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے کرنا صریحاً اسلامی اصولوں کی نفی اور فساد فی الارض ہے۔ اسلامی قوانین کے مطابق، کسی کو انفرادی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے۔ یہاں تک کہ جنگ کی حالت میں بھی اسلام نے بچوں، بوڑھوں، خواتین، اور حتیٰ کہ درختوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ شدت پسندی کے پیچھے چھپے محرکات علمائے کرام نے متفقہ طور پر انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کیا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان کو جس جانی و مالی نقصان کا...

تحفظِ ناموسِ صحابہؓ اور مولانا حق نواز جھنگویؒ: ایک تاریخی مطالعہ

Image
از قلم اے بی فاروقی تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ دینِ فطرت کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ "انا نحن نزلنا ذکر وانا لہ لحفظون" کی صورت میں موجود ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر دور میں ایسے رجالِ کار پیدا فرمائے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو شعائرِ اسلام اور صحابہ کرامؓ کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ ان مخلص شخصیات میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کا بھی ہے۔ ابتدائی زندگی اور علمی سفر مولانا حق نواز جھنگوی 1952 میں جھنگ کے ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد محض دو سال کی قلیل مدت میں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ علمِ دین کی پیاس آپ کو وقت کے بڑے علمی مراکز تک لے گئی خانیوال: جہاں سے آپ نے علمِ قرآت حاصل کیا۔ دارالعلوم کبیر والا: جہاں آپ نے تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم سیکھے۔ خیر المدارس ملتان: یہاں سے آپ نے دورہ حدیث مکمل کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔ تحریکِ ناموسِ صحابہؓ کا قیام آپ کی خطابت میں بلا کا اثر تھا۔ آپ نے اپنی دعوت کا آغاز جھنگ کی "پپلیاں والی مسجد" سے کیا۔ 6 ستمبر 1986 کو آپ نے ملک کی نظریاتی حد...

8 اکتوبر 2005: جب زندگی کا پہیہ تھم گیا — ایک طالبِ علم کی آپ بیتی

Image
آ ازقلم: اے بی فاروقی آج 8 اکتوبر ہے۔ زندگی کا پہیہ حسبِ معمول چل رہا ہے، لیکن جب بھی یہ تاریخ آتی ہے، یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں۔ 2005 میں یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ تھا۔ لوگ سحری و تہیجد سے فارغ ہو کر اپنے معمولات میں مصروف تھے۔ بچے سکولوں کو جا چکے تھے، مائیں گھروں کے کاموں میں لگی تھیں اور بزرگ دھوپ سینک رہے تھے۔ راقم الحروف اس وقت کالج میں اپنے پسندیدہ استاد کی کلاس میں محوِ تعلیم تھا کہ یکایک زمین لرزنے لگی۔ وہ 1830 کی قدیم عمارت جب جھولنے لگی تو ہر طرف "لا الہ الا اللہ" کی صدائیں گونجنے لگیں۔ ہم بوکھلا کر میدان کی طرف بھاگے، جہاں خوف کا ایک ایسا سماں تھا جسے بیان کرنا ناممکن ہے۔ راولپنڈی سے رنگلہ تک کا کٹھن سفر اس دور میں رابطے کے ذرائع محدود تھے۔ موبائل فون ہر ایک کے پاس نہیں تھا، اور پی سی او سے گھر کا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ جب ٹی وی پر مارگلہ ٹاور کے گرنے کے مناظر دیکھے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ میں اپنے خاندان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین تھا، چنانچہ فوری طور پر راولپنڈی سے آزاد کشمیر کے لیے رختِ سفر باندھا۔ پنڈی سے کوہالہ تک سڑکیں ٹھیک تھیں، لیکن ...

جمہوریت، سیاسی بیانیہ اور تبدیلی کے دعوے: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی جمہوریت کا سادہ مفہوم "عوامی حاکمیت" ہے، جہاں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی کا اندازہ دو پیمانوں سے لگایا جاتا ہے: پہلا "انفراسٹرکچر" یعنی سڑکیں، پانی اور بجلی، اور دوسرا "نظریاتی و شعوری ارتقاء"۔ ترقی یافتہ ممالک میں شعوری بیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں آج بھی لوگ صرف اسی تبدیلی کو مانتے ہیں جو سڑک یا کھمبے کی صورت میں نظر آئے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور جمہوریت پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سیاسی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ ایک طویل عرصہ آمریت کی نذر ہوا اور جب جمہوری دور کا آغاز ہوا تو نادیدہ قوتوں کی مداخلت نے اسے مستحکم نہ ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے بعد 2013 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا سے "تحریکِ انصاف" ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔ اس کامیابی کے پیچھے "تبدیلی" اور "نیا پاکستان" کا وہ پرکشش نعرہ تھا جس نے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ نوجوان نسل اور میرٹ کا س...

سماجیات میں 'وجہ اور اثر' کا تعلق اور عصری معاشرتی مسائل

Image
ازقلم  اے بی فاروقی سماجیات یا معاشرتی علوم کے مطالعے میں "وجہ اور اثر" (Cause and Effect) کا تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے اس کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔  اگرچہ سماجی علوم کے نتائج خالص سائنس (جیسے کیمیا یا طبیعیات) کی طرح عالمگیر نہیں ہوتے، کیونکہ انسانی رویے ثقافت، مذہب، اور ماحول کے تابع ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ایک معتدل معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ معاشرتی تضادات اور اقدار کا تصادم ہر معاشرے کی اپنی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔ جو بات ایک تہذیب میں عام سمجھی جاتی ہے، دوسری میں وہ ناپسندیدہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی معاشرے میں خاندانی نظام اور سماجی تعلقات کے پیرائے مسلم معاشرت سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلم اقدار میں عفت و پاکدامنی اور خاندانی تقدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور ان سے انحراف معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کے محرکات: ایک لمحہ فکریہ ہمارے معاشرے میں جہاں ہمدردی اور ناداری کی معاونت جیسی اعلیٰ روایات موجود ہیں، وہیں کچھ سنگین اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ قصور جیسے اندوہناک واقعات ...