ملالہ یوسفزئی اور عالمی پذیرائی: ایک طالبہ سے 'گل مکئی' تک کا سفر
تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں ملالہ یوسفزئی کا نام ایک ایسی پہچان بن چکا ہے جس کی مثال شاید ہی کسی دوسرے طالب علم میں مل سکے۔ ملالہ کو آج ہمت و حوصلے کی علامت قرار دیا جاتا ہے، مگر اس غیر معمولی پذیرائی پر ایک بڑا حلقہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ خاص طور پر یہ نکتہ کہ آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ نے اتنی قلیل مدت میں وہ عالمی مقام کیسے حاصل کر لیا جو دہائیوں سے کام کرنے والے بڑے بڑے دانشوروں اور پی ایچ ڈی اسکالرز کے حصے میں بھی نہ آ سکا؟ میڈیا کا کردار اور بیانیے کی تشکیل پاکستانی میڈیا کی "گل مکئی" نے چند ہی دنوں میں وہ شہرت حاصل کی جو کسی خواب سے کم نہیں۔ وہ ڈائیریاں لکھتی ہیں، ہر سماجی مسئلے پر پختہ رائے رکھتی ہیں اور انٹرنیشنل افیئرز سے لے کر پاکستان کے تعلیمی نظام میں تبدیلی تک، ہر موضوع پر ان کا کلام حرفِ آخر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بیانات کو اخبارات کے سرورق اور نیوز بلیٹنز میں کسی بڑی عالمی شخصیت کی طرح جگہ دی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور 'ملالہ ڈے' ملالہ کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب وہ طالبان کے حملے میں زخمی ہوئیں۔ اس واقعے کے ...