انسانیت کا تحفظ اور اسلام کا پیغامِ امن: ایک تجزیاتی مطالعہ
تحریر: اے بی فاروقی امن و امان کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں شدت پسندی کے جو واقعات رونما ہوئے، ان کا نشانہ معصوم انسانیت بنی۔ اسلام، جو کہ امن کا داعی دین ہے، کسی بھی بے گناہ کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور حقِ زندگی قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: "جس نے کسی انسان کو (ناحق) قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا" (سورۃ المائدہ: 32)۔ اس نصِ قطعی سے ثابت ہوتا ہے کہ معصوم شہریوں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے کرنا صریحاً اسلامی اصولوں کی نفی اور فساد فی الارض ہے۔ اسلامی قوانین کے مطابق، کسی کو انفرادی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے۔ یہاں تک کہ جنگ کی حالت میں بھی اسلام نے بچوں، بوڑھوں، خواتین، اور حتیٰ کہ درختوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ شدت پسندی کے پیچھے چھپے محرکات علمائے کرام نے متفقہ طور پر انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کیا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان کو جس جانی و مالی نقصان کا...