Posts

Showing posts from February, 2020

یوم یکجہتی کشمیر،تاریخی پس منظراور ہماری ذمہ داریاں

Image
تاریخی پس منظر: 1987 کے انتخابات اور عوامی ردِعمل تحریر  اے بی فاروقی اگرچہ کشمیر میں حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی جڑیں بہت پرانی ہیں، لیکن اس کا ایک اہم موڑ 23 مارچ 1987 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات تھے۔ تمام مسلم نمائندہ جماعتوں نے اس امید کے ساتھ ان انتخابات میں حصہ لیا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھیں گے، لیکن عوامی رائے کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے دبا دیا گیا۔ اس سیاسی ناانصافی نے کشمیری قیادت اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ روایتی سیاسی عمل ان کے مسائل کا حل نہیں بن پا رہا۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے جدوجہدِ آزادی میں ایک نئی لہر پیدا ہوئی اور عوامی قیادت نے اپنے حقوق کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنے کو قرینِ مصلحت سمجھا۔ یومِ یکجہتی کشمیر کا آغاز کیسے ہوا؟ وادیِ کشمیر کی ابتر صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف 5 جنوری 1989 کو امیر جماعت اسلامی پاکستان، محترم قاضی حسین احمد (رحمتہ اللہ علیہ) نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے 5 فروری کو ملک گیر ہڑتال اور   یکجہتی کی کال دی۔ ہر سال ۵ فرروی کو ہر رابطہ پل پر انسانی زنجیر بنائی جاتی ہے اس...

فحاشی و عریانی کا معاشرتی اثر اور اسلامی تعلیمات

Image
✍️ از قلم: اے بی فاروقی تمہید اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی پاکیزگی پر زور دیتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثرات نے معاشرے میں اخلاقی اقدار کو متاثر کیا ہے، جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں حیاء کی اہمیت قرآن مجید میں مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہوں کی حفاظت اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۃ النور میں فحاشی و بے حیائی کو پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جب حیاء ختم ہو جائے تو انسان جو چاہے کرے” (مفہوم حدیث) یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حیاء ایمان کی بنیاد ہے۔ معاشرتی میڈیا اور اخلاقی چیلنجز آج کے دور میں اشتہارات، ڈرامے اور سوشل میڈیا مواد میں اکثر ایسے مناظر شامل ہوتے ہیں جو معاشرتی اقدار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نوجوان نسل کے ذہن اور کردار پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ غضِ بصر (نگاہوں کی حفاظت) کی اہمیت اسلام میں غیر محرم سے نگاہیں بچانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ دل و دماغ پاکیزہ رہیں۔ علماء کے مطابق مسلسل غیر مناسب مناظر کا سامن...

سماجی انصاف کی فراہمی: زینب کیس کا تاریخی فیصلہ اور معاشرتی ذمہ داری

Image
تحریر: اے بی فاروقی معاشرے کی بقا کا دارومدار انصاف کی فوری فراہمی پر ہوتا ہے۔ قصور کے المناک واقعے نے جہاں پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہیں مجرم کو اس کے کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عمل نے نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کوٹ لکھپت جیل میں مجرم کی سزا پر عملدرآمد محض ایک قانونی کارروائی نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ایک عبرت ناک مثال ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کا متحرک کردار اس پورے کیس میں پاکستانی میڈیا (مطبوعہ و برقی) کا کردار انتہائی قابلِ تحسین رہا۔ میڈیا نے تعصبات سے بالاتر ہو کر اس مسئلے کو اٹھایا اور اس وقت تک پیروی جاری رکھی جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو گئے۔ اسی طرح کراچی سے خیبر تک سول سوسائٹی کا بھرپور احتجاج اور غم و غصے کا اظہار اس بات کی علامت تھا کہ ہمارا معاشرہ ایسے قبیح افعال کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عوام کے اس دباؤ نے نہ صرف تحقیقاتی اداروں کو متحرک رکھا بلکہ سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں کو بھی اس پر فوری کارروائی کرنے پر مجبور کیا۔ عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عوامی اطمینان جب تک یہ کیس عدالت میں زیرِ سماعت رہا، عوام...

ریاستِ مدینہ کا تصور اور عصری سیاست: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں "ریاستِ مدینہ" کا تصور ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک ہندو رکنِ اسمبلی رمیش کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی گئی، جس نے ایوان کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ قرارداد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ شراب ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو سراہا، لیکن اکثریت کی رائے کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ شراب کی حرمت اور اسلامی تعلیمات اسلام میں شراب کی حرمت "نصِ قطعی" سے ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز کو گناہِ کبیرہ اور تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب حرمتِ شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرامؓ نے اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک نظریاتی ریاست میں ایسے قوانین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں شعائرِ اسلام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہو۔ ریاستِ مدینہ کا دعویٰ اور عملی اقدامات موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو "ریاستِ مدینہ" کے نقشِ قدم پر چلا...

عوامی حکمرانی بمقابلہ دلوں کی حکمرانی: حضرت حاجی عبدالوہاب صاحبؒ کی حیاتِ مبارکہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی آج کے جمہوری دور میں عوام پانچ سال کے لیے اپنے نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس مختصر عرصے میں ہی عوام اپنے نمائندوں سے اس قدر شاکی ہو جاتے ہیں کہ اگلے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں تو یہ قانون ہے کہ کوئی شخص دو بار سے زیادہ اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ لیکن بندگانِ خدا میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ "دلوں کی دائمی حکمرانی" عطا فرما دیتا ہے۔ اولیاء اللہ: اللہ کی پہچان کا ذریعہ اولیاء اللہ کا اصل منصب بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لانا ہوتا ہے۔ حدیثِ قدسی کے مطابق، جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے سمع و بصر اور قوتِ عمل میں اپنی رضا شامل کر دیتا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ راتیں آہ و زاری میں گزارتے ہیں اور دن میں اللہ کی مخلوق کو خالق سے جوڑنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف دو ہی وظیفوں کے گرد گھومتا ہے اللہ کی بڑائی کا بیان: کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کا مشاہدہ کرنا اور کروانا۔ اسوۂ رسول ﷺ کی ترویج: نبی کریم...

انسانیت کا تحفظ اور اسلام کا پیغامِ امن: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی امن و امان کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں شدت پسندی کے جو واقعات رونما ہوئے، ان کا نشانہ معصوم انسانیت بنی۔ اسلام، جو کہ امن کا داعی دین ہے، کسی بھی بے گناہ  کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور حقِ زندگی قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: "جس نے کسی انسان کو (ناحق) قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا" (سورۃ المائدہ: 32)۔ اس نصِ قطعی سے ثابت ہوتا ہے کہ معصوم شہریوں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے کرنا صریحاً اسلامی اصولوں کی نفی اور فساد فی الارض ہے۔ اسلامی قوانین کے مطابق، کسی کو انفرادی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے۔ یہاں تک کہ جنگ کی حالت میں بھی اسلام نے بچوں، بوڑھوں، خواتین، اور حتیٰ کہ درختوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ شدت پسندی کے پیچھے چھپے محرکات علمائے کرام نے متفقہ طور پر انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کیا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان کو جس جانی و مالی نقصان کا...

تحفظِ ناموسِ صحابہؓ اور مولانا حق نواز جھنگویؒ: ایک تاریخی مطالعہ

Image
از قلم اے بی فاروقی تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ دینِ فطرت کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ "انا نحن نزلنا ذکر وانا لہ لحفظون" کی صورت میں موجود ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر دور میں ایسے رجالِ کار پیدا فرمائے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو شعائرِ اسلام اور صحابہ کرامؓ کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ ان مخلص شخصیات میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کا بھی ہے۔ ابتدائی زندگی اور علمی سفر مولانا حق نواز جھنگوی 1952 میں جھنگ کے ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد محض دو سال کی قلیل مدت میں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ علمِ دین کی پیاس آپ کو وقت کے بڑے علمی مراکز تک لے گئی خانیوال: جہاں سے آپ نے علمِ قرآت حاصل کیا۔ دارالعلوم کبیر والا: جہاں آپ نے تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم سیکھے۔ خیر المدارس ملتان: یہاں سے آپ نے دورہ حدیث مکمل کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔ تحریکِ ناموسِ صحابہؓ کا قیام آپ کی خطابت میں بلا کا اثر تھا۔ آپ نے اپنی دعوت کا آغاز جھنگ کی "پپلیاں والی مسجد" سے کیا۔ 6 ستمبر 1986 کو آپ نے ملک کی نظریاتی حد...