تحفظِ ناموسِ صحابہؓ اور مولانا حق نواز جھنگویؒ: ایک تاریخی مطالعہ


از قلم اے بی فاروقی
تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ دینِ فطرت کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ "انا نحن نزلنا ذکر وانا لہ لحفظون" کی صورت میں موجود ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر دور میں ایسے رجالِ کار پیدا فرمائے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو شعائرِ اسلام اور صحابہ کرامؓ کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ ان مخلص شخصیات میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کا بھی ہے۔
ابتدائی زندگی اور علمی سفر
مولانا حق نواز جھنگوی 1952 میں جھنگ کے ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد محض دو سال کی قلیل مدت میں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ علمِ دین کی پیاس آپ کو وقت کے بڑے علمی مراکز تک لے گئی
خانیوال: جہاں سے آپ نے علمِ قرآت حاصل کیا۔
دارالعلوم کبیر والا: جہاں آپ نے تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم سیکھے۔
خیر المدارس ملتان: یہاں سے آپ نے دورہ حدیث مکمل کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔
تحریکِ ناموسِ صحابہؓ کا قیام
آپ کی خطابت میں بلا کا اثر تھا۔ آپ نے اپنی دعوت کا آغاز جھنگ کی "پپلیاں والی مسجد" سے کیا۔ 6 ستمبر 1986 کو آپ نے ملک کی نظریاتی حدود کی پاسبانی کے لیے ایک منظم تحریک کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی عظمت و ناموس کا تحفظ اور اس حوالے سے قانون سازی کی جدوجہد کرنا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک مقامی سطح سے نکل کر پورے ملک کی آواز بن گئی۔
استقامت اور آزمائش کے ایام
مولانا حق نواز جھنگویؒ کی زندگی آزمائشوں سے عبارت تھی۔ آپ نے اپنے موقف کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ میانوالی جیل کے ایام آپ کی استقامت کی روشن مثال ہیں۔ شدید جسمانی تشدد اور نامساعد حالات کے باوجود آپ نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا اور رہائی کے بعد دوبارہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ دعوتی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔
سیاسی جدوجہد اور عوامی مقبولیت
آپ نے نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی میدان میں بھی اپنی عوامی مقبولیت کو ثابت کیا۔ 1988 کے عام انتخابات میں آپ نے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے حصہ لیا اور جھنگ جیسے روایتی سیاسی گڑھ میں ہزاروں ووٹ حاصل کر کے وڈیروں کے سیاسی تسلط کو چیلنج کیا۔ یہ آپ کے اخلاص اور عوامی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
شہادت اور پیغام
فروری 1990 میں، جب آپ اپنے مشن کی ترویج میں مصروف تھے، نامعلوم افراد نے آپ کے گھر کی دہلیز پر آپ کو نشانہ بنایا۔ آپ کی شہادت نے تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی۔ آپ کا پیغام آج بھی ان لاکھوں دلوں میں زندہ ہے جو صحابہ کرامؓ کی محبت سے سرشار ہیں۔
اللہ پاک مولانا حق نواز جھنگویؒ کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ (آمین)

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ