کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ

 

یاد رفتہ۔۔۔ پردیس کی 🔥 تپش اور دیس کی ٹھنڈی یادیں!!

انسان جب پردیس میں مقیم رہتا ہے تو اسے اپنے وطن میں گزرے ہوئے لمحات، نشت وبرخاست کی یادیں گھیرے رہتی ہیں ۔ کبھی گاوں کےدلفریب مناظر ستاتےہیں تو کبھی احباب کی ایک لمبی فہرست اس کے سامنے آ دمکتی ہے۔
پردیس کی زندگی اور یاد وطن کا جبر!!!
انسان سے وابسطہ ہر ہر سنہری یاد اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔اور پھر وطن اگر کشمیر جنت ارضی جیسا ہو تو پھر عہد رفتہ جبر بن کر انسان پر برستا ہے۔ احساسات کو الفاظ کا روپ دیتے ہوئے مشقت ہو رہی ہے بہر حال پردیس میں اپنوں سے دور رہنا جان جوکھوں کا کام ہے۔یہ زندگی ایک مختصر سے دورانیے پر مشتمل خالق لم یزل کا ایک بیش بہا تحفہ ہے۔اس کو زندہ دلی سے جینا چاہیے۔
معاشی خوشحالی یا سماجی فرحت
اگر یہ زندگی فقط اپنی مصروفیات اور معاشی خوشحالی کے حصول میں ہی خرچ ہو جائے تو یہ ایک قابل افسوس عمل ہے ۔اس زندگی میں انسان کو جہاں اللہ رب العزت کو خوش کرنا ہے اور اعلائے کلمتہ اللہ کے لیے جدوجہد کرنی ہے وہاں اپنی معاشرتی زندگی اور سماجی میل جول کوبھی اہمیت دینی ہےتاکہ ایک بھر پور زندگی سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔قدرت کی طرف سے آپ کو کچھ جگہوں سے جوڑ دیا جا تا ہے ۔
بچپن کی رفاقتیں اور بائیس سالہ ساتھ
آپ کے حصے میں آنےوالے مقامات اور شخصیات آپ کے لیے انتہائی اہم ہو جاتے ہیں خصوصا بچپن کا زمانہ انسان کے لیے بہت ہی پر کشش اور دلکش ہوتا ہے۔چند روز قبل جب سعودی عرب سے پاکستان سالانہ رخصت پر جانا ہوا تو برادر صغیر عبدالمالک عثمانی کی شادی کے سلسلہ میں مصروفیت اسقدر رہی کہ احباب سے ملاقاتوں کی جو تمنائیں دل میں انگڑائیاں لے رہی تھیں اس میں کامیابی نہ مل سکی ۔عزیز دوست برادرم طیب اللہ گلگتی سے بمشکل ملاقات ہو پائی ۔برادرم طیب اللہ گلگتی سے میری ملاقات کلیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ چہلہ بانڈی مظفرآباد میں ہوئی تھی ۔بائیس سالہ رفاقت کی وجہ متذکرہ بالا کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ چہلہ بانڈی مظفر آبادہی تھا۔
کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ اور میرے مولانا
یہ ادارہ دینی و عصری علوم کا بہترین امتزاج ہے۔اس ادارہ کے مہتمم مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔اللہ رب العزت نے آپ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔جہاں آپ خطابت کے شہسوار تھے وہی انتظامی امور اور تربیت اطفال میں اپنا ایک مقام رکھتے تھے ۔
مولانا کا اخلاق عالیہ
رب تعالی ٰ نے آپ کو اخلاقیات کی بیش بہا دولت عطا فرما رکھی تھی لوگ آپ کے گرویدہ بن جاتے ۔فقیری میں شاہی حیات سے متصف آپ کی شخصیت خودی وخوداری کا عملی پر تو تھی۔انداز تکلم انتہائی نفیس گفتگو کرتے تو گویا موتی پرو رہے ہوں۔ راقم کے لیے ان کا تلمیذ ہونا ہی قابل فخر بات ہے۔
بہترین مربی اور نسل ساز
آپ اپنے طلبائے کرام کو اس قابل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ عملی زندگی میں کسی کے مرہون منت نہ رہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ آج کے یہ بچے مستقبل کے معمار ہیں۔ان کی ہر اعتبار سے تربیت کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔اسپیکر فورم اور بزم ادب جیسے پروگرامات میں ہر بچے کو تلاوت ،درس قرآن و درس حدیث جیسے عنوانات پر تیاری کر کے اساتذہ کی راہنمائی لیکر لب کشائی کرائی جاتی ہے۔
کلیہ الدعوہ دینی و عصری علوم کاسنگم 
اس کے علاوہ عصری علوم میں بھی اس ادارہ کی ایک ممتاز حیثیت ہے۔اس کے علاوہ ناظرہ و حفظ کی کلاسیں بھی چلائی جا رہی ہیں۔حفظ کرنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔مالی کسمپرسی کے باوجود یہ ادارہ آج بھی متلاشیان علم کی عطش ِعلمی بجھارہا ہے۔اس قسم کے ادارے مسلم معاشرے میں انتہائی ضروری ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ اسلام کی نر سریاں ہیں تو بے جا نہیں ہو گا۔یہ ادارے ہمارے ایمان کے محافظ ہیں ۔ان کے ساتھ جتنا ہو سکے تعاون کیا جانا چاہیے۔خیر بات کہیں اور نکل جائے گی ۔
ماضی کی ناسمجھیوں پر افسوس
 جب کبھی میرا مظفرآباد جا نا ہوتا ہے تو میں اپنے اس سابقہ مادر علمی کادورہ ضرور کرتا ہوں۔اس ادارے سے میری یادیں وابسطہ ہیں۔اسوقت ہم نادان اور ناسمجھ تھے ہم اپنے وقت کو قیمتی نہ بنا سکےاور کف افسوس مل رہے ہیں مگر بے سود۔
مولانا کی حیات میں کلیہ کا سفر
اس مرتبہ جب میرا کلیۃ میں جانا ہوا تو مولانا عبدالقادر ندیم دامت برکاتھم العالیہ سے ملاقات ہوئی اگرچہ میرے پاس وقت کی کمی تھی اور مجھے واپس گھر آنا تھا مگر استاد جی کے اصرار پر میں رات وہی مقیم ہو گیا۔
کمرہ نمبرایک ۔۔۔۔یاد ماضی کے جھروکے
رات کو کمرہ نمبر ایک میں پروگرام ہوا اسمیں مولانا نے میری بہت عزت افزائی فرمائی ۔اتفاق سے یہ وہی کمرہ تھا جسمیں ہم اپنے زمانہ طالب علمی کے دن گزار چکے تھے۔میں اپنی سوچوں میں بائیس سال پہلے اس کمرے میں جا چکا تھا۔وہی کمرہ جس کے دروازے سے داخل ہوتے ہی الماریوں کی ایک قطار تھی جسمیں چار الماریاں ایک ساتھ رکھی ہوتی تھیں۔ہر الماری کے دوپٹ تھے اور ایک الماری میں دو طالب علموں کے زیر استعمال تھی۔برادر طیب اللہ گلگتی سے میری رفاقت اسی کمرہ کی رہائش کے دوران ہوئی تھی ۔ذہن میں وہ تمام نقشہ گھوم رہا تھا ۔وہ سویرے کی بیداری،وہ نمازوں اہتمام،خوبصورت صبح کا تلاوت قرآن سے آغازکرنا،قاری شفیق الرحمٰن صاحب کی حفظ کی کلاس،مولانا عبدالرحمٰن افغانی کی فقہ ،حدیث،نحو و صرف کی کلاسیں،جاوید صاحب اور ارباب صاحب کی انگریزی اور ریاضی کی کلاسیں،وہ سالانہ تعطیلات سے پہلے مولانا کا سب کو جمع کر کے ترغیب دینااور مواعظ حسنہ سے بہرہ ور کرنا،اللہ اکبر !!!دل کی کیفیت ایسی تھی کہ  لیت الشباب یعود ۔۔۔۔ہائے کا ش وہ ز مانہ واپس لوٹ آئے عبدالرحمٰن صاحب کی کلاس ہو اور ہم ہوں وہ پڑھاتے جائیں اور ہم پڑھتے جائیں۔وہ سکھاتے جائیں اور ہم سیکھتے جائیں۔ لیکن عملا یہ سب ممکن نہیں طلبائے کرام سے بات کرتے ہوئے میں نے یہی بات دوہرائی کہ ہم نے گنوایا آپ مت گنواو۔ہم نے وقت ضائع کیا آپ اس کو قیمتی بناو۔

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ