Posts

Showing posts with the label Islamic Values

سماجیات میں 'وجہ اور اثر' کا تعلق اور عصری معاشرتی مسائل

Image
ازقلم  اے بی فاروقی سماجیات یا معاشرتی علوم کے مطالعے میں "وجہ اور اثر" (Cause and Effect) کا تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے اس کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔  اگرچہ سماجی علوم کے نتائج خالص سائنس (جیسے کیمیا یا طبیعیات) کی طرح عالمگیر نہیں ہوتے، کیونکہ انسانی رویے ثقافت، مذہب، اور ماحول کے تابع ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ایک معتدل معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ معاشرتی تضادات اور اقدار کا تصادم ہر معاشرے کی اپنی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔ جو بات ایک تہذیب میں عام سمجھی جاتی ہے، دوسری میں وہ ناپسندیدہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی معاشرے میں خاندانی نظام اور سماجی تعلقات کے پیرائے مسلم معاشرت سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلم اقدار میں عفت و پاکدامنی اور خاندانی تقدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور ان سے انحراف معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کے محرکات: ایک لمحہ فکریہ ہمارے معاشرے میں جہاں ہمدردی اور ناداری کی معاونت جیسی اعلیٰ روایات موجود ہیں، وہیں کچھ سنگین اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ قصور جیسے اندوہناک واقعات ...

اسلام دینِ فطرت ہے: رسم و رواج کی غلامی اور ہماری ذمہ داری

Image
از قلم اے بی فاروقی اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ "دینِ فطرت" ہے۔ اس کی ہر تعلیم انسانی جبلت اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جب سے انسان اس دنیا میں آیا، اللہ رب العزت نے کم و بیش سوا لاکھ انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسانوں کو خود ساختہ معبودوں اور توہمات کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں لے آئیں۔ :تاریخی تناظر اور انبیاء کی جدوجہد ہر دور میں انبیاء کرام نے اپنے معاشرے میں موجود برائیوں کا قلع قمع کیا۔ کہیں ناپ تول میں کمی تھی، کہیں اخلاقی پستی اور کہیں جنسی بے راہ روی؛ اللہ کے فرستادوں نے ان خرافات کے خلاف آواز بلند کی۔ جن لوگوں نے ان کی دعوت کو مانا وہ کامیاب ہوئے اور جنہوں نے سرکشی اختیار کی، وہ رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔ :رسم و رواج کی زنجیریں اور غیرتِ ایمانی آج ہم خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ہم اللہ کی رضا سے زیادہ "معاشرتی دباؤ" اور "رسم و رواج" کے غلام بن چکے ہیں۔ ہمیں یہ فکر زیادہ لاحق رہتی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" حالانکہ قرآنِ کری...

ثقافتی یلغار اور ہماری قومی پہچان: ایک لمحہ فکریہ

تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی ثقافت، زبان اور اقدار کی حفاظت کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہماری معاشرتی زندگی پر غیروں کے کلچر کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوآنہ رسوم و رواج سے لے کر مغربی طرزِ زندگی تک، ہم نے اپنی اسلامی اور مشرقی پہچان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ معاشرتی بگاڑ اور خاندانی اقدار کا زوال ہمارے معاشرے میں ذات پات کا نظام اور شادی بیاہ کی فضول رسومات اسلامی طرزِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ وہ حیا اور سادگی جو ہماری پہچان تھی، اب دکھاوے اور اسراف کی نذر ہو چکی ہے۔ نام نہاد جدت پسندی کے نام پر ڈھیلے ڈھالے اور باحیا لباس کو "دقیانوسی" قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بوائے فرینڈ کلچر اور آزادانہ میل جول کو فروغ مل رہا ہے۔ اس میں رہی سہی کسر موبائل فون کے غلط استعمال اور میڈیا کی یلغار نے پوری کر دی ہے۔ تعلیمی نظام اور فکری جمود ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ایک صالح قیادت پیدا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ نصاب میں شامل بعض مواد ہماری نسلوں کو اپنی تاریخ اور ہیروز سے دور کر رہا ہے۔ جہاں محمد ب...