ثقافتی یلغار اور ہماری قومی پہچان: ایک لمحہ فکریہ


تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی)
تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی ثقافت، زبان اور اقدار کی حفاظت کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہماری معاشرتی زندگی پر غیروں کے کلچر کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوآنہ رسوم و رواج سے لے کر مغربی طرزِ زندگی تک، ہم نے اپنی اسلامی اور مشرقی پہچان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
معاشرتی بگاڑ اور خاندانی اقدار کا زوال
ہمارے معاشرے میں ذات پات کا نظام اور شادی بیاہ کی فضول رسومات اسلامی طرزِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ وہ حیا اور سادگی جو ہماری پہچان تھی، اب دکھاوے اور اسراف کی نذر ہو چکی ہے۔ نام نہاد جدت پسندی کے نام پر ڈھیلے ڈھالے اور باحیا لباس کو "دقیانوسی" قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بوائے فرینڈ کلچر اور آزادانہ میل جول کو فروغ مل رہا ہے۔ اس میں رہی سہی کسر موبائل فون کے غلط استعمال اور میڈیا کی یلغار نے پوری کر دی ہے۔
تعلیمی نظام اور فکری جمود
ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ایک صالح قیادت پیدا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ نصاب میں شامل بعض مواد ہماری نسلوں کو اپنی تاریخ اور ہیروز سے دور کر رہا ہے۔ جہاں محمد بن قاسم جیسے دلیر سپہ سالاروں کی داستانیں نصاب سے خارج کی جا رہی ہیں، وہاں مغربی افکار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا طالب علم ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے، لیکن وہ ملک و ملت کی سالمیت اور نظریاتی دفاع سے ناواقف ہے۔
اردو زبان کی ناقدری: ایک قومی المیہ
اردو ہماری قومی زبان اور تہذیب کی علامت ہے، لیکن نسلِ نو کو انگریزی کا گرویدہ بنایا جا رہا ہے۔ زندہ قومیں اپنی زبان پر فخر کرتی ہیں۔ چین جیسے ترقی یافتہ ممالک اس کی بہترین مثال ہیں جہاں تمام تعلیم اپنی مادری زبان میں دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ہم اردو جیسے علمی خزانے کو کھو رہے ہیں۔ آج کی نسل اردو پڑھتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے، جو کہ ہماری ثقافتی نابلدی کی انتہا ہے۔
میڈیا کا کردار اور مصلحین کی ذمہ داری
میڈیا نے جہاں رابطے آسان کیے، وہاں ہماری نوجوان نسل سے دین اور تہذیب کی نعمت چھیننے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ مائیں جو کبھی ذکر و فکر کے ساتھ اولاد کی تربیت کرتی تھیں، اب ڈراموں اور غیر ضروری مشغلوں میں الجھ چکی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب کوئی واعظ یا مصلح اس لادینیت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، تو اسے "کم علم" یا "جاہل" کہہ کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حرفِ آخر
ہم سے ایک منظم منصوبے کے تحت ہماری پہچان چھینی جا رہی ہے، اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔ ہمیں اپنی جڑوں کی طرف لوٹنا ہوگا، اپنی زبان کو عزت دینی ہوگی اور اپنے اسلاف کی تہذیب کو اپنانا ہوگا۔ بقول شاعرِ مشرق
وائے نادانی متاعِ کاررواں جاتا رہا
 کاررواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ