Posts

Showing posts from January, 2020

8 اکتوبر 2005: جب زندگی کا پہیہ تھم گیا — ایک طالبِ علم کی آپ بیتی

Image
آ ازقلم: اے بی فاروقی آج 8 اکتوبر ہے۔ زندگی کا پہیہ حسبِ معمول چل رہا ہے، لیکن جب بھی یہ تاریخ آتی ہے، یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں۔ 2005 میں یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ تھا۔ لوگ سحری و تہیجد سے فارغ ہو کر اپنے معمولات میں مصروف تھے۔ بچے سکولوں کو جا چکے تھے، مائیں گھروں کے کاموں میں لگی تھیں اور بزرگ دھوپ سینک رہے تھے۔ راقم الحروف اس وقت کالج میں اپنے پسندیدہ استاد کی کلاس میں محوِ تعلیم تھا کہ یکایک زمین لرزنے لگی۔ وہ 1830 کی قدیم عمارت جب جھولنے لگی تو ہر طرف "لا الہ الا اللہ" کی صدائیں گونجنے لگیں۔ ہم بوکھلا کر میدان کی طرف بھاگے، جہاں خوف کا ایک ایسا سماں تھا جسے بیان کرنا ناممکن ہے۔ راولپنڈی سے رنگلہ تک کا کٹھن سفر اس دور میں رابطے کے ذرائع محدود تھے۔ موبائل فون ہر ایک کے پاس نہیں تھا، اور پی سی او سے گھر کا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ جب ٹی وی پر مارگلہ ٹاور کے گرنے کے مناظر دیکھے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ میں اپنے خاندان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین تھا، چنانچہ فوری طور پر راولپنڈی سے آزاد کشمیر کے لیے رختِ سفر باندھا۔ پنڈی سے کوہالہ تک سڑکیں ٹھیک تھیں، لیکن ...

جمہوریت، سیاسی بیانیہ اور تبدیلی کے دعوے: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی جمہوریت کا سادہ مفہوم "عوامی حاکمیت" ہے، جہاں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی کا اندازہ دو پیمانوں سے لگایا جاتا ہے: پہلا "انفراسٹرکچر" یعنی سڑکیں، پانی اور بجلی، اور دوسرا "نظریاتی و شعوری ارتقاء"۔ ترقی یافتہ ممالک میں شعوری بیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں آج بھی لوگ صرف اسی تبدیلی کو مانتے ہیں جو سڑک یا کھمبے کی صورت میں نظر آئے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور جمہوریت پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سیاسی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ ایک طویل عرصہ آمریت کی نذر ہوا اور جب جمہوری دور کا آغاز ہوا تو نادیدہ قوتوں کی مداخلت نے اسے مستحکم نہ ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے بعد 2013 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا سے "تحریکِ انصاف" ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔ اس کامیابی کے پیچھے "تبدیلی" اور "نیا پاکستان" کا وہ پرکشش نعرہ تھا جس نے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ نوجوان نسل اور میرٹ کا س...

سماجیات میں 'وجہ اور اثر' کا تعلق اور عصری معاشرتی مسائل

Image
ازقلم  اے بی فاروقی سماجیات یا معاشرتی علوم کے مطالعے میں "وجہ اور اثر" (Cause and Effect) کا تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے اس کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔  اگرچہ سماجی علوم کے نتائج خالص سائنس (جیسے کیمیا یا طبیعیات) کی طرح عالمگیر نہیں ہوتے، کیونکہ انسانی رویے ثقافت، مذہب، اور ماحول کے تابع ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ایک معتدل معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ معاشرتی تضادات اور اقدار کا تصادم ہر معاشرے کی اپنی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔ جو بات ایک تہذیب میں عام سمجھی جاتی ہے، دوسری میں وہ ناپسندیدہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی معاشرے میں خاندانی نظام اور سماجی تعلقات کے پیرائے مسلم معاشرت سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلم اقدار میں عفت و پاکدامنی اور خاندانی تقدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور ان سے انحراف معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کے محرکات: ایک لمحہ فکریہ ہمارے معاشرے میں جہاں ہمدردی اور ناداری کی معاونت جیسی اعلیٰ روایات موجود ہیں، وہیں کچھ سنگین اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ قصور جیسے اندوہناک واقعات ...