Posts

Showing posts with the label Political Analysis

ریاستِ مدینہ کا تصور اور عصری سیاست: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں "ریاستِ مدینہ" کا تصور ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک ہندو رکنِ اسمبلی رمیش کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی گئی، جس نے ایوان کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ قرارداد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ شراب ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو سراہا، لیکن اکثریت کی رائے کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ شراب کی حرمت اور اسلامی تعلیمات اسلام میں شراب کی حرمت "نصِ قطعی" سے ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز کو گناہِ کبیرہ اور تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب حرمتِ شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرامؓ نے اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک نظریاتی ریاست میں ایسے قوانین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں شعائرِ اسلام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہو۔ ریاستِ مدینہ کا دعویٰ اور عملی اقدامات موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو "ریاستِ مدینہ" کے نقشِ قدم پر چلا...

جمہوریت، سیاسی بیانیہ اور تبدیلی کے دعوے: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی جمہوریت کا سادہ مفہوم "عوامی حاکمیت" ہے، جہاں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی کا اندازہ دو پیمانوں سے لگایا جاتا ہے: پہلا "انفراسٹرکچر" یعنی سڑکیں، پانی اور بجلی، اور دوسرا "نظریاتی و شعوری ارتقاء"۔ ترقی یافتہ ممالک میں شعوری بیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں آج بھی لوگ صرف اسی تبدیلی کو مانتے ہیں جو سڑک یا کھمبے کی صورت میں نظر آئے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور جمہوریت پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سیاسی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ ایک طویل عرصہ آمریت کی نذر ہوا اور جب جمہوری دور کا آغاز ہوا تو نادیدہ قوتوں کی مداخلت نے اسے مستحکم نہ ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے بعد 2013 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا سے "تحریکِ انصاف" ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔ اس کامیابی کے پیچھے "تبدیلی" اور "نیا پاکستان" کا وہ پرکشش نعرہ تھا جس نے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ نوجوان نسل اور میرٹ کا س...

انتخابی موسم اور نظریات کا زوال: کیا '62-63' محض ایک خواب ہے؟

تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) پاکستان میں الیکشن کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی وفاداریوں کی تبدیلی کا وہ موسم بھی لوٹ آیا ہے جہاں سیاسی پرندے اپنی من پسند شاخوں کی تلاش میں اڑان بھرتے نظر آتے ہیں۔ نظریات اور افکار کے پہاڑ یکایک ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں، اور میرٹ کا خون کرنے والے اچانک شفافیت کے علمبردار بن کر ابھر رہے ہیں۔ ہر ایک کا یہی دعویٰ ہے کہ ملک و ملت کی تقدیر صرف وہی بدل سکتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا؟ انتخابات کے بعد کا منظرنامہ تاریخ گواہ ہے کہ الیکشن کے فوراً بعد "تبدیلی" کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور حکومتی فیصلوں سے مایوسی کی بو آنے لگتی ہے۔ عوام کی توجہ بانٹنے کے لیے چینی اور آٹے کی قطاریں لگائی جاتی ہیں، جہاں سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ کر کھڑا ہوتا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور "جمہوریت ڈی ریل ہونے" کے نعرے لگانا ہمارا مستقل سیاسی رواج بن چکا ہے۔ سیاست: خدمت یا منافع بخش کاروبار؟ ہمارے ملک میں سیاست دانوں کی اکثریت کے لیے سیاست عوامی خدمت کے بجائے "روزی کمانے کا ذریعہ" بن چکی ہے۔ ایک د...

عالمِ اسلام کا بحران اور جمہوریت کے دہرے معیار: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی تاریخِ انسانی کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی اصولوں کی جنگ لڑی گئی، حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ آج کے دور میں جہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کے گیت گائے جاتے ہیں، وہیں امتِ مسلمہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ان دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔ منتخب جمہوری حکومتوں کا خاتمہ، انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی طاقتوں کی معنی خیز خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ "انصاف" کے پیمانے ہر ایک کے لیے مختلف ہیں۔ اسلام اور دہشت گردی کا غلط العام تصور بدقسمتی سے آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک خاص بیانیہ (Narrative) ترتیب دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپنے معاشرے میں اسلامی اقدار کو رائج کرنا دہشت گردی ہے؟ کیا عوامی اکثریت کی رائے سے منتخب ہو کر ان کے حقوق کی بات کرنا جرم ہے؟ کیا حجاب اور حیا کی ترویج انتہا پسندی ہے؟ یا پھر عالمی فورمز پر ناموسِ رسالت ﷺ کی بات کرنا دہشت گردی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام امن اور عدل کا دین ہے، مگر جب بھی کوئی "اسلامسٹ" حکومت وجود میں آتی ہے تو دنیا بھر کے لادین عناصر اسے اپنے لیے خطرہ کیوں محسوس کرنے لگتے ہیں؟ ا...