عالمِ اسلام کا بحران اور جمہوریت کے دہرے معیار: ایک تجزیاتی مطالعہ
تحریر: اے بی فاروقی
تاریخِ انسانی کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی اصولوں کی جنگ لڑی گئی، حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ آج کے دور میں جہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کے گیت گائے جاتے ہیں، وہیں امتِ مسلمہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ان دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔ منتخب جمہوری حکومتوں کا خاتمہ، انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی طاقتوں کی معنی خیز خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ "انصاف" کے پیمانے ہر ایک کے لیے مختلف ہیں۔
اسلام اور دہشت گردی کا غلط العام تصور
بدقسمتی سے آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک خاص بیانیہ (Narrative) ترتیب دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپنے معاشرے میں اسلامی اقدار کو رائج کرنا دہشت گردی ہے؟ کیا عوامی اکثریت کی رائے سے منتخب ہو کر ان کے حقوق کی بات کرنا جرم ہے؟ کیا حجاب اور حیا کی ترویج انتہا پسندی ہے؟ یا پھر عالمی فورمز پر ناموسِ رسالت ﷺ کی بات کرنا دہشت گردی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام امن اور عدل کا دین ہے، مگر جب بھی کوئی "اسلامسٹ" حکومت وجود میں آتی ہے تو دنیا بھر کے لادین عناصر اسے اپنے لیے خطرہ کیوں محسوس کرنے لگتے ہیں؟
اسلامی نظام اور سیکولر طاقتوں کا خوف
اسلام سے سیکولر طاقتوں کو ہمیشہ اس لیے خطرہ رہا ہے کیونکہ اسلام معاشرے میں اخلاقی حدود قائم کرتا ہے۔ اسلام شراب نوشی، بدکاری اور ظلم و غارت گری کے خلاف ایک مضبوط دیوار ہے۔ یہ عورت کو "بچے جننے والی مشین" نہیں سمجھتا، بلکہ اسے ماں کے روپ میں وہ مقام دیتا ہے کہ جنت اس کے قدموں تلے آ جاتی ہے۔ بیٹی کی بہترین تربیت پر جنت کی خوشخبری دیتا ہے اور بہن کی شکل میں اسے عزت کا نشان بناتا ہے۔ یہی وہ نظامِ عدل ہے جو ان قوتوں کو ہضم نہیں ہوتا جو انسانیت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہتی ہیں۔
مصر کا سانحہ: جمہوریت کی شکست
مصر میں رونما ہونے والا سانحہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر آئی اور جس کی سربراہی اعلیٰ تعلیم یافتہ (PhDs) افراد کر رہے تھے، اسے محض اس لیے کچل دیا گیا کہ وہ آئین میں اسلامی شقیں شامل کرنا چاہتے تھے۔ یہ عالمی برادری کے لیے ایک پیغام تھا کہ اگر مسلمان جمہوری انداز میں بھی اقتدار میں آئیں گے، تو انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس ظلم پر عالمی صیہونی طاقتوں اور نام نہاد این جی اوز کی خاموشی ایک بڑا المیہ ہے۔
امتِ مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ
سامراجی طاقتوں کی انہی زیادتیوں اور ناانصافیوں نے انتہا پسندی کو جنم دیا ہے۔ آج عالمِ اسلام میں "کرائے کے ٹٹو" حکمران اپنی حمیت ایمانی کو چند ڈالروں کے عوض بیچ چکے ہیں۔ ان حالات میں تمام مسلمانوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ فروعی اختلافات چھوڑ کر متحد ہو جائیں۔ مولانا الطاف حسین حالی نے شاید ایسے ہی حالات کے لیے کہا تھا
اے خاصہ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

Comments