Posts

Showing posts with the label Social Issues

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

Image
عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ تحریر: عبدالباسط فاروقی 🌿 عورت کا مفہوم اور اسلامی تصور عورت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا تعلق ستر اور پردہ سے ہے۔ فقہی اصطلاح میں مرد اور عورت دونوں کے لیے ستر کے احکام متعین کیے گئے ہیں تاکہ معاشرے میں حیا اور پاکیزگی برقرار رہے۔ اسلام نے عورت کو ایک باوقار مقام عطا کیا ہے، جہاں اس کی عزت، حفاظت اور حقوق کو مکمل اہمیت دی گئی ہے۔ 🌍 تاریخی تناظر: دو انتہائیں اسلام سے پہلے مختلف معاشروں میں عورت کے ساتھ دو طرح کے رویے دیکھنے میں آئے۔ ایک طرف ایسے معاشرے تھے جہاں عورت کو مکمل آزادی کے نام پر بے وقعت کر دیا گیا، جبکہ دوسری طرف ایسے معاشرے بھی تھے جہاں اس پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اسلام نے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا۔ ⚖️ اسلام کا معتدل راستہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو جوڑے کی صورت میں پیدا فرمایا۔ یہی فطری نظام ہے جس کے تحت زندگی کا تسلسل قائم رہتا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی بیوی کے حقوق شوہر پر لازم قرار دیے گئے بہن کی عزت و حفاظت کو اہمیت دی گئی بیٹی کی بہترین تربیت کو جنت...

فحاشی و عریانی کا معاشرتی اثر اور اسلامی تعلیمات

Image
✍️ از قلم: اے بی فاروقی تمہید اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی پاکیزگی پر زور دیتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثرات نے معاشرے میں اخلاقی اقدار کو متاثر کیا ہے، جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں حیاء کی اہمیت قرآن مجید میں مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہوں کی حفاظت اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۃ النور میں فحاشی و بے حیائی کو پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جب حیاء ختم ہو جائے تو انسان جو چاہے کرے” (مفہوم حدیث) یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حیاء ایمان کی بنیاد ہے۔ معاشرتی میڈیا اور اخلاقی چیلنجز آج کے دور میں اشتہارات، ڈرامے اور سوشل میڈیا مواد میں اکثر ایسے مناظر شامل ہوتے ہیں جو معاشرتی اقدار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نوجوان نسل کے ذہن اور کردار پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ غضِ بصر (نگاہوں کی حفاظت) کی اہمیت اسلام میں غیر محرم سے نگاہیں بچانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ دل و دماغ پاکیزہ رہیں۔ علماء کے مطابق مسلسل غیر مناسب مناظر کا سامن...

سماجی انصاف کی فراہمی: زینب کیس کا تاریخی فیصلہ اور معاشرتی ذمہ داری

Image
تحریر: اے بی فاروقی معاشرے کی بقا کا دارومدار انصاف کی فوری فراہمی پر ہوتا ہے۔ قصور کے المناک واقعے نے جہاں پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہیں مجرم کو اس کے کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عمل نے نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کوٹ لکھپت جیل میں مجرم کی سزا پر عملدرآمد محض ایک قانونی کارروائی نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ایک عبرت ناک مثال ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کا متحرک کردار اس پورے کیس میں پاکستانی میڈیا (مطبوعہ و برقی) کا کردار انتہائی قابلِ تحسین رہا۔ میڈیا نے تعصبات سے بالاتر ہو کر اس مسئلے کو اٹھایا اور اس وقت تک پیروی جاری رکھی جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو گئے۔ اسی طرح کراچی سے خیبر تک سول سوسائٹی کا بھرپور احتجاج اور غم و غصے کا اظہار اس بات کی علامت تھا کہ ہمارا معاشرہ ایسے قبیح افعال کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عوام کے اس دباؤ نے نہ صرف تحقیقاتی اداروں کو متحرک رکھا بلکہ سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں کو بھی اس پر فوری کارروائی کرنے پر مجبور کیا۔ عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عوامی اطمینان جب تک یہ کیس عدالت میں زیرِ سماعت رہا، عوام...

ریاستِ مدینہ کا تصور اور عصری سیاست: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں "ریاستِ مدینہ" کا تصور ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک ہندو رکنِ اسمبلی رمیش کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی گئی، جس نے ایوان کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ قرارداد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ شراب ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو سراہا، لیکن اکثریت کی رائے کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ شراب کی حرمت اور اسلامی تعلیمات اسلام میں شراب کی حرمت "نصِ قطعی" سے ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز کو گناہِ کبیرہ اور تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب حرمتِ شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرامؓ نے اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک نظریاتی ریاست میں ایسے قوانین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں شعائرِ اسلام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہو۔ ریاستِ مدینہ کا دعویٰ اور عملی اقدامات موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو "ریاستِ مدینہ" کے نقشِ قدم پر چلا...

انسانیت کا تحفظ اور اسلام کا پیغامِ امن: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی امن و امان کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں شدت پسندی کے جو واقعات رونما ہوئے، ان کا نشانہ معصوم انسانیت بنی۔ اسلام، جو کہ امن کا داعی دین ہے، کسی بھی بے گناہ  کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور حقِ زندگی قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: "جس نے کسی انسان کو (ناحق) قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا" (سورۃ المائدہ: 32)۔ اس نصِ قطعی سے ثابت ہوتا ہے کہ معصوم شہریوں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے کرنا صریحاً اسلامی اصولوں کی نفی اور فساد فی الارض ہے۔ اسلامی قوانین کے مطابق، کسی کو انفرادی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے۔ یہاں تک کہ جنگ کی حالت میں بھی اسلام نے بچوں، بوڑھوں، خواتین، اور حتیٰ کہ درختوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ شدت پسندی کے پیچھے چھپے محرکات علمائے کرام نے متفقہ طور پر انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کیا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان کو جس جانی و مالی نقصان کا...

سماجیات میں 'وجہ اور اثر' کا تعلق اور عصری معاشرتی مسائل

Image
ازقلم  اے بی فاروقی سماجیات یا معاشرتی علوم کے مطالعے میں "وجہ اور اثر" (Cause and Effect) کا تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے اس کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔  اگرچہ سماجی علوم کے نتائج خالص سائنس (جیسے کیمیا یا طبیعیات) کی طرح عالمگیر نہیں ہوتے، کیونکہ انسانی رویے ثقافت، مذہب، اور ماحول کے تابع ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ایک معتدل معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ معاشرتی تضادات اور اقدار کا تصادم ہر معاشرے کی اپنی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔ جو بات ایک تہذیب میں عام سمجھی جاتی ہے، دوسری میں وہ ناپسندیدہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی معاشرے میں خاندانی نظام اور سماجی تعلقات کے پیرائے مسلم معاشرت سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلم اقدار میں عفت و پاکدامنی اور خاندانی تقدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور ان سے انحراف معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کے محرکات: ایک لمحہ فکریہ ہمارے معاشرے میں جہاں ہمدردی اور ناداری کی معاونت جیسی اعلیٰ روایات موجود ہیں، وہیں کچھ سنگین اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ قصور جیسے اندوہناک واقعات ...

ثقافتی یلغار اور ہماری قومی پہچان: ایک لمحہ فکریہ

تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی ثقافت، زبان اور اقدار کی حفاظت کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہماری معاشرتی زندگی پر غیروں کے کلچر کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوآنہ رسوم و رواج سے لے کر مغربی طرزِ زندگی تک، ہم نے اپنی اسلامی اور مشرقی پہچان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ معاشرتی بگاڑ اور خاندانی اقدار کا زوال ہمارے معاشرے میں ذات پات کا نظام اور شادی بیاہ کی فضول رسومات اسلامی طرزِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ وہ حیا اور سادگی جو ہماری پہچان تھی، اب دکھاوے اور اسراف کی نذر ہو چکی ہے۔ نام نہاد جدت پسندی کے نام پر ڈھیلے ڈھالے اور باحیا لباس کو "دقیانوسی" قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بوائے فرینڈ کلچر اور آزادانہ میل جول کو فروغ مل رہا ہے۔ اس میں رہی سہی کسر موبائل فون کے غلط استعمال اور میڈیا کی یلغار نے پوری کر دی ہے۔ تعلیمی نظام اور فکری جمود ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ایک صالح قیادت پیدا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ نصاب میں شامل بعض مواد ہماری نسلوں کو اپنی تاریخ اور ہیروز سے دور کر رہا ہے۔ جہاں محمد ب...