ریاستِ مدینہ کا تصور اور عصری سیاست: ایک تجزیاتی مطالعہ


تحریر: اے بی فاروقی
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں "ریاستِ مدینہ" کا تصور ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک ہندو رکنِ اسمبلی رمیش کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی گئی، جس نے ایوان کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔
قرارداد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ شراب ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو سراہا، لیکن اکثریت کی رائے کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔
شراب کی حرمت اور اسلامی تعلیمات
اسلام میں شراب کی حرمت "نصِ قطعی" سے ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز کو گناہِ کبیرہ اور تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب حرمتِ شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرامؓ نے اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک نظریاتی ریاست میں ایسے قوانین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں شعائرِ اسلام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہو۔
ریاستِ مدینہ کا دعویٰ اور عملی اقدامات
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو "ریاستِ مدینہ" کے نقشِ قدم پر چلانے کا عزم ظاہر کیا۔ 100 روزہ پلان سے لے کر وی آئی پی پروٹوکول کے خاتمے تک، کئی بلند بانگ دعوے کیے گئے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پالیسیوں میں تضاد بھی دیکھنے کو ملا:
معاشی پالیسی: آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کے اعلانات کے باوجود مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے عالمی اداروں کا رخ کرنا پڑا۔
سادگی مہم: سرکاری گاڑیوں کی نیلامی ایک مثبت قدم تھا، مگر متبادل سفری ذرائع کے اخراجات پر عوامی سطح پر بحث چھڑ گئی۔
امن و امان: ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے دعووں کے درمیان افسوسناک واقعات اور امن و امان کی صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا۔
تجاوزات اور غریب طبقے کے مسائل
"ریاستِ مدینہ" میں کمزور طبقے کا تحفظ اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ایک طرف فٹ پاتھ پر بسنے والوں کے لیے پناہ گاہوں کا قیام خوش آئند ہے، تو دوسری طرف تجاوزات کے نام پر غریبوں کے آشیانے گرانے کی پالیسی نے عوامی حلقوں میں بے چینی پیدا کی۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قانون کا اطلاق امیر اور غریب دونوں پر برابر ہو۔
سیاسی بیانیہ بمقابلہ تلخ حقائق
افسوسناک امر یہ ہے کہ جب ایوان میں نظریاتی پابندیوں کی بات ہوتی ہے، تو ذمہ داران کی جانب سے اسے "سستی شہرت" کا ذریعہ قرار دے کر ٹال دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اس نظریے کے برعکس ہے جس کی بنیاد پر یہ مملکت حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان کا قیام اس لیے عمل میں آیا تھا کہ یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق قانون سازی ہوگی اور سودی معیشت و معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہوگا۔
حرفِ آخر
کیا ہم واقعی اس ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا خواب دکھایا گیا تھا؟ سودی معیشت، اقرباء پروری اور نظریاتی ابہام آج بھی ہمارے نظام کا حصہ ہیں۔ عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا محض نعروں سے تبدیلی ممکن ہے یا اس کے لیے حقیقی معنوں میں سیرتِ طیبہ ﷺ کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ