سورۃ البقرہ آیات ۱۱۳ تا ۱۲۱ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کا باہمی تعصب انہیں حق قبول کرنے سے روکتا ہے، اور وہ…
فہرستِ مضامین
سیاق و سباق / ربطِ آیات
گزشتہ رکوعات میں یہودِ مدینہ کے رویے، ان کے علمی تضادات اور حق چھپانے کی عادات کا تفصیل سے ذکر ہوا تھا۔ اس رکوع میں اسی بحث کو آگے بڑھایا گیا ہے اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے باہمی تعصب، مساجد کی بے حرمتی، اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کے غلط نظریات اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے مستقل دشمنانہ رویے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ وہ مخالفین کی خوشنودی کی پروا کیے بغیر اللہ کے سچے دین پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اس رکوع کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ حق ایک ہی ہے اور وہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا دینِ اسلام ہے، لہٰذا کسی دوسری قوم کی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے صرف وحیِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔ (یہ مضمون اگلے رکوع میں بھی جاری رہے گا)۔
آیات کا متن اور ترجمہ
وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ لَيۡسَتِ النَّصٰرٰي عَلٰي شَيۡءٍص وَّقَالَتِ النَّصٰرٰي لَيۡسَتِ الۡيَهُوۡدُ عَلٰي شَيۡءٍۙ وَّهُمۡ يَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡۚ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
ترجمہ: اور یہود تو کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں کسی راہ پر اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں کسی راہ پر باوجودیکہ وہ سب پڑھتے ہیں کتاب [۱] اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں ان ہی کی سی بات اب اللہ حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے [۲]
وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنۡ يُّذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ وَسَعٰي فِيۡ خَرَابِهَاؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمۡ اَنۡ يَّدۡخُلُوۡهَآ اِلَّا خَآئِفِيۡنَ ۵ؕ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴿۱۱۴﴾
ترجمہ: اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیا جاوے وہاں نام اس کا اور کوشش کی ان کے اجاڑنے میں [۳] ایسوں کو لائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے [۴] ان کے لئے دنیا میں ذلت ہے [۵] اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے
وَلِلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُق فَاَيۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡهُ اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
ترجمہ: اور اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ [۶] بیشک اللہ بے انتہا بخشش کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے [۷]
وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۙ سُبۡحٰنَهٗؕ بَلۡ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
ترجمہ: اور کہتے ہیں کہ اللہ رکھتا ہے اولاد وہ تو سب باتوں سے پاک ہے بلکہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سب اسی کے تابعدار ہیں
بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ وَاِذَا قَضٰٓي اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾
ترجمہ: نیا پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کا اور جب حکم کرتا ہے کسی کام کو تو یہی فرماتا ہے اس کو کہ ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے [۸]
وَقَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَآ اٰيَةٌؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡؕ تَشَابَهَتۡ قُلُوۡبُهُمۡؕ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
ترجمہ: اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی آیت [۹] اسی طرح کہ چکے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے انہی کی سی بات ایک سے ہیں دل ان کے بیشک ہم نے بیان کر دیں نشانیاں ان لوگوں کے واسطے جو یقین لاتے ہیں [۱۰]
اِنَّآ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًاۙ وَّلَا تُسۡـَٔلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِيۡمِ ﴿۱۱۹﴾
ترجمہ: بیشک ہم نے تجھ کو بھیجا ہے سچا دین دیکر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی [۱۱]
وَلَنۡ تَرۡضٰي عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰي حَتّٰي تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡؕ قُلۡ اِنَّ هُدَي اللّٰهِ هُوَ الۡهُدٰيؕ وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِيۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍؔ ﴿۱۲۰﴾
ترجمہ: اور ہر گرز راضی نہ ہوں گے تجھ سے یہود او ر نصاریٰ جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا [۱۲] تو کہدے جو راہ اللہ بتلاوے وہی راہ سیدھی ہے اور اگر بالفرض تو تابعداری کرے ان کی خواہشوں کی بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنے والا اور نہ مددگار
اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ اُولٰٓئِكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَع ﴿۱۲۱﴾
ترجمہ: وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب وہ اس کو پڑھتے ہیں جو حق ہے اس کے پڑھنے کا وہی اس پر یقین لاتے ہیں اور جو کوئی منکر ہو گا اس سے تو وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں [۱۳]
حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 113–121 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
تفسیری حواشی
[۱] نصاریٰ نہیں کسی راہ پر: یہود اور نصاریٰ دونوں حق بات سے دور ہیں اور صرف اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ یہود کہتے ہیں کہ عیسائیوں کا دین کسی شمار میں نہیں، اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی کسی راہ پر نہیں؛ حالانکہ دونوں ہی آسمانی کتابوں (توریت اور انجیل) کے ماننے والے ہیں۔
[۲] اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں: جس طرح اہل کتاب اپنے تعصب کی وجہ سے ایک دوسرے کو حق سے خارج سمجھتے ہیں، بالکل اسی طرح وہ لوگ بھی جو کسی آسمانی کتاب کا علم نہیں رکھتے (مثلاً مشرکینِ عرب)، یہی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا دین کوئی دین نہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سب کے درمیان ان کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ فرمائے گا۔
[۳] منع کیا اللہ کی مسجدوں میں: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عیسائیوں نے بیت المقدس پر حملہ کر کے توریت کو جلایا اور اسے خراب کیا، یا مشرکینِ عرب نے مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے موقع پر مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) میں داخل ہونے سے روکا۔ عام اصول یہ ہے کہ جو بھی شخص کسی مسجد کو ویران کرے یا وہاں اللہ کا نام لینے سے روکے، وہ اس سخت عذاب کا مستحق ہے۔
[۴] مگر ڈرتے ہوئے: ان ظالموں کا اصل مقام یہ تھا کہ وہ مساجد میں عاجزی، خوفِ خدا اور ادب کے ساتھ داخل ہوتے، لیکن انہوں نے وہاں بے حرمتی کی۔ دنیا میں ان کے لیے ذلت اور رسوائی مقدر کی گئی ہے، اور بالآخر مکہ اور ملکِ شام کے علاقے مسلمانوں کو فتح ہو گئے جہاں یہ کفار مغلوب اور ذلیل ہوئے۔
[۵] دنیا میں ذلت ہے: دنیا میں ان کفار پر یہ ذلت یوں نازل ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوئے، قید ہوئے اور اسلامی حکومت کے سامنے ٹیکس (جزیہ) دینے والے بن گئے۔
[۶] وہاں ہی متوجہ ہے اللہ: یہود اور نصاریٰ کا ہمیشہ یہ جھگڑا رہا ہے کہ ہر ایک اپنے قبلہ کو بہتر بتاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ وہ کسی خاص سمت یا مکان میں قید نہیں ہے، بلکہ مشرق و مغرب سب اسی کے ہیں۔ انسان جس طرف بھی اللہ کے حکم سے منہ کرے (مثلاً سفر میں سواری پر نفل پڑھتے وقت یا قبلہ کی سمت کا تعین نہ ہونے کی صورت میں)، اللہ کی رحمت اور توجہ وہیں ہوتی ہے اور وہ عبادت قبول کرتا ہے۔
[۷] سب کچھ جاننے والا ہے: اللہ کی رحمت اور اس کا فضل کسی ایک جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس کی وسعت تمام کائنات کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ اپنے بندوں کی نیتوں، اعمال اور ان کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے کہ کس کے لیے کیا چیز فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ، اور اسی حساب سے فیصلے فرماتا ہے۔
[۸] پس وہ ہو جاتا ہے: مشرکوں اور اہل کتاب کے اعتراضات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شان بیان فرمائی کہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے اور کسی چیز کا محتاج نہیں۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے کسی آلے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف حکم دیتا ہے «كُن» (ہو جا) اور وہ چیز فوراً وجود میں آ جاتی ہے۔
[۹] کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ: جاہل لوگ ہمیشہ سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہِ راست کلام کیوں نہیں کرتا، یا کوئی کھلی نشانی کیوں نہیں دکھاتا جس سے ہم تصدیق کر سکیں۔ قرآن کہتا ہے کہ پچھلی امتوں کے لوگوں نے بھی اپنے نبیوں سے بالکل یہی باتیں کی تھیں، کیونکہ سب کے دلوں کا انداز ایک جیسا ہے۔ جو لوگ حق ماننا چاہتے ہیں، ان کے لیے اللہ نے اتنی نشانیاں ظاہر کر دی ہیں جو یقین لانے کے لیے کافی ہیں۔
[۱۰] نشانیاں بیان کر दें: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے سچے نبی کی صداقت کے لیے دلائل اور نشانیاں واضح کر دی ہیں، لیکن جو لوگ ضد اور دشمنی پر اڑے رہیں، وہ صرف انکار ہی کریں گے۔
[۱۱] تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی: اے نبی ﷺ! آپ کو صرف حق پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، خوشخبری سنانا اور ڈرانا آپ کا کام ہے۔ اگر کوئی بدبخت اپنی ضد کی وجہ سے جہنم کا مستحق بنتا ہے تو اس بارے میں آپ سے بازپرس نہیں کی جائے گی کہ وہ ایمان کیوں نہیں لایا۔
[۱۲] جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا: یہود اور نصاریٰ کبھی بھی آپ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب اور طریقوں کو نہ اپنا لیں۔ صاف کہہ دیجیے کہ اصل ہدایت وہی ہے جو اللہ نے بتائی ہے۔ اگر بالفرض آپ کو حق کا علم پہنچ جانے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے کی اجازت دی جائے (جو کہ ناممکن ہے)، تو اللہ کے عذاب سے آپ کو بچانے والا کوئی حامی یا مددگار نہیں ہوگا۔
[۱۳] حق ہے اسکے پڑھنے کا: اہل کتاب میں کچھ منصف مزاج لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنی کتاب توریت کو حق کے ساتھ پڑھا اور سمجھا، اور جب قرآن آیا تو وہ اس پر ایمان لے آئے (جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی)۔ انہوں نے کتاب کا حق ادا کیا۔ اور جو لوگ اس سے انکار کرتے ہیں اور کتاب میں تحریف کرتے ہیں، وہی اصل نقصان اٹھانے والے ہیں۔
اہم الفاظ و مفاہیم
- بَدِيعُ: مادہ (ب د ع). نیا پیدا کرنے والا، بغیر کسی سابقہ نمونے کے کائنات کو عدم سے وجود میں لانے والا۔
- قَانِتُونَ: مادہ (ق ن ت). پوری طرح فرمانبردار اور تابعدار لوگ۔
- مِلَّتَهُمْ: دین، طریقہ اور وہ راستہ جس پر کوئی گروہ چل رہا ہو۔
- يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ: کتاب کو اس کے اصل حق کے ساتھ پڑھنا؛ یعنی الفاظ کی درست ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس کے معنی کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا۔
تدبر و عملی رہنمائی
- حق کی پیروی میں مداہرت نہیں: انسان کو اپنی زندگی میں حق کا راستہ مل جائے تو پھر اسے چھوڑ کر دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یہود و نصاریٰ کی مثال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب تک آپ ان کے طریقے پر نہ چلیں، وہ آپ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے۔ اس لیے ہمارا قبلہ اور مقصد صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے۔
- قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق: قرآن کریم کی تلاوت کا حق صرف یہ نہیں کہ اسے زبان سے پڑھ لیا جائے، بلکہ اس کا حقیقی حق یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے، اس کے احکام پر غور کیا جائے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالا جائے۔
خلاصۂ تفسیر
اس رکوع میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کا باہمی تعصب انہیں حق قبول کرنے سے روکتا ہے، اور وہ اپنے اس ہٹ دھرم رویے کی وجہ سے مسلمانوں سے بھی کبھی خوش نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ ہدایت صرف وہی ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے، اس لیے کسی دوسری قوم کی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے صرف اللہ کے احکام پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔ جو لوگ کتابِ الٰہی کو پڑھ کر اس کا حق ادا کرتے ہیں، وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے والے ہیں۔
ماخذ و حوالہ جات
- تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)
- تفسیر ابنِ کثیر (حافظ ابنِ کثیرؒ)
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
