نوائے فاروقی

نوائے فاروقی

علم، حقیقت اور آگاہی، قرآن و سنت کی روشنی میں

قرآنِ کریم کی تلاوت اور اردو ترجمہ، تدبرِ قرآن، احادیثِ نبوی ﷺ (اربعین نووی اور ریاض الصالحین) اور مستند تاریخِ اسلام: عربی متن، آسان اردو ترجمہ اور مختصر تشریح کے ساتھ۔

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۱۱۳ تا ۱۲۱

سورۃ البقرہ آیات ۱۱۳ تا ۱۲۱ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کا باہمی تعصب انہیں حق قبول کرنے سے روکتا ہے، اور وہ…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. اہم الفاظ و مفاہیم
  5. تدبر و عملی رہنمائی
  6. خلاصۂ تفسیر
  7. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

گزشتہ رکوعات میں یہودِ مدینہ کے رویے، ان کے علمی تضادات اور حق چھپانے کی عادات کا تفصیل سے ذکر ہوا تھا۔ اس رکوع میں اسی بحث کو آگے بڑھایا گیا ہے اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے باہمی تعصب، مساجد کی بے حرمتی، اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کے غلط نظریات اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے مستقل دشمنانہ رویے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ وہ مخالفین کی خوشنودی کی پروا کیے بغیر اللہ کے سچے دین پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اس رکوع کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ حق ایک ہی ہے اور وہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا دینِ اسلام ہے، لہٰذا کسی دوسری قوم کی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے صرف وحیِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔ (یہ مضمون اگلے رکوع میں بھی جاری رہے گا)۔

آیات کا متن اور ترجمہ

وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ لَيۡسَتِ النَّصٰرٰي عَلٰي شَيۡءٍ‌ص‌ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰي لَيۡسَتِ الۡيَهُوۡدُ عَلٰي شَيۡءٍۙ وَّهُمۡ يَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡۚ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

ترجمہ: اور یہود تو کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں کسی راہ پر اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں کسی راہ پر باوجودیکہ وہ سب پڑھتے ہیں کتاب [۱] اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں ان ہی کی سی بات اب اللہ حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے [۲]

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنۡ يُّذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ وَسَعٰي فِيۡ خَرَابِهَاؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمۡ اَنۡ يَّدۡخُلُوۡهَآ اِلَّا خَآئِفِيۡنَ ‌۵‌ؕ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴿۱۱۴﴾

ترجمہ: اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیا جاوے وہاں نام اس کا اور کوشش کی ان کے اجاڑنے میں [۳] ایسوں کو لائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے [۴] ان کے لئے دنیا میں ذلت ہے [۵] اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے

وَلِلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ‌ق‌ فَاَيۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡهُ اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ﴿۱۱۵﴾

ترجمہ: اور اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ [۶] بیشک اللہ بے انتہا بخشش کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے [۷]

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۙ سُبۡحٰنَهٗؕ بَلۡ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾

ترجمہ: اور کہتے ہیں کہ اللہ رکھتا ہے اولاد وہ تو سب باتوں سے پاک ہے بلکہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سب اسی کے تابعدار ہیں

بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ وَاِذَا قَضٰٓي اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾

ترجمہ: نیا پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کا اور جب حکم کرتا ہے کسی کام کو تو یہی فرماتا ہے اس کو کہ ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے [۸]

وَقَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَآ اٰيَةٌؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡؕ تَشَابَهَتۡ قُلُوۡبُهُمۡؕ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾

ترجمہ: اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی آیت [۹] اسی طرح کہ چکے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے انہی کی سی بات ایک سے ہیں دل ان کے بیشک ہم نے بیان کر دیں نشانیاں ان لوگوں کے واسطے جو یقین لاتے ہیں [۱۰]

اِنَّآ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًاۙ وَّلَا تُسۡـَٔلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِيۡمِ ﴿۱۱۹﴾

ترجمہ: بیشک ہم نے تجھ کو بھیجا ہے سچا دین دیکر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی [۱۱]

وَلَنۡ تَرۡضٰي عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰي حَتّٰي تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡؕ قُلۡ اِنَّ هُدَي اللّٰهِ هُوَ الۡهُدٰيؕ وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِيۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍؔ ﴿۱۲۰﴾

ترجمہ: اور ہر گرز راضی نہ ہوں گے تجھ سے یہود او ر نصاریٰ جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا [۱۲] تو کہدے جو راہ اللہ بتلاوے وہی راہ سیدھی ہے اور اگر بالفرض تو تابعداری کرے ان کی خواہشوں کی بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنے والا اور نہ مددگار

اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ اُولٰٓئِكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‌ع‌ ﴿۱۲۱﴾

ترجمہ: وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب وہ اس کو پڑھتے ہیں جو حق ہے اس کے پڑھنے کا وہی اس پر یقین لاتے ہیں اور جو کوئی منکر ہو گا اس سے تو وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں [۱۳]

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 113–121 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] نصاریٰ نہیں کسی راہ پر: یہود اور نصاریٰ دونوں حق بات سے دور ہیں اور صرف اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ یہود کہتے ہیں کہ عیسائیوں کا دین کسی شمار میں نہیں، اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی کسی راہ پر نہیں؛ حالانکہ دونوں ہی آسمانی کتابوں (توریت اور انجیل) کے ماننے والے ہیں۔

[۲] اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں: جس طرح اہل کتاب اپنے تعصب کی وجہ سے ایک دوسرے کو حق سے خارج سمجھتے ہیں، بالکل اسی طرح وہ لوگ بھی جو کسی آسمانی کتاب کا علم نہیں رکھتے (مثلاً مشرکینِ عرب)، یہی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا دین کوئی دین نہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سب کے درمیان ان کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ فرمائے گا۔

[۳] منع کیا اللہ کی مسجدوں میں: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عیسائیوں نے بیت المقدس پر حملہ کر کے توریت کو جلایا اور اسے خراب کیا، یا مشرکینِ عرب نے مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کے موقع پر مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) میں داخل ہونے سے روکا۔ عام اصول یہ ہے کہ جو بھی شخص کسی مسجد کو ویران کرے یا وہاں اللہ کا نام لینے سے روکے، وہ اس سخت عذاب کا مستحق ہے۔

[۴] مگر ڈرتے ہوئے: ان ظالموں کا اصل مقام یہ تھا کہ وہ مساجد میں عاجزی، خوفِ خدا اور ادب کے ساتھ داخل ہوتے، لیکن انہوں نے وہاں بے حرمتی کی۔ دنیا میں ان کے لیے ذلت اور رسوائی مقدر کی گئی ہے، اور بالآخر مکہ اور ملکِ شام کے علاقے مسلمانوں کو فتح ہو گئے جہاں یہ کفار مغلوب اور ذلیل ہوئے۔

[۵] دنیا میں ذلت ہے: دنیا میں ان کفار پر یہ ذلت یوں نازل ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوئے، قید ہوئے اور اسلامی حکومت کے سامنے ٹیکس (جزیہ) دینے والے بن گئے۔

[۶] وہاں ہی متوجہ ہے اللہ: یہود اور نصاریٰ کا ہمیشہ یہ جھگڑا رہا ہے کہ ہر ایک اپنے قبلہ کو بہتر بتاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ وہ کسی خاص سمت یا مکان میں قید نہیں ہے، بلکہ مشرق و مغرب سب اسی کے ہیں۔ انسان جس طرف بھی اللہ کے حکم سے منہ کرے (مثلاً سفر میں سواری پر نفل پڑھتے وقت یا قبلہ کی سمت کا تعین نہ ہونے کی صورت میں)، اللہ کی رحمت اور توجہ وہیں ہوتی ہے اور وہ عبادت قبول کرتا ہے۔

[۷] سب کچھ جاننے والا ہے: اللہ کی رحمت اور اس کا فضل کسی ایک جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس کی وسعت تمام کائنات کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ اپنے بندوں کی نیتوں، اعمال اور ان کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے کہ کس کے لیے کیا چیز فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ، اور اسی حساب سے فیصلے فرماتا ہے۔

[۸] پس وہ ہو جاتا ہے: مشرکوں اور اہل کتاب کے اعتراضات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شان بیان فرمائی کہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے اور کسی چیز کا محتاج نہیں۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے کسی آلے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف حکم دیتا ہے «كُن» (ہو جا) اور وہ چیز فوراً وجود میں آ جاتی ہے۔

[۹] کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ: جاہل لوگ ہمیشہ سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہِ راست کلام کیوں نہیں کرتا، یا کوئی کھلی نشانی کیوں نہیں دکھاتا جس سے ہم تصدیق کر سکیں۔ قرآن کہتا ہے کہ پچھلی امتوں کے لوگوں نے بھی اپنے نبیوں سے بالکل یہی باتیں کی تھیں، کیونکہ سب کے دلوں کا انداز ایک جیسا ہے۔ جو لوگ حق ماننا چاہتے ہیں، ان کے لیے اللہ نے اتنی نشانیاں ظاہر کر دی ہیں جو یقین لانے کے لیے کافی ہیں۔

[۱۰] نشانیاں بیان کر दें: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے سچے نبی کی صداقت کے لیے دلائل اور نشانیاں واضح کر دی ہیں، لیکن جو لوگ ضد اور دشمنی پر اڑے رہیں، وہ صرف انکار ہی کریں گے۔

[۱۱] تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی: اے نبی ﷺ! آپ کو صرف حق پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، خوشخبری سنانا اور ڈرانا آپ کا کام ہے۔ اگر کوئی بدبخت اپنی ضد کی وجہ سے جہنم کا مستحق بنتا ہے تو اس بارے میں آپ سے بازپرس نہیں کی جائے گی کہ وہ ایمان کیوں نہیں لایا۔

[۱۲] جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا: یہود اور نصاریٰ کبھی بھی آپ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب اور طریقوں کو نہ اپنا لیں۔ صاف کہہ دیجیے کہ اصل ہدایت وہی ہے جو اللہ نے بتائی ہے۔ اگر بالفرض آپ کو حق کا علم پہنچ جانے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے کی اجازت دی جائے (جو کہ ناممکن ہے)، تو اللہ کے عذاب سے آپ کو بچانے والا کوئی حامی یا مددگار نہیں ہوگا۔

[۱۳] حق ہے اسکے پڑھنے کا: اہل کتاب میں کچھ منصف مزاج لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنی کتاب توریت کو حق کے ساتھ پڑھا اور سمجھا، اور جب قرآن آیا تو وہ اس پر ایمان لے آئے (جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی)۔ انہوں نے کتاب کا حق ادا کیا۔ اور جو لوگ اس سے انکار کرتے ہیں اور کتاب میں تحریف کرتے ہیں، وہی اصل نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اہم الفاظ و مفاہیم

  • بَدِيعُ: مادہ (ب د ع). نیا پیدا کرنے والا، بغیر کسی سابقہ نمونے کے کائنات کو عدم سے وجود میں لانے والا۔
  • قَانِتُونَ: مادہ (ق ن ت). پوری طرح فرمانبردار اور تابعدار لوگ۔
  • مِلَّتَهُمْ: دین، طریقہ اور وہ راستہ جس پر کوئی گروہ چل رہا ہو۔
  • يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ: کتاب کو اس کے اصل حق کے ساتھ پڑھنا؛ یعنی الفاظ کی درست ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس کے معنی کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا۔

تدبر و عملی رہنمائی

  • حق کی پیروی میں مداہرت نہیں: انسان کو اپنی زندگی میں حق کا راستہ مل جائے تو پھر اسے چھوڑ کر دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یہود و نصاریٰ کی مثال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب تک آپ ان کے طریقے پر نہ چلیں، وہ آپ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے۔ اس لیے ہمارا قبلہ اور مقصد صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے۔
  • قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق: قرآن کریم کی تلاوت کا حق صرف یہ نہیں کہ اسے زبان سے پڑھ لیا جائے، بلکہ اس کا حقیقی حق یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے، اس کے احکام پر غور کیا جائے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالا جائے۔

خلاصۂ تفسیر

اس رکوع میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کا باہمی تعصب انہیں حق قبول کرنے سے روکتا ہے، اور وہ اپنے اس ہٹ دھرم رویے کی وجہ سے مسلمانوں سے بھی کبھی خوش نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ ہدایت صرف وہی ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے، اس لیے کسی دوسری قوم کی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے صرف اللہ کے احکام پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔ جو لوگ کتابِ الٰہی کو پڑھ کر اس کا حق ادا کرتے ہیں، وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے والے ہیں۔

ماخذ و حوالہ جات

  • تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)
  • تفسیر ابنِ کثیر (حافظ ابنِ کثیرؒ)
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۱۰۴ تا ۱۱۲

سورۃ البقرہ آیات ۱۰۴ تا ۱۱۲ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس قسط میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ یہودی اور دیگر مخالفین اسلام اور…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. اہم الفاظ و مفاہیم
  5. تدبر و عملی رہنمائی
  6. خلاصۂ تفسیر
  7. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

پچھلے رکوع میں مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب کی چالوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے اس رکوع میں بتایا جا رہا ہے کہ یہود اور مشرکین کس طرح اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے ہیں اور قرآن کے احکام پر اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ اس رکوع کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ اہل کتاب کی سازشوں سے متاثر ہونے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے اور ان کے بے بنیاد اعتراضات کی پرواہ کیے بغیر صرف اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے۔

آیات کا متن اور ترجمہ

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَقُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡاؕ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴿۱۰۴﴾

ترجمہ: اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا اور کہو انظرنا اور سنتے رہو اور کافروں کو عذاب ہے دردناک [۱]

مَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَلَا الۡمُشۡرِكِيۡنَ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴿۱۰۵﴾

ترجمہ: دل نہیں چاہتا ان لوگوں کا جو کافر ہیں اہل کتاب میں اور نہ مشرکوں میں اس بات کو کہ اترے تم پر کوئی نیک بات تمہارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسکو چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے [۲]

مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَاؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴿۱۰۶﴾

ترجمہ: جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلا دیتے ہیں تو بھیج دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس کے برابر کیا تجھکو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۳]

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴿۱۰۷﴾

ترجمہ: کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور نہیں تمہارے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار [۴]

اَمۡ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡـَٔلُوۡا رَسُوۡلَكُمۡ كَمَا سُئِلَ مُوۡسٰي مِنۡ قَبۡلُؕ وَمَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ ﴿۱۰۸﴾

ترجمہ: کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے جیسے سوال ہو چکے ہیں موسٰی سے اس سے پہلے اور جو کوئی کفر لیوے بدلے ایمان کے تو وہ بہکا سیدھی راہ سے [۵]

وَدَّ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًاۚۖ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَقُّۚ فَاعۡفُوۡا وَاصۡفَحُوۡا حَتّٰي يَاۡتِيَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴿۱۰۹﴾

ترجمہ: دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب کا کہ کسی طرح تم کو پھیر کر مسلمان ہوئے پیچھے کافر بنا دیں بسبب اپنے دلی حسد کے بعد اس کے کہ ظاہر ہو چکا ان پر حق [۶] سو تم در گذر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جبتک بھیجے اللہ اپنا حکم [۷] بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۸]

وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴿۱۱۰﴾

ترجمہ: اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیج دو گے اپنے واسطے بھلائی پاؤ گے اس کو اللہ کے پاس بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے [۹]

وَقَالُوۡا لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰيؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿۱۱۱﴾

ترجمہ: اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہ جاویں گے جنت میں مگر جو ہوں گے یہودی یا نصرانی [۱۰] یہ آرزؤیں باندھ لی ہیں انہوں نے کہدے لے آؤ سند اپنی اگر تم سچے ہو

بَلٰي‌ق‌ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ فَلَهٗٓ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ‌ص‌ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‌ع‌ ﴿۱۱۲﴾

ترجمہ: کیوں نہیں جس نے تابع کر دیا منہ اپنا اللہ کے اور وہ نیک کام کرنے والا ہے تو اس کے لئے ہے ثواب اس کا اپنے رب کے پاس اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہو نگے [۱۱]

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 104–112 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا: مدینہ کے دورِ آغاز میں مسلمان نبی کریم ﷺ سے کوئی بات سمجھنے کے لیے عرض کرتے تھے کہ (راعنا)، یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیے اور ہماری رعایت کیجیے۔ یہودی اس موقع کی تاک میں رہتے اور اس لفظ کو ذرا سا دبا کر بولتے جس سے اس کا معنی گالی یا بیوقوف بن جاتا۔ مسلمانوں کو منع کر دیا گیا کہ تم یہ لفظ استعمال نہ کرو بلکہ اس کی بجائے (انظرنا) کہو، جس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہماری طرف دیکھیے، اور بات کو شروع ہی سے توجہ سے سنو تاکہ بار بار پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔

[۲] دل نہیں چاہتا ان لوگوں کا: اہل کتاب اور مشرکینِ مکہ دونوں کو یہ بات سخت ناگوار گزرتی ہے کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھلائی یا قرآن نازل ہو۔ اہل کتاب کی خواہش یہ تھی کہ آخری نبی ان میں سے پیدا ہو اور مشرکین چاہتے تھے کہ ان کی اپنی قوم سے ہو۔ لیکن اللہ کی رحمت پر کسی کا زور نہیں؛ وہ جسے چاہے اپنی نبوت اور فضل کے لیے منتخب کرے، اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔

[۳] جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت: یہودیوں نے ایک اور اعتراض یہ اٹھایا کہ اگر تورات اور قرآن ایک ہی خدا کی کتابیں ہیں تو پھر پچھلے احکام کیوں بدل دیے جاتے ہیں؟ کیا خدا پہلے سے نہیں جانتا تھا کہ بعد میں کیا حکم دینا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ احکام کا بدلنا یا کسی حکم کو وقت کے تقاضے کے تحت ہٹا کر اس کی جگہ بہتر یا اس جیسی دوسری بات لے آنا اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

[۴] کیا تجھ کو معلوم نہیں: اس آیت میں یاد دلایا گیا ہے کہ جب زمین و آسمان کی پوری بادشاہی ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے سوا کوئی تمہارا مددگار نہیں، تو پھر بندوں کے لیے کیا چیز بہتر ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ کرنے والا بھی وہی ہے۔ اس کی تدبیر پر اعتراض کرنے کا کسی کو حق نہیں۔

[۵] کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو: مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہودیوں کی باتوں میں آ کر اپنے پیغمبر سے ایسے بے جا سوالات نہ کرو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیے گئے تھے۔ جو شخص ایمان چھوڑ کر کفر کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ سیدھی اور سچی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔

[۶] دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب کا: بہت سے یہودیوں کو اس بات سے شدید جلن ہے کہ تم مسلمان ہو گئے ہو۔ وہ دل کی حسد کی آگ میں جلتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں واپس کافر بنا دیں۔ لیکن اللہ کا حکم ہے کہ فی الحال ان کی زیادتیوں پر درگذر کرو اور صبر سے کام لو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔

[۷] حبتک بھیجے اللہ اپنا حکم: یعنی جب تک اللہ کی طرف سے کوئی دوسرا حکم نہ آئے، ان کی تکلیف دہ باتوں پر صبر کرو۔ بعد میں یہ حکم آ گیا تھا کہ ان کی بدعہدی کی وجہ سے انہیں مدینہ سے نکال دیا جائے۔

[۸] بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے: اس بات سے کمزور مسلمانوں کے دلوں میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے کہ یہود کیوں طاقتور نظر آ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمائے گا اور ان کے مقابلے میں یہودیوں کو ذلیل کرے گا۔

[۹] اور قائم رکھو نماز: اہل کتاب کی دشمنی اور سازشوں کے مقابلے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ظاہری پریشانیوں میں الجھنے کے بجائے اپنی نمازوں اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں اور اچھے اعمال کرتے رہیں۔ جو نیکی بھی انسان آگے بھیجے گا، اللہ کے ہاں اسے ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا، کیونکہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

[۱۰] اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہ جاویں گے جنت: یہود اور نصاریٰ دونوں کا دعویٰ یہ تھا کہ صرف وہی جنت میں جائیں گے اور باقی سب جہنمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ان کی اپنی خیال آرائیاں اور من گھڑت امیدیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو کوئی دلیل یا سند پیش کرو۔

[۱۱] کیونكہ جس نے تابع کر دیا منہ اپنا اللہ کے: حقیقت یہ ہے کہ جنت میں داخلے کا دارومدار کسی خاص گروہ کا حصہ ہونے پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ انسان اپنا آپ اللہ کے حوالے کر دے اور اچھے اعمال کرتا رہے۔ ایسے فرماں برداروں کے لیے ان کے رب کے پاس بہترین اجر ہے، اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔

اہم الفاظ و مفاہیم

  • راعنا: مادہ ر ع ی۔ لغوی معنی: ہماری رعایت کر, ہماری طرف متوجہ ہو۔ سیاقِ سباق میں یہ وہ لفظ تھا جسے بظاہر اچھے معنی میں بولا جاتا تھا مگر یہودی اس میں تحریف کر کے گالی کا سا مفہوم نکالتے تھے، اس لیے اس کے استعمال سے منع کر دیا گیا۔
  • انظرنا: مادہ ن ظ ر۔ معنی: ہماری طرف دیکھیے یا ہماری بات پر توجہ فرمائیے۔ (راعنا) کے متبادل کے طور پر اس کے استعمال کا حکم دیا گیا۔
  • نسخ: مادہ ن س خ۔ معنی: کسی حکم کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ کرنا۔
  • أسلم وجهه لله: معنی: اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے حکم کے تابع کر دینا اور اس کی رضا کے آگے سر جھکا دینا۔

تدبر و عملی رہنمائی

اس رکوع میں قرآن پاک نے مسلمانوں کو ایک بہت اہم حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ حق کی راہ پر چلنے والوں کو مخالفتوں اور حسد کا سامنا ہمیشہ کرنا پڑے گا۔ اہل کتاب کا رویہ یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی سے جلتے تھے اور طرح طرح کے اعتراضات اٹھا کر ان کے دلوں میں شک کے بیج بونا چاہتے تھے۔ ایسے میں مسلمانوں کو دو ٹوک ہدایت دی گئی ہے: ایک تو یہ کہ دشمنوں کی ہر چال کا جواب جذباتی ہو کر دینے کے بجائے صبر، برداشت اور عبادات (خصوصاً نماز اور زکوٰۃ) کے ذریعے دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ انسان کو کسی نسل یا گروہ کا حصہ ہونے پر فخر کرنے کے بجائے اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرنی چاہیے کہ اس کا عمل اللہ کے ہاں کیسا ہے۔ جب انسان سچے دل سے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے اور نیکی کا راستہ نہیں چھوڑता، تو پھر اسے دنیا کی کسی مخالفت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

خلاصۂ تفسیر

اس قسط میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ یہودی اور دیگر مخالفین اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان کسی طرح اپنے دین سے پھر جائیں۔ ان کی ان سازشوں اور اعتراضات (جیسے احکام کی تبدیلی پر اعتراض یا الفاظ میں تحریف کی کوشش) سے مرعوب ہونے کے بجائے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کریں، اپنی نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں، اور کسی کی تنگ نظر قوم پرستی کے فریب میں آنے کے بجائے خالصتاً اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہوں، کیونکہ کامیابی اور نجات کا انحصار صرف اخلاص اور اچھے اعمال پر ہے۔

ماخذ و حوالہ جات

  • تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)
  • بیان القرآن (مولانا اشرف علی تھانویؒ)
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۹۷ تا ۱۰۳

سورۃ البقرہ آیات ۹۷ تا ۱۰۳ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں یہود کے اس جھوٹے بہانے کی تردید کی گئی ہے کہ وہ حضرت جبریل علیہ السلام کی دشمنی…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. ضروری علمی وضاحت
  5. متعلقہ قرآن و حدیث
  6. اہم الفاظ و مفاہیم
  7. تدبر و عملی رہنمائی
  8. خلاصۂ تفسیر
  9. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

کیا انسان سچائی سے بچنے کے لیے اتنے کھوکھلے بہانے بنا سکتا ہے کہ فرشتوں ہی کو اپنا دشمن قرار دے دے؟

پچھلے رکوع میں بنی اسرائیل کی ہٹ دھرمی، بے جا مطالبات اور کلامِ الٰہی سے انحراف کا تذکرہ تھا۔ وہاں ان کے اس دعوے کو بے نقاب کیا گیا تھا کہ نجات اور آخرت کا گھر صرف انہی کے لیے مخصوص ہے۔ جب ان کی تمام حجتیں ٹوٹ گئیں تو انہوں نے ایمان نہ لانے کا ایک نیا اور عجیب عذر گھڑا کہ وحی لانے والے فرشتے (حضرت جبریل علیہ السلام) سے ہماری دشمنی ہے، اگر کوئی اور فرشتہ وحی لاتا تو ہم مان لیتے۔

اس رکوع کا مرکزی موضوع یہود کے بے بنیاد بہانوں کی حقیقت کھولنا، ان کی عہد شکنی، اور کتابِ الٰہی کو چھوڑ کر جادو ٹونے جیسے شیطانی کاموں میں پڑنے کی مذمت بیان کرنا ہے۔ یہ مضمون اگلی قسط میں بھی جاری رہے گا جہاں ان کی مزید سازشوں اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔

آیات کا متن اور ترجمہ

قُلۡ مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِيۡلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلۡبِكَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدًي وَّبُشۡرٰي لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿۹۷﴾

ترجمہ: تو کہدے جو کوئی ہووے دشمن جبریل کا سو اس نے تو اتارا ہے یہ کلام تیرے دل پر اللہ کے حکم سے کہ سچا بتانے والا ہے اس کلام کو جو اس کے پہلے ہے اور راہ دکھاتا ہے اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو

مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴿۹۸﴾

ترجمہ: جو کوئی ہووے دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے ان کافروں کا [۱]

وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَآ اِلَيۡكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍۚ وَمَا يَكۡفُرُ بِهَآ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۹۹﴾

ترجمہ: اور ہم نے اتاریں تیری طرف آیتیں روشن اور انکار نہ کریں گے ان کا مگر وہی جو نافرمان ہیں

اَوَكُلَّمَا عٰهَدُوۡا عَهۡدًا نَّبَذَهٗ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

ترجمہ: کیا جب کبھی باندھیں گے کوئی قرار تو پھینک دے گی اس کو ایک جماعت ان میں سے بلکہ ان میں اکثر یقین نہیں کرتے [۲]

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡ نَبَذَ فَرِيۡقٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ‌ق‌ۙ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ كَاَنَّهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَؗ ﴿۱۰۱﴾

ترجمہ: اور جب پہنچا ان کے پاس رسول اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے تو پھینک دیا ایک جماعت نے اہل کتاب سے کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں [۳]

وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّيٰطِيۡنُ عَلٰي مُلۡكِ سُلَيۡمٰنَۚ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ كَفَرُوۡا يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ‌ق‌ وَمَآ اُنۡزِلَ عَلَي الۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَارُوۡتَ وَمَارُوۡتَؕ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰي يَقُوۡلَآ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡؕ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهٖؕ وَمَا هُمۡ بِضَآرِّيۡنَ بِهٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ وَيَتَعَلَّمُوۡنَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡؕ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍؕ‌قف‌ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖٓ اَنۡفُسَهُمۡؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾

ترجمہ: اور پیچھے ہو لئے اس علم کے جو پڑتے تھے شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت [۴] اور کفر نہیں کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور اس علم کے پیچھے ہو لئے جو اترا دو فرشتوں پر شہر بابل میں جن کا نام ہاروت اور ماروت ہے اور نہیں سکھاتے تھے وہ دونوں فرشتے کسی کو جب تک یہ نہ کہدیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں سو تو کافر مت ہو پھر ان سے سیکھتے وہ جادو جس سے جدائی ڈالتے ہیں مرد میں اور اس کی عورت میں اور وہ اس سے نقصان نہیں کر سکتے کس کا بغیر حکم اللہ کے اور سیکھتے ہیں وہ چیز جو نقصان کرے ان کا اور فائدہ نہ کرے اور وہ خوب جان چکے ہیں کہ جس نے اختیار کیا جادو کو نہیں اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ اور بہت ہی بری چیز ہے جسکے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپکو اگر ان کو سمجھ ہوتی

وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَةٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ خَيۡرٌؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ‌ع‌ ﴿۱۰۳﴾

ترجمہ: اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ کرتے تو بدلا پاتے اللہ کے ہاں سے بہتر اگر ان کو سمجھ ہوتی [۵]

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 97–103 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] تو اللہ دشمن ہے ان کافروں کا: یہود کا یہ کہنا تھا کہ حضرت جبریل علیہ السلام چونکہ عذاب اور سختی کے احکام لاتے رہے ہیں اور ان کی وجہ سے ہمارے بزرگوں کو سخت تکلیفیں پہنچی ہیں، اس لیے وہ ہمارے دشمن ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر حضرت جبریل علیہ السلام کی جگہ کوئی دوسرا فرشتہ وحی لے کر آتا تو وہ رسول اللہ ﷺ پر ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بے تکی بات کا دو ٹوک جواب دیا کہ فرشتے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتے، وہ تو صرف اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ لہٰذا جو شخص حضرت جبریل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام یا کسی بھی فرشتے سے عداوت رکھتا ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھتا ہے، اور جو اللہ کا دشمن ہو، اللہ ایسے تمام کافروں کا کھلا دشمن ہے۔

[۲] بلکہ ان میں اکثر یقین نہیں کرتے: یہود کی یہ پرانی عادت رہی ہے کہ جب بھی اللہ سے، اس کے رسول سے یا بندوں سے کوئی پختہ عہد و پیمان باندھتے ہیں، تو ان کا ایک گروہ اس عہد کو توڑ کر پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ ان کے اس رویے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچے دل سے اپنی ہی کتاب (تورات) پر پختہ یقین نہیں رکھتے۔ جس قوم کے دل میں اپنی آسمانی کتاب کا ہی حقیقی احترام اور ایمان نہ ہو، اس سے کسی عہد کو نبھانے کی بھلا کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

[۳] پھینک دیا ایک جماعت نے اہل کتاب سے کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے: رسول سے مراد یہاں حضرت محمد ﷺ ہیں، اور کتاب سے مراد تورات ہے۔ جب آخری رسول ﷺ تشریف لائے—جن کی نبوت کی تصدیق خود تورات کر رہی تھی—تو اہلِ کتاب کے ایک گروہ نے اس سچائی کو قبول کرنے کے بجائے الٹا اپنی ہی کتاب کو اس طرح پسِ پشت ڈال دیا جیسے وہ اسے جانتے ہی نہ ہوں اور اس کے احکام سے بالکل بے خبر ہوں۔ جب ان کا حال یہ ہو کہ وہ اپنے مفاد کی خاطر اپنی ہی کتاب کا انکار کر دیں، تو ان سے قرآن پر ایمان لانے کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔

[۴] اور پیچھے ہو لئے اس علم کے جو پڑتے تھے شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت: جب ان نادانوں نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا، تو اس پاکیزہ علم کی جگہ انہوں نے شیطانوں کے گھڑے ہوئے جادو کی پیروی شروع کر دی۔ یہ جادو اور باطل علوم لوگوں میں دو راستوں سے پھیلے: پہلا راستہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں کھلا۔ اس وقت انسان اور جنات باہم ملتے جلتے تھے، تو انسانوں نے شیطانوں سے جادو سیکھ لیا اور پھر اس کی جھوٹی نسبت حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف کر دی کہ نعوذ باللہ ان کی بادشاہت اور جن و انس پر ان کا کنٹرول اسی جادو کے زور پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس الزام سے بالکل پاک قرار دیا کہ انہوں نے کبھی کفر (جادو) نہیں کیا، بلکہ کفر تو ان شیطانوں کا کام تھا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ دوسرا راستہ شہر بابل میں پھیلا، جہاں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتے انسانی شکل میں رہتے تھے جنہیں جادو کا علم دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کے ذریعے انسانوں کی آزمائش مقصود تھی۔ وہ دونوں فرشتے کسی کو یہ علم سکھانے سے پہلے صاف صاف خبردار کر دیتے تھے کہ ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، تم اس باطل راستے کو اختیار کر کے کافر نہ بنو۔ اس واضح تنبیہ کے باوجود لوگ ان سے ایسا کلام اور طریقے سیکھتے جن کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ جادوگر کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جب تک اللہ کا تکوینی حکم اور اجازت نہ ہو۔ یہ لوگ ایسا علم حاصل کر رہے تھے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں سراسر نقصان دہ تھا اور اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ ان کو خوب معلوم تھا کہ جو شخص اس سودے (جادو) کو اختیار کرے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ کتنا برا سودا تھا جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش ان کے پاس اتنی سمجھ ہوتی!

[۵] اگر ان کو سمجھ ہوتی: اگر یہ لوگ جادو ٹونے اور شیطانی ہتھکنڈوں کے بجائے سچے دل سے اللہ پر ایمان لاتے اور نافرمانی سے بچ کر تقویٰ کی زندگی اختیار کرتے، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے جو اجر و ثواب تیار تھا وہ اس دنیاوی نفع سے کہیں زیادہ بہتر تھا۔ مگر افسوس کہ وہ اس حقیقت اور فہم سے محروم رہے۔

ضروری علمی وضاحت

  • سحر (جادو) کی شرعی حیثیت: معارف القرآن (از مفتی محمد شفیعؒ) میں اس آیت کے تحت وضاحت کی گئی ہے کہ جادو کی بنیاد ایسے کفریہ کلمات، شیطانی اعمال اور غلط عقائد پر ہوتی ہے جن سے انسان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اسی بنا پر قرآن نے جادو سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل کرنے کو کفر کے مشابہ اور آخرت کی محرومی کا سبب قرار دیا ہے۔
  • ہاروت اور ماروت کی حقیقت: تفسیر ابنِ کثیر میں واضح کیا گیا ہے کہ ہاروت اور ماروت کے واقعے کے گرد بہت سی بے بنیاد اسرائیلی روایات مشہور کر دی گئی ہیں جن کی کوئی صحیح سند نہیں۔ قرآنِ کریم کے الفاظ سے صرف اتنی بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی آزمائش کے لیے بھیجا تھا، اور وہ کسی کو وہ علم سکھانے سے پہلے باقاعدہ تنبیہ کرتے تھے کہ یہ آزمائش ہے، کفر میں نہ پڑو۔ فرشتوں کی عصمت پر کوئی آنچ نہیں آتی۔

متعلقہ قرآن و حدیث

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دوسری جگہ بھی واضح فرمایا ہے کہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا:

وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡاؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰي ﴿۶۹﴾

ترجمہ: اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نگل جائے جو کچھ اُنہوں نے بنایا اُن کا بنایا ہوا فریب ہے جادوگر کا اور بھلا نہیں ہوتا جادوگر کا جہاں ہو (سُورَةُ طه: 69)

نبی کریم ﷺ نے جن ہلاکت میں ڈالنے والے بڑے گناہوں سے بچنے کا حکم دیا، ان میں جادو کو شرک کے فوراً بعد ذکر فرمایا ہے: (صحیح البخاری، حدیث 2766)

صحیح البخاری، کتاب الوصایا، حدیث نمبر 2766

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ".

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔» صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، جادو، اور کسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے سوائے حق کے، اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک دامن، بے خبر، مؤمن عورتوں پر تہمت لگانا۔»

مکمل سند و متن (عربی)حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ".

اہم الفاظ و مفاہیم

  • نَبَذَ: (مادہ: ن-ب-ذ)، اس کا بنیادی معنی کسی بے وقعت چیز کو اٹھا کر دور پھینک دینا ہے۔ آیت میں اس سے مراد عہد اور کتابِ الٰہی کی ایسی بے توقیری ہے جیسے انسان کسی ناکارہ چیز کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے۔
  • سِحْر: (مادہ: س-ح-ر)، بنیادی معنی کسی چیز کی حقیقت کو نظروں سے چھپا کر الٹ دکھانا ہے۔ اصطلاح میں ایسے خفیہ اور شیطانی ہتھکنڈوں کو کہتے ہیں جن سے باطل کو حق یا نظر کا دھوکہ دیا جائے۔
  • فِتْنَة: (مادہ: ف-ت-ن)، بنیادی معنی سونے کو آگ میں تپا کر کھرا کھوٹا جانچنا ہے۔ آیت میں اس سے مراد کڑی آزمائش اور امتحان ہے۔
  • خَلَاق: (مادہ: خ-ل-ق)، اس کا معنی کسی چیز میں سے ملنے والا حصہ، نصیب یا بھلائی ہے۔ آیت میں مراد آخرت کی نعمتوں اور نجات کا حصہ ہے۔

تدبر و عملی رہنمائی

  1. حق سے بچنے کے بہانے: جب انسان سچائی کو قبول نہیں کرنا چاہتا تو وہ عجیب و غریب بہانے تراشتا ہے، جیسے یہود نے فرشتوں کو دشمن قرار دیا۔ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہم بھی اپنی انا یا مفاد کی خاطر حق بات کو رد کرنے کے لیے کوئی غیر منطقی عذر تو نہیں بنا رہے۔
  2. عہد کی پاسداری: عہد شکنی کو قرآن نے نافرمانوں اور بے ایمانوں کا شیوہ قرار دیا ہے۔ خواہ اللہ سے کیا گیا عہدِ بندگی ہو یا بندوں سے کیا گیا کوئی معامہ، اس کی پاسداری ایمان کی بنیادی علامت ہے۔
  3. وہم اور جادو سے نجات: انسان جب اللہ کی کتاب اور دعا کا راستہ چھوڑتا ہے تو وہم، جادو، تعویذ گنڈوں اور نجومیوں کے چکر میں پھنس جاتا ہے۔ مومن کا پختہ یقین ہونا چاہیے کہ نفع اور نقصان کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے؛ کوئی جادوگر یا عامل اللہ کے اذن کے بغیر رتی برابر نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
  4. سودے کی حقیقت: وقتی دنیاوی مفاد یا کسی کو نقصان پہنچانے کی خاطر اپنے ایمان اور آخرت کو داؤ پر لگانا سب سے گھاٹے کا سودا ہے۔

خلاصۂ تفسیر

اس رکوع میں یہود کے اس جھوٹے بہانے کی تردید کی گئی ہے کہ وہ حضرت جبریل علیہ السلام کی دشمنی کے سبب ایمان نہیں لائے؛ اللہ نے واضح فرما دیا کہ فرشتوں کا دشمن اللہ کا دشمن ہے۔ یہود کی عہد شکنی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ انہوں نے تورات کی پیش گوئیوں کو نظر انداز کیا اور کتابِ الٰہی کو چھوڑ کر شیطانی جادو کی پیروی شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو کفر اور جادو کے الزام سے پاک قرار دیا اور یہ حقیقت واضح فرمائی کہ جادو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں تباہ کرتا ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ نجات صرف سچے ایمان اور تقویٰ میں ہے۔

ماخذ و حوالہ جات

  1. تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (بنیادی ماخذ برائے تفسیری حواشی)
  2. تفسیر ابنِ کثیر — حافظ ابنِ کثیرؒ (وضاحت برائے ہاروت و ماروت)
  3. معارف القرآن — مفتی محمد شفیعؒ (وضاحت برائے سحر و جادو)
  4. صحیح البخاری (حدیثِ نبوی ﷺ برائے متعلقہ موضوع)
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۸۷ تا ۹۶

سورۃ البقرہ آیات ۸۷ تا ۹۶ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے موجودہ رویے کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ بتایا گیا…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. ضروری علمی وضاحت
  5. اہم الفاظ و مفاہیم
  6. تدبر و عملی رہنمائی
  7. خلاصۂ تفسیر
  8. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

پچھلے رکوع میں بنی اسرائیل کی کتاب اور شریعت سے بے وفائی، ان کے دلوں کی سختی اور انبیاء کرام کی تکذیب کا تذکرہ تھا کہ کیسے انہوں نے اللہ کے احکام کو پسِ پشت ڈالا۔ اس رکوع میں اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے بنی اسرائیل کے مزید مکروہ رویوں، ان کے کھوکھلے دعووں اور حق دشمنی کی داستان کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس پورے رکوع کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ بنی اسرائیل خود کو اللہ کا چہتا اور برگزیدہ گروہ سمجھتے تھے، لیکن ان کے عملی کارنامے اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہر دور میں حق کا انکار کیا، اللہ کے سچے رسولوں کو جھٹلایا اور قتل کیا، اور دنیا کی زندگی سے شدید محبت کی۔

آیات کا متن اور ترجمہ

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَي الۡكِتٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۭۡ بَعۡدِهٖ بِالرُّسُلِؗ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَي ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌۭ بِمَا لَا تَهۡوٰٓي اَنۡفُسُكُمُ اسۡتَكۡبَرۡتُمۡۚ فَفَرِيۡقًا كَذَّبۡتُمۡؗ وَفَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴿۸۷﴾

ترجمہ: اور بیشک دی ہم نے موسٰی کو کتاب اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول اور دئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح پاک سے [۱] پھر بھلا کیا جب پاس لایا کوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا تمہارے جی کو تو تم تکبر کرنے لگے پھر ایک جماعت کو جھٹلایا [۲] اور ایک جماعت کو تم نے قتل کر دیا [۳]

وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌؕ بَلۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَقَلِيۡلًا مَّا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾

ترجمہ: اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہے بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو بہت کم ایمان لاتے ہیں [۴]

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡۙ وَكَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ يَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَي الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡاۚ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مَّا عَرَفُوۡا كَفَرُوۡا بِهٖؗ فَلَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَي الۡكٰفِرِيۡنَ ﴿۸۹﴾

ترجمہ: اور جب پہنچی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو ان کے پاس ہے اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر پھر جب پہنچا ان کو جسکو پہچان رکھا تھا تو اس سے منکر ہو گئے سو لعنت ہے اللہ کی منکروں پر [۵]

بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖٓ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بَغۡيًا اَنۡ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ عَلٰي مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۚ فَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍؕ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴿۹۰﴾

ترجمہ: بری چیز ہے وہ جسکے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپکو کہ منکر ہوئے اس چیز کے جو اتاری اللہ نے اس ضد پر کہ اتارے اللہ اپنے فضل سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے [۶] سو کما لائے غصہ پر غصہ [۸] اور کافروں کے واسطے عذاب ہے ذلت کا

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَآ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ‌ق‌ وَهُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡؕ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۭۡ بِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴿۹۱﴾

ترجمہ: اور جب کہا جاتا ہے ان سے مانو اس کو جو اللہ نے بھیجا ہے تو کہتے ہیں ہم مانتے ہیں جو اترا ہے ہم پر اور نہیں مانتے اس کو جو سوا اس کے ہے حالانکہ وہ کتاب سچی ہے تصدیق کرتی ہے اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے [۷] کہدو پھر کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے پیغمبروں کو پہلے سے اگر تم ایمان رکھتے تھے [۹] [۱۰]

وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ مُّوۡسٰي بِالۡبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۭۡ بَعۡدِهٖ وَاَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۹۲﴾

ترجمہ: اور آچکا تمہارے پاس موسٰی صریح معجزے لیکر پھر بنا لیا تم نے بچھڑا اس کے گئے پیچھے اور تم ظالم ہو [۱۱]

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡاؕ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا‌ق‌ وَاُشۡرِبُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ بِكُفۡرِهِمۡؕ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُكُمۡ بِهٖٓ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴿۹۳﴾

ترجمہ: اور جب ہم نے لیا قرار تمہارا اور بلند کیا تمہارے اوپر کوہ طور کو پکڑو جو ہم نے تم کو دیا زور سے اور سنو بولے سنا ہم نے اور نہ مانا اور پلائی گئی ان کے دلوں میں محبت اسی بچھڑے کی بسبب ان کے کفر کے [۱۲] کہدے کہ بری باتیں سکھاتا ہے تم کو ایمان تمہارا اگر تم ایمان والے ہو

قُلۡ اِنۡ كَانَتۡ لَكُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ عِنۡدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿۹۴﴾

ترجمہ: کہدے کہ اگر ہے تمہارے واسطے آخرت کا گھر اللہ کے ہاں تنہا سوا اور لوگوں کے تو تم مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچ کہتے ہو [۱۳]

وَلَنۡ يَّتَمَنَّوۡهُ اَبَدًاۭ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۭ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴿۹۵﴾

ترجمہ: اور ہر گز آرزو نہ کریں گے موت کی کبھی بسبب ان گناہوں کے کہ بھیج چکے ہیں ان کے ہاتھ اور اللہ خوب جانتا ہے گنہگاروں کو

وَلَتَجِدَنَّهُمۡ اَحۡرَصَ النَّاسِ عَلٰي حَيٰوةٍۚۛ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡاۚۛ يَوَدُّ اَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَةٍۚ وَمَا هُوَ بِمُزَحۡزِحِهٖ مِنَ الۡعَذَابِ اَنۡ يُّعَمَّرَؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۭ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ‌ع‌ ﴿۹۶﴾

ترجمہ: اور تو دیکھے گا ان کو سب لوگوں سے زیادہ حریص زندگی پر اور زیادہ حریص مشرکوں سے بھی چاہتا ہے ایک ایک ان میں کا کہ عمر پاوے ہزار برس اور نہیں اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں [۱۴]

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 87–96 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] اور بیشک دی ہم نے موسٰی کو کتاب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توریت عطا کی گئی اور ان کے بعد پے در پے انبیاء بھیجے گئے تاکہ وہ بنی اسرائیل کو احکامِ الٰہی پر قائم رکھیں۔ اسی سلسلے میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو کھلے معجزے دیے گئے (جیسے مردوں کو زندہ کرنا، پیدائشی اندھوں اور کوڑھیوں کو صحت یاب کرنا، اور غیب کی خبریں دینا)۔ اللہ نے ان کی تائید روح القدس یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے کی جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے، یا اس اسمِ اعظم کی برکت سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوا تھا۔

[۲] پھر بھلا کیا جب پاس لایا کوئی رسول: لیکن بنی اسرائیل کا رویہ ہمیشہ سے یہ رہا کہ جب بھی کوئی رسول ان کی خواہشات کے خلاف کوئی سچی بات لے کر آیا، انہوں نے تکبر کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی اس سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے بعض انبیاء کو جھٹلایا (جیسے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کو)۔

[۳] اور ایک جماعت کو تم نے قتل کر دیا: اور اپنے غضب کی انتها کرتے ہوئے بعض انبیاء کو بے دردی سے شہید کر ڈالا، جیسے حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام۔

[۴] اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہے: یہودیوں کا غرور اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ وہ ڈھٹائی سے کہتے تھے کہ ہمارے دل غلاف کے اندر محفوظ ہیں، یعنی ان پر کسی اور بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا، اس لیے ہم تمہاری بات نہیں مان سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کے دلوں کی حفاظت نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ کی لعنت ہے جس نے انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے، اس لیے وہ حق کو قبول کرنے کی توفیق سے محروم ہیں اور بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں۔

[۵] اور جب پہنچی انکے پاس کتاب اللہ کی طرف سے: یہود کی بدبختی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ جب ان کے پاس وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس توریت کی تصدیق کرتی ہے جو پہلے ہی ان کے پاس موجود تھی (حالانکہ قرآن کے آنے سے پہلے یہی یہودی کافروں کے خلاف دعا مانگتے تھے کہ اے اللہ! اس آخری نبی اور کتاب کے طفیل ہمیں کافروں پر غلبہ عطا فرما)، لیکن جب وہی جانی پہچانی شخصیت اور کتاب ان کے سامنے آ گئی تو وہ حسد کی وجہ سے اس کے منکر ہو گئے، جس پر خدا کی لعنت نازل ہوئی۔

[۶] بری چیز ہے وہ جسکے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپکو: انہوں نے اپنے آپ کو بہت گھاٹے کے سودے میں ڈال دیا کہ محض ضد اور حسد کی بنیاد پر اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر بیٹھے۔

[۷] برائے راست حسد اور ضد: ان کی اس دشمنی کے پیچھے کوئی معقول وجہ نہیں تھی سوائے اس حسد کے کہ اللہ نے اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہا نبوت اور کتاب نازل کر دی۔ اس طرح وہ غصے پر غصہ کما لائے اور کافروں کی طرح ذلت آمیز عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

[۸] عذابِ ذلت: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کو جو عذاب دیا جاتا ہے اس کا مقصد ان کی تذلیل اور رسوائی ہوتا ہے، جبکہ مسلمانوں سے اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور انہیں سزا ملے تو اس کا مقصد انہیں پاک کرنا ہوتا ہے نہ کہ رسوا کرنا۔

[۹] اور جب کہا جاتا ہے ان سے مانو اس کو: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی اس نئی کتاب پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اسی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر اتاری گئی تھی (یعنی توریت)، اور اس کے علاوہ کسی اور کتاب کو نہیں مانتے۔ حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ قرآن بھی سچی کتاب ہے اور ان کی اپنی کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔

[۱۰] انبیاء کا قتل: ان سے پوچھا جائے کہ اگر تم واقعی توریت پر ایمان رکھنے والے ہو تو پھر تم نے اپنے ان انبیاء کو کیوں قتل کیا جو توریت ہی کے احکام کی تبلیغ کرتے تھے، کیونکہ توریت میں تو یہ صاف حکم تھا کہ جو بھی سچا نبی آئے اس کی مدد کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔

[۱۱] بنی اسرائیل ظالم ہیں: اے یہودو! تمہارے پاس بھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کھلے معجزے لے کر آئے تھے، لیکن ان کے کچھ دن کے لیے کوہ طور پر جانے کے بعد تم نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا اور اسے خدا بنا لیا، حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تمہارے ہی درمیان موجود تھے۔ اس وقت تمہارا موسیٰ کی شریعت پر ایمان کہاں گیا تھا؟ آج تم آخری نبی کے خلاف ضد میں شریعتِ موسوی کا نام تو لیتے ہو لیکن حقیقت میں ظالم اور سرکش ہو۔

[۱۲] اور جب ہم نے لیا قرار تمہارا: جب توریت کے احکام دیتے ہوئے کوہ طور پہاڑ کو تمہارے سر پر معلق کر دیا گیا اور ڈر کی وجہ سے تم سے پختہ عہد لیا گیا کہ اس کتاب کو مضبوطی سے تھامو اور غور سے سنو، تو اس وقت جان کے خوف سے زبان سے تو کہہ دیا کہ ہم نے سن لیا، لیکن دل سے اور عملی طور پر یہ ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے دلوں میں بچھڑ پرستی کی محبت پہلے ہی رچ بس چکی تھی۔

[۱۳] کہدے کہ اگر ہے تمہارے واسطے آخرت کا گھر: یہود کا ایک اور بڑا دعویٰ یہ تھا کہ آخرت کی جنت صرف اور صرف انہی کا حق ہے اور ان کے سوا کوئی وہاں نہیں جائے گا اور نہ انہیں کبھی عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو اور خود کو پکا جنتی سمجھتے ہو تو ذرا موت کی تمنا کر کے دکھاؤ تاکہ جلدی اس نعمت تک پہنچ جاؤ۔

[۱۴] حریص زندگی پر: لیکن وہ اپنے کرتوتوں اور گناہوں کی وجہ سے کبھی موت کی آرزو نہیں کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں (یہاں تک کہ مشرکین سے بھی زیادہ) اس دنیا کی زندگی کے حریص ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اسے ہزار سال کی لمبی عمر دی جائے۔ لیکن یہ لمبی عمر بھی انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔

ضروری علمی وضاحت

اس رکوع میں قرآنِ کریم نے یہود کے فکری تضاد کو بہت عمدہ طریقے سے بے نقاب کیا ہے۔ وہ ایک طرف تو توریت کا نام لے کر قرآن کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اور دوسری طرف تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے خود توریت کے احکام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے ہی سچے پیغمبروں کو قتل کیا۔ قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ دین داری محض دعوؤں کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دل کے اخلاص اور عملی اطاعت کا تقاضا کرتی ہے۔

اہم الفاظ و مفاہیم

  • رُّوحِ ٱلْقُدُسِ: اس سے مراد حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں، یا وہ خاص روحانی قوت و تائید جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حاصل تھی۔
  • غُلْفٌۢ: غلاف کی جمع، یعنی وہ دل جن پر پردے یا غلاف چڑھے ہوں اور باہر کی بات اندر نہ جا سکے۔
  • يَسْتَفْتِحُونَ: فتح اور مدد کی دعا کرنا یا مانگنا۔
  • بَغْيًا: حسد، ضد اور سرکشی کی وجہ سے۔
  • رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ: کوہ طور پہاڑ کو بنی اسرائیل کے سروں پر اٹھانا یا معلق کرنا۔
  • أُشْرِبُوا۟: کسی چیز کا دل میں اس طرح رچ بس جانا جیسے رنگ پانی میں گھل جاتا ہے۔

تدبر و عملی رہنمائی

  • انسان جب ضد، حسد اور تعصب کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ کھلی حقیقتوں سے بھی آنکھیں بند کر لیتا ہے، جیسی روش بنی اسرائیل نے اختیار کی۔
  • محض خاندانی نسبت، کسی بڑے نام یا پرانے ورثے پر غرور کرنا انسان کو آخرت میں فائدہ نہیں دے سکتا جب تک اس کے اعمال درست نہ ہوں۔
  • دنیا کی محبت اور لمبی عمر کی طمع انسان کو خدا کی یاد سے غافل کر دیتی ہے، جبکہ عقلمند انسان وہی ہے جو موت کو یاد رکھے اور اس کے لیے تیاری کرے۔

خلاصۂ تفسیر

اس رکوع میں بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے موجودہ رویے کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اللہ کے سچے رسولوں کی تکذیب کی، حسد اور ضد کی وجہ سے قرآن کا انکار کیا، اور اپنے باطل دعوؤں کے باوجود موت کے نام سے سخت خوف زدہ رہتے ہیں۔ قرآن نے ان کے اس فکری تضاد کو واضح کرتے ہوئے یہ باور کرایا کہ انسان کی اصل کامیابی سچی تابعداری اور اخلاص میں ہے، نہ کہ محض دعوؤں اور دنیا کی طمع میں۔

ماخذ و حوالہ جات

  • تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)
  • بیان القرآن (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ)
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۸۳ تا ۸۶

سورۃ البقرہ آیات ۸۳ تا ۸۶ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیے گئے بنیادی اخلاقی اور ایمانی عہد کی یاد دہانی…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. اہم الفاظ و مفاہیم
  5. تدبر و عملی رہنمائی
  6. خلاصۂ تفسیر
  7. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان اپنی مذہبی کتاب کے صرف ان حصوں پر عمل کرے جو اس کے فائدے میں ہوں، اور باقی کو نظر انداز کر دے؟ پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کے مختلف رویوں اور اللہ تعالیٰ کی مسلسل عنایات کے مقابلے میں ان کی ناسپاسی کا تذکرہ تھا۔ زیرِ نظر آیات میں اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اس بنیادی عہد (میثاق) کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا، اور پھر تاریخی حقیقت کی روشنی میں ان کے اس منافقانہ رویے کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے جہاں وہ شریعت کے احکام میں اپنی پسند اور مصلحت کے مطابق انتخاب (cherry-picking) کرتے تھے۔ اس رکوع کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ شریعت کوئی ایسا مجموعہ نہیں جس میں سے اپنی مرضی کے احکام چن لیے جائیں اور ناپسند احکام چھوڑ دیے جائیں؛ دین پر پورا کا پورا عمل کرنا ہی ایمان کا تقاضا ہے۔

آیات کا متن اور ترجمہ

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ‌قف‌ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّذِي الۡقُرۡبٰي وَالۡيَتٰمٰي وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَؕ ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡكُمۡ وَاَنۡتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۸۳﴾

ترجمہ: اور جب ہم نے لیا قرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت نہ کرنا مگر اللہ کی اور ماں باپ سے سلوک نیک کرنا اور کنبہ والوں سے اور یتیموں اور محتاجوں سے او رکہیو سب لوگوں سے نیک بات اور قائم رکھیو نماز اور دیتے رکھیو زکوٰۃ پھر تم پھر گئے مگر تھوڑے سے تم میں اور تم ہو ہی پھرنے والے [۱]

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ لَا تَسۡفِكُوۡنَ دِمَآءَكُمۡ وَلَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴿۸۴﴾

ترجمہ: اور جب لیا ہم نے وعدہ تمہارا کہ نہ کرو گے خون آپس میں اور نہ نکال دو گے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے اقرار کر لیا اور تم مانتے ہو [۲]

ثُمَّ اَنۡتُمۡ هٰٓؤُلَآءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَتُخۡرِجُوۡنَ فَرِيۡقًا مِّنۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِهِمۡؗ تَظٰهَرُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِؕ وَاِنۡ يَّاۡتُوۡكُمۡ اُسٰرٰي تُفٰدُوۡهُمۡ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيۡكُمۡ اِخۡرَاجُهُمۡؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ وَتَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡكُمۡ اِلَّا خِزۡيٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَاۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰٓي اَشَدِّ الۡعَذَابِؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۵﴾

ترجمہ: پھر تم وہ لوگ ہو کہ ایسے ہی خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے [۳] اور اگر وہی آویں تمہارے پاس کسی کے قیدی ہو کر تو ان کا بدلا دیکر چھڑاتے ہو حالانکہ حرام ہے تم پر ان کا نکال دینا بھی تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو [۴] سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن پہنچائے جاویں سخت سے سخت عذاب میں اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کاموں سے [۵]

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِؗ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ‌ع‌ ﴿۸۶﴾

ترجمہ: یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا ہو گا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی [۶]

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 83–86 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] اور تم ہو ہی پھرنے والے: اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے کے بعد ان سے منہ موڑ لینا اور اپنے کیے ہوئے پختہ وعدوں کو توڑ دینا، بنی اسرائیل کی محض وقتی لغزش نہ تھی بلکہ یہ ان کی مستقل عادت اور مزاج بن چکا تھا۔ چند سچے بندوں کے علاوہ پوری قوم کی تاریخ اسی بے وفائی سے بھری پڑی ہے۔

[۲] نہ کرو گے خون آپس میں: تورات میں اللہ تعالیٰ نے ان سے صریح عہد لیا تھا کہ نہ تو تم اپنی ہی قوم کے لوگوں کا ناحق خون بہاؤ گے اور نہ ہی ظلم و زیادتی کے ذریعے انہیں ان کے گھروں اور وطن سے بے دخل کرو گے۔

[۳] چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے: ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے: بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ اسی طرح عرب مشرکین کے بھی دو قبیلے تھے: اوس اور خزرج۔ ان دونوں عرب قبیلوں میں پرانی دشمنی اور جنگیں چلتی رہتی تھیں۔ بنو قریظہ نے اوس کا ساتھ دیا اور بنو نضیر نے خزرج کے ساتھ حلیفانہ معاہدہ کر لیا۔ جب ان دونوں عرب قبیلوں کی باہم جنگ ہوتی تو یہ یہودی قبیلے اپنے حلیفوں کی خاطر ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر آتے؛ اپنے ہی ہم مذہب بھائیوں پر حملے کرتے، انہیں قتل کرتے، ان کے گھر بار مسمار کرتے اور انہیں جلاوطن کر دیتے۔

[۴] تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو: ان کی منافقت اور تضاد بیانی کی انتہا یہ تھی کہ جب جنگ کے نتیجے میں ان کا کوئی یہودی بھائی دشمن کے ہاتھ قید ہو جاتا، تو تورات کے اس حکم کا واسطہ دے کر کہ "اپنے قیدی کو چھڑانا فرض ہے"، سب مل کر چندہ جمع کرتے اور فدیہ دے کر اسے آزاد کراتے۔ اس پر ان کو جھنجھوڑا گیا کہ جب تمہارا ہم قوم غیروں کے قبضے میں آئے تو اسے چھڑانے کے لیے تم فوراً کھڑے ہو جاتے ہو، مگر خود اپنے ہاتھوں سے اس پر ظلم کرنے، اسے قتل کرنے اور جلاوطن کرنے سے ذرا نہیں جھجکتے! اگر اللہ کا حکم ماننا ہے تو تمام احکام پر چلو، نہ کہ صرف اس حکم پر جو تمہاری ساکھ اور قومی حمیت کو راس آئے۔

[۵] سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی: جو شخص یا قوم دین کے احکام کے ساتھ یہ کھیل کھیلے کہ اپنی مرضی اور فائدے کی باتوں کو تو اپنا لے اور جو حکم اپنی خواہش، ذاتی مفاد یا سیاسی مصلحت کے خلاف پڑے اسے پسِ پشت ڈال دے، اس کا یہ عمل کفر ہی کے برابر ہے۔ ایمان کے ٹکڑے نہیں ہو سکتے کہ آدمی آدھی شریعت مانے اور آدھی کا انکار کرے۔ ایسے دہریے پن اور منافقانہ رویے کا نتیجہ دنیا میں ذلت و رسوائی ہے (جیسا کہ مدینہ کے یہودیوں کو جلاوطنی اور شکست کی صورت میں دیکھنا پڑا) اور آخرت میں سخت ترین عذاب ہے۔

[۶] نہ ہلکا ہو گا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی: انہوں نے آخرت کی ابدی کامیابی اور اللہ کی رضا کے بدلے دنیا کے وقتی مفادات، سیاسی اتحاد اور انا کی تسکین کو خرید لیا۔ انہوں نے اپنے دنیاوی حلیفوں کے معاہدے تو بڑی سختی سے نبھائے، مگر اللہ سے کیے گئے احکام و عہد کی کوئی پروا نہ کی۔ جب اللہ کا انصاف قائم ہوگا تو ایسے لوگوں کو نہ تو عذاب سے کوئی چھوٹ ملے گی اور نہ ہی کوئی طاقت ان کی حمایت یا سفارش کر سکے گی۔

اہم الفاظ و مفاہیم

  • مِيثَاقَ: پختہ عہد، مضبوط اقرار جو کسی معاملے میں قطعی طور پر لیا جائے۔
  • تَسْفِكُونَ: تم بہاتے ہو (مادہ: س ف ک)۔ عربی میں خون بہانے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔
  • أُسَارَىٰ: قیدی (واحد: اَسِیْر)۔ جنگ میں گرفتار ہونے والے افراد۔
  • تُفَادُوهُمْ: تم فدیہ (بدلہ) دے کر انہیں چھڑاتے ہو (مادہ: ف د ی)۔
  • خِزْيٌ: ذلت، رسوائی، بے عزتی اور ناکامی۔

تدبر و عملی رہنمائی

  1. دین میں انتخابی روش سے بچاؤ: شریعت میں پسند ناپسند کی گنجائش نہیں ہوتی۔ عبادات تو شوق سے ادا کرنا مگر مالی معاملات، اخلاقی ذمہ داریوں اور حقوق العباد میں من مانی کرنا اسی "بعض کتاب پر ایمان لانے اور بعض کے انکار" کا جدید روپ ہے۔
  2. سیاسی و دنیاوی مفادات پر دین کو ترجیح دینا: بنو قریظہ اور بنو نضیر نے محض اپنے سیاسی حلیفوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے دینی اصول پامال کر دیے۔ آج بھی جب انسان دنیاوی مفاد یا برادری کے دباؤ میں آ کر حق اور انصاف کا دامن چھوڑتا ہے تو اسی انجام کی طرف بڑھتا ہے۔
  3. حقوق کا باہمی توازن: آیت ۸۳ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور بندگی کے فوراً بعد والدین، رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں کے حقوق اور عام انسانوں سے بھلی بات کہنے کا حکم دیا۔ بندگی صرف نماز و زکوٰۃ تک محدود نہیں بلکہ مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک بھی دین کا بنیادی جزو ہے۔

خلاصۂ تفسیر

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیے گئے بنیادی اخلاقی اور ایمانی عہد کی یاد دہانی کرائی ہے، جس میں توحید، والدین و کمزوروں کے حقوق، حسنِ گفتار، اور باہمی قتل و جلاوطنی کی سخت ممانعت شامل تھی۔ اس کے مقابلے میں مدینہ کے یہودیوں کے اس عملی تضاد کو بے نقاب کیا گیا کہ وہ دنیاوی مفاد کی خاطر اپنے ہی بھائیوں کو قتل و بے دخل کرتے تھے، مگر قیدی بننے پر مذہبی بن کر فدیہ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ شریعت کے کچھ حصوں کو ماننا اور باقی کو چھوڑ دینا کھلی منافقت ہے جس کی سزا دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دائمی عذاب ہے۔

ماخذ و حوالہ جات

  1. تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (زیرِ تفسیر آیات ۸۳ تا ۸۶ کے تفسیری حواشی)
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۷۲ تا ۸۲

سورۃ البقرہ آیات ۷۲ تا ۸۲ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے گائے کے ذبح کے واقعے کا حقیقی پس منظر واضح فرمایا کہ کس…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. اہم الفاظ و مفاہیم
  5. تدبر و عملی رہنمائی
  6. خلاصۂ تفسیر
  7. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

ذرا سوچیے، اگر کسی شخص کے سامنے ایک مردہ انسان دوبارہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کی نشان دہی کر دے، تو کیا اس کے بعد بھی شک و شبہ یا ضد کی کوئی گنجائش باقی رہ سکتی ہے؟

پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے بار بار غیر ضروری سوالات کیے۔ اس رکوع میں پہلے اسی واقعے کا اصل پس منظر اور نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ گائے کے ذبح کا حکم دراصل ایک پراسرار قتل کے راز کو کھولنے کے لیے دیا گیا تھا۔ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ لینے کے باوجود ان کے دلوں پر کوئی مثبت اثر نہ ہوا بلکہ وہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے۔ اس کے بعد کلام کا رخ ان یہودیوں کے رویے کی طرف مڑتا ہے جو نبی کریم ﷺ کے دور میں موجود تھے؛ ان کے علماء کی بددیانتیاں، کتابِ الٰہی میں تحریف، منافقانہ طرزِ عمل اور نجات کے بارے میں ان کے من گھڑت نظریات کھول کر واضح کیے گئے ہیں، اور آخر میں نجات کا آفاقی اور ابدی الٰہی قانون بیان کر دیا گیا ہے۔

آیات کا متن اور ترجمہ

وَاِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِيۡهَاؕ وَاللّٰهُ مُخۡرِجٌ مَّا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَۚ ﴿۷۲﴾

ترجمہ: اور جب مار ڈالا تھا تم نے ایک شخص کو پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے [۱]

فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡهُ بِبَعۡضِهَاؕ كَذٰلِكَ يُحۡيِ اللّٰهُ الۡمَوۡتٰي وَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۳﴾

ترجمہ: پھر ہم نے کہا مارو اس مردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا [۲] اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردو ں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی قدرت کے نمونے تاکہ تم غور کرو [۳]

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالۡحِجَارَةِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةًؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾

ترجمہ: پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس سب کے بعد [۴] سو وہ ہو گئے جیسے پتھر یا ان سے بھی سخت اور پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں جن سے جاری ہوتی ہیں نہریں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور نکلتا ہے ان سے پانی اور ان میں ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے [۵]

اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا لَكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهٗ مِنۭۡ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾

ترجمہ: اب کیا تم اے مسلمانوں توقع رکھتے ہو کہ وہ مانیں تمہاری بات اور ان میں ایک فرقہ تھا کہ سنتا تھا اللہ کا کلام پھر بدل ڈالتے تھے اس کو جان بوجھ کر اور وہ جانتے تھے [۶]

وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡٓا اٰمَنَّاۚۖ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ اِلٰي بَعۡضٍ قَالُوۡٓا اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوۡكُمۡ بِهٖ عِنۡدَ رَبِّكُمۡؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۶﴾

ترجمہ: اور جب ملتے ہیں مسلمانوں سے کہتے ہیں ہم مسلمان ہوئے اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس تو کہتے ہیں تم کیوں کہہ دیتے ہو ان سے جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر تاکہ جھٹلائیں تم کو اس سے تمہارے رب کے آگے کیا تم نہیں سمجھتے [۷]

اَوَلَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۷﴾

ترجمہ: کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں [۸]

وَمِنۡهُمۡ اُمِّيُّوۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِيَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾

ترجمہ: اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی سوائے جھوٹی آرزوؤں کے اور ان کے پاس کچھ نہیں مگر خیالات [۹]

فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ يَكۡتُبُوۡنَ الۡكِتٰبَ بِاَيۡدِيۡهِمۡ‌ق‌ ثُمَّ يَقُوۡلُوۡنَ هٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ لِيَشۡتَرُوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًاؕ فَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا كَتَبَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا يَكۡسِبُوۡنَ ﴿۷۹﴾

ترجمہ: سو خرابی ہے ان کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہہ دیتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مول سو خرابی ہے ان کو اپنے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی اس کمائی سے [۱۰]

وَقَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدَةًؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا فَلَنۡ يُّخۡلِفَ اللّٰهُ عَهۡدَهٗٓ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾

ترجمہ: اور کہتے ہیں ہم کو ہر گز آگ نہ لگے گی مگر چند روز گنے چنے [۱۱] کہدو کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار کہ اب ہرگز خلاف نہ کرے گا اللہ اپنے قرار کے یا جوڑتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے کیوں نہیں [۱۲]

بَلٰي مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيۡٓـَٔتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾

ترجمہ: جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے [۱۳] سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّةِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‌ع‌ ﴿۸۲﴾

ترجمہ: اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے نیک وہی ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 72–82 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] ایک دوسرے پر دھرنے لگے: بنی اسرائیل کے ماضی کا یہ واقعہ ہے کہ ان کے بزرگوں میں سے کچھ لوگوں نے "عامیل" نامی ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا۔ قتل کے بعد وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے اور اصل بات چھپانے کی کوشش کرنے لگے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما لیا تھا کہ جس حقیقت کو وہ چھپا رہے ہیں (یعنی قاتل کی اصل شناخت اور ان کے اپنے ایمان کی کمزوری)، اسے ہر حال میں سامنے لا کر رہے گا۔

[۲] اس گائے کا ایک ٹکڑا: اللہ کے حکم سے جب ذبح شدہ گائے کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے جسم سے چھوایا گیا تو وہ فوراً اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر اٹھ بیٹھا۔ اس کے زخموں سے خون بہنے لگا اور اس نے صاف لفظوں میں اپنے قاتلوں کے نام بتا دیے، جو دراصل اسی مقتول کے بھتیجے تھے۔ انہوں نے مال و دولت حاصل کرنے کے لالچ میں اپنے چچا کو جنگل لے جا کر مار ڈالا تھا۔ اپنے قاتلوں کا نام بتانے کے بعد وہ شخص دوبارہ انتقال کر گیا۔

[۳] اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کو: جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک بے جان مردے کو ذبح شدہ جانور کے ایک بے جان ٹکڑے کے ذریعے دیکھتے ہی دیکھتے زندہ فرما دیا، بالکل اسی طرح وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو مرنے کے بعد اپنی مکمل قدرت سے دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی ایسی کھلی نشانیاں اس لیے دکھاتا ہے تاکہ لوگ عقل سے کام لیں اور سمجھ جائیں کہ مردوں کو زندہ کرنا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔

[۴] اس سب کے بعد: یعنی عامیل کے دوبارہ زندہ ہونے کا اتنا کھلا معجزہ دیکھ لینے کے بعد بھی ان کے دلوں میں نرمی پیدا نہ ہوئی اور وہ ایمان کی طرف مائل نہ ہوئے۔

[۵] پتھر یا ان سے بھی سخت: ان کے دلوں کی سختی کا موازنہ پتھروں سے کیا گیا ہے، بلکہ ان کے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئے۔ پتھروں کی تو تین ایسی حالتیں ہیں جن میں کوئی نہ کوئی بھلائی یا اثر نظر آتا ہے: پہلی قسم کے پتھر وہ ہیں جن سے بڑی بڑی نہریں اور وافر پانی بہہ نکلتا ہے جس سے مخلوق کو بڑا فائدہ پہنچتا ہے۔ دوسری قسم کے پتھر وہ ہیں جو بیچ سے پھٹ جاتے ہیں اور ان سے کچھ پانی رس کر نکل آتا ہے، اس میں پہلی قسم جتنا بڑا نفع نہ سہی مگر کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ تیسری قسم کے وہ پتھر ہیں جو بلندی سے اللہ کے خوف کے اثر سے نیچے لڑھک پڑتے ہیں؛ ان سے دوسروں کو بظاہر نفع نہ پہنچے مگر کم از کم ان میں خود اللہ کی ہیبت کا ایک اثر موجود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ان ہٹ دھرم لوگوں کے دل ان تینوں قسم کے پتھروں سے بدتر نکلے؛ نہ تو ان کی ذات سے کسی بندے کو کوئی بھلائی یا نفع پہنچا، اور نہ ہی ان کے اپنے اندر خوفِ خدا کا کوئی اثر باقی رہا۔ اور یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و کرتوتوں سے ہرگز بے خبر نہیں ہے۔

[۶] بدل ڈالتے تھے اس کو: اے مسلمانو! کیا تم اب بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہو کہ یہ لوگ تم پر ایمان لے آئیں گے؟ ان کی تاریخ تو یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا گروہ گزرا ہے جو خود کلامِ الٰہی سنتا تھا اور پھر اسے جان بوجھ کر بدل دیتا تھا۔ اس سے مراد یا تو وہ ستر افراد ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوہِ طور پر کلامِ الٰہی سننے گئے تھے، اور انہوں نے واپس آ کر جھوٹ بول دیا کہ کلام کے آخر میں اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر تم احکام پر عمل کر سکو تو کر لینا، نہ کر سکو تو چھوڑ دینے کا بھی تمہیں اختیار ہے۔ یا پھر اس سے مراد ان کے وہ علماء ہیں جو تورات کے احکام اور الفاظ میں جان بوجھ کر رد و بدل کرتے تھے؛ کبھی نبی کریم ﷺ کی صفات و علامات کو بدل دیتے اور کبھی زنا کی سزا کے طور پر سنگسار کرنے (رجم) کے حکم کو کتاب سے غائب کر دیتے۔

[۷] جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر: یہودیوں میں سے کچھ لوگ جو منافقت کا راستہ اپنائے ہوئے تھے، جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنی کتاب کی باتیں بیان کر کے ان کی خوشامد کرتے کہ ہاں تمہارے نبی سچے ہیں اور ان کا ذکر ہماری کتاب میں موجود ہے۔ لیکن جب وہ آپس میں اکیلے ہوتے تو ان کے دوسرے ساتھی انہیں سخت ڈانٹتے کہ تم کیوں مسلمانوں کو اپنی کتاب کے ایسے راز بتاتے ہو جن سے ان کے حق میں دلیل مضبوط ہو؟ کیا تمہیں اتنی عقل بھی نہیں کہ قیامت کے دن وہ تمہارے رب کے حضور تمہاری ہی بتائی ہوئی باتوں کو تمہارے خلاف بطورِ حجت پیش کریں گے کہ تم سچائی جاننے کے باوجود ایمان کیوں نہ لائے، اور پھر تمہارے پاس کوئی جواب نہ ہوگا!

[۸] جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں: کیا وہ اتنی بنیادی بات بھی نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ تو ان کے چھپے اور کھلے سب احوال سے پوری طرح واقف ہے؟ وہ جن باتوں کو مسلمانوں سے چھپانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ جب چاہے مسلمانوں پر ظاہر فرما کر انہیں باخبر کر سکتا ہے اور اس نے بارہا ایسا فرمایا بھی۔ مثلاً انہوں نے رجم کے حکم کو چھپانے کی کوشش کی تھی، لیکن اللہ نے اسے واضح کر کے انہیں رسوا کر دیا۔ یہ شرمناک طرزِ عمل ان کے ان پڑھے لکھے لوگوں کا تھا جو علم اور فہم کے دعوے دار تھے۔

[۹] سوائے جھوٹی آرزوؤں کے: دوسری طرف ان کے عام ان پڑھ لوگوں کی حالت یہ تھی کہ انہیں آسمانی کتاب کا کوئی علمی علم نہ تھا، بس انہوں نے اپنے مفاد پرست علماء سے کچھ جھوٹی امیدیں اور من گھڑت باتیں سن رکھی تھیں اور انہی پر تکیہ کیے بیٹھے تھے۔ مثلاً یہ خیال کہ "جنت میں تو صرف یہودی ہی جائیں گے" یا یہ کہ "ہمارے بزرگ پیغمبر ہمیں ہر حال میں بخشوا لیں گے"۔ حقیقت میں ان باتوں کی کوئی شرعی دلیل ان کے پاس نہ تھی، یہ محض بے بنیاد خیالات اور وہم و گمان تھے۔

[۱۰] لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے: پس بڑی ہلاکت و بربادی ہے ان بددیانت علماء کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے من گھڑت باتیں لکھتے ہیں اور پھر ان جاہل عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے، تاکہ اس جھوٹ کے بدلے دنیا کا حقیر مفاد اور مال کما سکیں۔ مثلاً تورات میں نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک لکھا تھا کہ "آپ حسین و جمیل، گھنگھریالے بالوں والے، سیاہ چشم، درمیانے قد اور گندمی رنگت کے ہوں گے"۔ لیکن ان بدبختوں نے اسے بدل کر لکھ دیا کہ "وہ لمبے قد، نیلی آنکھوں اور سیدھے بالوں والے ہوں گے"، تاکہ ان کے عام لوگ حضور ﷺ کو پہچان کر ایمان نہ لے آئیں اور علماء کی سرداری اور نذرانے بند نہ ہو جائیں۔ لہٰذا بربادی ہے ان کے لیے اس تحریر کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی، اور بربادی ہے ان کے لیے اس ناجائز کمائی کی وجہ سے جو وہ اس بددیانتی سے سمیٹ رہے ہیں۔

[۱۱] چند روز گنے چنے: وہ اپنی قوم میں یہ باطل خیال پھیلائے ہوئے تھے کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند گنتی کے دنوں کے سوا چھو بھی نہ سکے گی۔ اس مدت کے بارے میں ان کے مختلف دعوے تھے: بعض کہتے تھے صرف سات دن، بعض کہتے تھے چالیس دن یعنی جتنے دن ان کے آبا و اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، بعض چالیس سال کہتے تھے یعنی جتنے سال میدانِ تیہ میں بھٹکتے رہے، اور بعض کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو صرف اتنے ہی دن سزا ملے گی جتنی اس کی دنیاوی عمر تھی۔

[۱۲] کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار: اے نبی، آپ ان سے فرمائیے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کا کوئی تحریری وعدہ ہے جس کی وہ کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا؟ یا تم اللہ کے ذمے ایسی جھوٹی باتیں لگاتے ہو جن کی کوئی حقیقت تم خود بھی نہیں جانتے؟ یہ خیال بالکل باطل ہے کہ کوئی شخص محض یہودی ہونے کی بنا پر ہمیشہ کے عذاب سے بچ جائے گا۔ نجات اور عذاب کا ایک اٹل الٰہی اصول ہے جس کی وضاحت اگلی آیت میں کی جا رہی ہے۔

[۱۳] گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے: گناہ کے احاطہ کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ برائی اور کفر انسان پر ہر طرف سے ایسا غالب آ جائے کہ اس کی ذات کا کوئی ایک رُخ بھی گناہ کے غلبے سے خالی نہ بچے۔ ظاہر ہے کہ اگر دل کے کسی گوشے میں ذرہ برابر ایمان اور تصدیق باقی ہو، تو پھر گناہ کا یہ مکمل گھیراؤ ممکن نہیں رہتا۔ پس یہ حالت صرف کافر ہی پر صادق آ سکتی ہے جو ایمان سے بالکل خالی ہو۔ ایسے ہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلنے والے ہیں۔

اہم الفاظ و مفاہیم

  • فَادَّارَأْتُمْ: مادہ «د-ر-أ» ہے، بنیادی معنی دھکیلنے یا ہٹانے کے ہیں۔ آیت میں اس کا مطلب ہے: تم ایک دوسرے پر جرم دھکیلنے اور الزام تراشی کرنے لگے۔
  • قَسَتْ: مادہ «ق-س-و» ہے، بنیادی معنی سختی اور کھردرا پن کے ہیں۔ آیت میں دلوں کی وہ حالت مراد ہے جہاں نصیحت قبول کرنے اور رحم کھانے کی صلاحیت ختم ہو جائے۔
  • أُمِّیُّوْنَ: مادہ «أ-م-م» ہے، "اُمّی" کی جمع ہے یعنی وہ لوگ جو لکھنا پڑھنا نہ جانتے ہوں۔ یہاں مراد بنی اسرائیل کے وہ عام لوگ ہیں جو تورات کے اصل متون سے بے خبر تھے۔
  • أَمَانِیَّ: مادہ «م-ن-ی» ہے، "اُمنیۃ" کی جمع ہے۔ اس کے معنی دلی آرزو، جھوٹی تمنا اور من گھڑت خیالات کے ہیں۔
  • أَحَاطَتْ: مادہ «ح-و-ط» ہے، چاروں طرف سے گھیر لینے کو کہتے ہیں۔ آیت میں گناہ کا اس حد تک مسلط ہو جانا مراد ہے کہ ایمان کا نام و نشان باقی نہ رہے۔

تدبر و عملی رہنمائی

  1. معجزات سے زیادہ دل کی آمادگی ضروری ہے: بنی اسرائیل نے مردے کو اپنی آنکھوں سے زندہ ہوتے دیکھا، مگر دل کی سختی دور نہ ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض بڑی نشانیاں یا دلائل انسان کو راہِ راست پر نہیں لاتے جب تک کہ دل میں سچائی کو قبول کرنے کی طلب اور عاجزی نہ ہو۔
  2. سخت دلی سے پناہ: قرآن نے پتھروں کی مختلف صفات گنوا کر واضح کیا کہ بے جان مادے میں بھی اللہ کے حکم کا اثر ہو سکتا ہے، مگر بدقسمت انسان کا دل کبھی پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ دل کی سختی گناہوں پر اصرار اور کلامِ الٰہی سے بے رغبتی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
  3. مذہبی پیشوائیت کا زوال اور مفاد پرستی: اہلِ کتاب کے علماء نے دنیوی مفادات اور عوام پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے احکامِ الٰہی کو مسخ کیا۔ یہ ہر دور کے اہلِ علم کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے کہ وہ دنیوی فائدے یا عوام کی خوشنودی کے لیے دین کی غلط تعبیر نہ کریں۔
  4. بے بنیاد خوش فہمیوں سے نجات: نجات کا دارومدار کسی خاص نسل، خاندان یا گروہ سے نسبت پر نہیں ہے۔ یہ خیال باطل ہے کہ "ہم چونکہ فلاں بزرگ یا امت سے ہیں، اس لیے عذاب سے محفوظ رہیں گے"۔ اللہ کا انصاف سب کے لیے یکساں ہے؛ ابدی کامیابی صرف سچے ایمان اور نیک اعمال پر موقوف ہے۔

خلاصۂ تفسیر

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے گائے کے ذبح کے واقعے کا حقیقی پس منظر واضح فرمایا کہ کس طرح ایک مقتول کے زندہ ہونے سے اس کے قاتل بے نقاب ہوئے اور قیامت کی حیات بعد الموت کی عملی دلیل سامنے آئی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے دلوں کی غیر معمولی سختی، ان کے علماء کی بددیانتی، کلامِ الٰہی میں تحریف اور ان پڑھ عوام کی خوش فہمیوں کا پردہ چاک کیا گیا۔ آخر میں یہ اٹل فیصلہ سنا دیا گیا کہ نجات کسی نسلی امتیاز پر نہیں بلکہ کفر و گناہ کے مکمل گھیراؤ کی صورت میں ہمیشہ کی جہنم ہے، اور سچے ایمان و صالح اعمال پر ہمیشہ کی جنت ہے۔

ماخذ و حوالہ جات

  • تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (زیرِ تفسیر آیات: البقرۃ: ۷۲ تا ۸۲)
  • ترجمہ قرآنِ مجید — شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:
شیئر کریں