نوائے فاروقی

نوائے فاروقی

علم، حقیقت اور آگاہی، قرآن و سنت کی روشنی میں

قرآنِ کریم کی تلاوت اور اردو ترجمہ، تدبرِ قرآن، احادیثِ نبوی ﷺ (اربعین نووی اور ریاض الصالحین) اور مستند تاریخِ اسلام: عربی متن، آسان اردو ترجمہ اور مختصر تشریح کے ساتھ۔

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۲۱ تا ۲۹

سورۃ البقرہ آیات ۲۱ تا ۲۹ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں تمام انسانوں کو توحید کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ صرف اس ایک اللہ کی بندگی کریں جس نے…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. اہم الفاظ و مفاہیم
  5. تدبر و عملی رہنمائی
  6. خلاصۂ تفسیر
  7. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

پچھلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تین مختلف گروہوں — مومنین، کافروں اور منافقوں — میں تقسیم کر کے ان کا انجام بیان کیا تھا۔ اس رکوع کا مرکزی موضوع توحیدِ باری تعالیٰ کا اثبات اور حق کی حقانیت کو دلائل سے واضح کرنا ہے۔

قرآنِ پاک اب تمام انسانوں کو مخاطب کر کے اس ذاتِ واحد کی طرف بلاتا ہے جس نے کائنات کا یہ سارا نظام سجایا ہے۔ انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ اپنی پیدائش سے لے کر موت اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے تک ہر لمحہ اپنے رب کا محتاج ہے، تو پھر اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنا یا اس کے کلام میں شک کرنا عقل اور فطرت دونوں کے صریح خلاف ہے۔

آیات کا متن اور ترجمہ

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ ﴿۲۱﴾

ترجمہ: اے لوگو بندگی کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ

الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً‌ص‌ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّكُمۡۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا وَّاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾

ترجمہ: جس نے بنایا واسطے تمہارے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتار آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے میوے تمہارے کھانے کے واسطے سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے مقابل اور تم تو جانتے ہو [۱]

وَاِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰي عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ‌ص‌ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿۲۳﴾

ترجمہ: اور اگر تم شک میں ہو اس کلام سے جو اتارا ہم نے اپنے بندہ پر تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی [۲] اور بلاؤ اس کو جو تمہارا مددگار ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو [۳]

فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَلَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيۡ وَقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُۚۖ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴿۲۴﴾

ترجمہ: پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور ہر گز نہ کر سکو گے تو پھر بچو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار کی ہوئی ہے کافروں کے واسطے [۴]

وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُؕ كُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًاۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِيۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًاؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَآ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّهُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۵﴾

ترجمہ: اور خوشخبری دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ان کے واسطے باغ ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں جب ملے گا ان کو وہاں کا کوئی پھل کھانے کو تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ملا تھا ہم کو اس سے پہلے اور دیئے جائیں گے ان کو پھل ایک صورت کے [۵] اور ان کے لئے وہاں عورتیں ہوں گی پاکیزہ اور وہ وہیں ہمیشہ رہیں گے [۶]

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡيٖٓ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَاؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَيَقُوۡلُوۡنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاۘ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيۡرًا وَّيَهۡدِيۡ بِهٖ كَثِيۡرًاؕ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الۡفٰسِقِيۡنَۙ ﴿۲۶﴾

ترجمہ: بیشک اللہ شرماتا نہیں اس بات سے کہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے [۷] سو جو لوگ مومن ہیں وہ یقیناً جانتے ہیں کہ یہ مثال ٹھیک ہے جو نازل ہوئی ان کے رب کی طرف سے اور جو کافر ہیں سو کہتے ہیں کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے گمراہ کرتا ہے خدائے تعالیٰ اس مثال سے بہتیروں کو اور ہدایت کرتا ہے اس سے بہتیروں کو [۸] اور گمراہ نہیں کرتا اس مثل سے مگر بدکاروں کو

الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۭۡ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ‌ص‌ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۲۷﴾

ترجمہ: جو توڑتے ہیں خدا کے معاہدہ کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے فرمایا ملانے کو [۹] اور فساد کرتے ہیں ملک میں وہی ہیں ٹوٹے والے

كَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَكُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡيَاكُمۡۚ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۸﴾

ترجمہ: کس طرح کافر ہوتے ہو خدا تعالیٰ سے حالانکہ تم بے جان تھے [۱۰] پھر جلایا تم کو [۱۱] پھر مارے گا تم کو [۱۲] پھر جلائے گا تم کو [۱۳] پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے [۱۴]

هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا‌ق‌ ثُمَّ اسۡتَوٰٓي اِلَي السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍؕ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ‌ع‌ ﴿۲۹﴾

ترجمہ: وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے واسطے جو کچھ زمین میں ہے سب پھر قصد کیا آسمان کی طرف سو ٹھیک کر دیا ان کو سات آسمان اور خدا تعالیٰ ہر چیز سے خبردار ہے [۱۵]

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 21–29 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے مقابل: اللہ تعالیٰ نے تم کو اور تم سے پہلے گزرنے والے انسانوں کو پیدا کیا، اور تمہاری تمام ضروریات کا سامان کیا۔ اب اتنی نعمتیں پانے کے بعد کسی اور کو اس کا شریک ٹھہرانا سراسر حماقت ہے، حالانکہ تم اندر سے یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔

[۲] تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی: قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کسی کے دل میں پھر بھی کوئی شک ہو کہ یہ کسی انسان کا کلام ہے، تو اسے چیلنج ہے کہ وہ عرب کے مانے ہوئے فصحاء اور شعراء کی مدد لے کر اس جیسی صرف ایک چھوٹی سی سورت بنا لائے۔ جب بڑے سے بڑا ماہرِ زبان بھی اس میں ناکام رہتا ہے، تو یہ اس بات کا پختہ ثبوت بن جاتا ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ ربِ کائنات کا معجزہ ہے۔

[۳] اور بلاؤ اس کو جو تمہارا مددگار ہو: یعنی اپنے تمام معبودوں اور مددگاروں کو اکٹھا کر لو اور ان سے فریاد کرو کہ اس مشکل کام میں تمہاری مدد کریں۔

[۴] پھر اگر ایسا نہ کر سکو: جب تم اس جیسی ایک سورت بھی نہ بنا سکے اور یہ حقیقت ہے کہ تم قیامت تک کبھی نہیں بنا سکو گے، تو اس دوزخ کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور وہ پتھر ہوں گے جن کی تم پوجا کرتے تھے۔ اس عذاب سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اس سچے کلام پر ایمان لے آؤ۔

[۵] کہ یہ تو وہی ہے جو ملا تھا ہم کو اس سے پہلے: جنت کے پھل شکل و صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے لیکن لذت اور ذائقے میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ جب جنتیوں کو کوئی پھل دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا، لیکن چکھنے پر اس کا مزہ بالکل نرالا اور پہلے سے بڑھ کر پائیں گے۔

[۶] اور ان کے لئے وہاں عورتیں ہوں گی پاکیزہ: جنت کی یہ پاکیزہ خواتین ظاہری جسمانی آلائشوں اور دل و دماغ کی ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے بالکل پاک اور صاف ہوں گی۔

[۷] بیشک اللہ شرماتا نہیں اس بات سے: جب کفار اس قرآن کا مقابلہ کرنے میں عاجز آگئے، تو انہوں نے ایک نیا اعتراض تراشا کہ اللہ جیسا عظیم الشان خدا اتنی حقیر چیزوں یعنی مکھی، مکڑی یا مچھر کی مثالیں اپنے کلام میں کیوں بیان کرتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مثال کا مقصد صرف بات کو سمجھانا اور واضح کرنا ہوتا ہے۔ اگر اصل چیز چھوٹی یا حقیر ہے تو مثال بھی ویسی ہی دینی پڑے گی ورنہ بات سمجھ نہیں آئے گی۔ دوسری طرف ایمان والے ان مثالوں کو اپنے رب کی طرف سے سراسر حق اور حکمت پر مبنی جانتے ہیں، جبکہ بدکار لوگ اس سے گمراہی میں پڑ جاتے ہیں۔

[۸] اور گمراہ کرتا ہے اس سے بہتیروں کو: اللہ تعالیٰ ایسی مثالوں کے ذریعے حق اور باطل کے ماننے والوں میں فرق ظاہر کرتا ہے، جس سے نیک لوگ مزید ہدایت پاتے ہیں اور ہٹ دھرم لوگ اپنی ضد کی وجہ سے مزید گمراہی میں چلے جاتے ہیں۔

[۹] جو توڑتے ہیں خدا کے معاہدہ کو: بدکاروں کا ایک بڑا نشان یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑ دیتے ہیں، ہر اس تعلق کو کاٹتے ہیں جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے (مثلاً رشتہ داریاں، صلحائے امت اور انبیاء سے محبت)، اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔

[۱۰] حالانکہ تم بے جان تھے: انسان اپنی ابتدائی حالت میں مٹی، پانی اور نطفے کی شکل میں بے جان تھا، جس میں کوئی حس یا حرکت نہ تھی۔

[۱۱] پھر جلایا تم کو: پھر اللہ نے ماں کے رحم میں اس مردہ مادہ میں روح پھونکی اور تمہیں دنیا میں زندگی عطا کی۔

[۱۲] پھر مارے گا تم کو: پھر ایک مقررہ وقت پر تمہاری یہ دنیاوی زندگی ختم کر کے تمہیں موت دی جائے گی۔

[۱۳] پھر جلائے گا تم کو: اور پھر قیامت کے دن تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

[۱۴] پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے: جب تم قبروں سے اٹھ کر اپنے حساب کتاب کے لیے اللہ کے سامنے پیش ہو گے، تو ذرا سوچو کہ جو رب تمہیں زندگی سے موت اور پھر زندگی کی طرف لے کر آیا، اس کی نافرمانی کرنا کس قدر نادانی ہے؟

[۱۵] وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے واسطے: اللہ نے زمین کی تمام چیزیں تمہاری آسائش اور فائدے کے لیے پیدا کیں، اور پھر آسمان کی طرف متوجہ ہو کر انہیں باقاعدہ حکمت کے ساتھ سات آسمانوں کی شکل میں درست کیا۔ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔

اہم الفاظ و مفاہیم

  • أنداد (أنداداً): یہ نِدّ کی جمع ہے، اس کا مادہ ن د د ہے۔ لغوی معنی ہمسر یا برابر کے ہیں۔ آیت میں مراد وہ معبود ہیں جنہیں انسان اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔
  • ريب: مادہ ر ي ب۔ شک، تردد اور دل کا وہ اضطراب جو کسی بات پر مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے ہو۔
  • بعوضة: مادہ ب ع ض۔ مچھر یا اس جیسی انتہائی چھوٹی چیز۔
  • قطع (يقطعون): مادہ ق ط ع۔ کاٹنا۔ یہاں رشتہ داریوں، تعلقات اور اللہ کے احکام سے ناطہ توڑنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

تدبر و عملی رہنمائی

اس رکوع میں قرآن کریم نے انسان کی تخلیق اور کائنات کے نظام کو اتنے دلنشین انداز میں پیش کیا ہے کہ عقل بے ساختہ پکار اٹھتی ہے کہ یہ سب کچھ کسی خود بخود بن جانے والے حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ہستی کی کاریگری ہے جو ہر چیز کا علم رکھتی ہے۔

ہمارا وجود اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ ہم نے خود کو پیدا نہیں کیا۔ جو ذات مٹی اور پانی کے قطرے سے ہمیں یہ خوبصورت زندگی دے سکتی ہے، وہ ہمیں دوبارہ بھی زندہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ اس حقیقت کو جان لینے کے بعد زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، صلاحیتوں اور مال و دولت کو خالقِ حقیقی کے بتائے ہوئے راستے پر لگائے، کسی عارضی دنیاوی مفاد کے لیے اپنی اخلاقی اقدار اور رشتوں کے تعلقات کو نہ توڑے، اور قرآن کو محض ایک کتاب سمجھنے کے بجائے اپنی زندگی کا واحد رہنما بنا لے۔

خلاصۂ تفسیر

اس رکوع میں تمام انسانوں کو توحید کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ صرف اس ایک اللہ کی بندگی کریں جس نے زمین و آسمان کا پورا نظام ان کی خدمت کے لیے بنایا ہے۔ قرآن کی حقانیت پر شک کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ وہ اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر دکھائیں، جس میں وہ سراسر ناکام رہیں گے۔ آخر میں انسان کو اس کی پیدائش سے لے کر موت اور دوبارہ اٹھائے جانے تک کے مراحل یاد دلاتے ہوئے یہ سمجھایا گیا ہے کہ اتنے احسانات کے بعد کفر اور نافرمانی کی راہ اختیار کرنا عقل کے بالکل خلاف ہے۔

ماخذ و حوالہ جات

  • تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:
شیئر کریں