سیاق و سباق / ربطِ آیات
سورۃ البقرۃ کی پہلی پانچ آیات میں سچے مومنوں کے اوصاف اور فلاح کا ذکر ہوا، پھر اگلی دو آیات میں کھلے کافروں کا انجام بتایا گیا جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ اب اس دوسرے رکوع کا مرکزی موضوع ایک تیسرے اور نہایت خطرناک گروہ کی نقاب کشائی ہے، جسے "منافقین" کہا جاتا ہے۔
کھلا دشمن تو پہچانا جاتا ہے اور اس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے، مگر اس شخص کا کیا کیجیے جو بظاہر آپ کا دوست بن کر آپ کی صفوں میں بیٹھے اور اندر سے دشمن کے ساتھ ملا ہوا ہو؟ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اسی دوغلے پن، اس کی باطنی بیماری، اور اس کے بھیانک انجام کو بڑی تفصیل اور دو خوبصورت تمثیلوں کے ذریعے بے نقاب فرمایا ہے۔
آیات کا متن اور ترجمہ
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَۘ ﴿۸﴾
ترجمہ: اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہر گز مومن نہیں [۱]
يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۚ وَمَا يَخۡدَعُوۡنَ اِلَّآ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَؕ ﴿۹﴾
ترجمہ: دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور ایمان والوں سے اور دراصل کسی کو دغا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سوچتے [۲]
فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۭ۵ۙ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ ﴿۱۰﴾
ترجمہ: ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھا دی اللہ نے ان کی بیماری [۳] اور ان کے لئے عذاب دردناک ہے اس بات پر کہ جھوٹ کہتے تھے [۴]
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡٓا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾
ترجمہ: اور جب کہا جاتا ہے ان کو فساد نہ ڈالو ملک میں تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں [۵]
اَلَآ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾
ترجمہ: جان لو وہی ہیں خرابی کرنے والے لیکن نہیں سمجھتے [۶]
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡٓا اَنُؤۡمِنُ كَمَآ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ اَلَآ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳﴾
ترجمہ: اور جب کہا جاتا ہے ان کو ایمان لاؤ جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں [۷] کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف [۸] جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے [۹]
وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡٓا اٰمَنَّاۚۖ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰي شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡٓا اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ ﴿۱۴﴾
ترجمہ: اور جب ملاقات کرتے ہیں مسلمانوں سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس [۱۰] تو کہتے ہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں [۱۱] ہم تو ہنسی کرتے ہیں [۱۲] (یعنی مسلمانوں سے)
اَللّٰهُ يَسۡتَهۡزِئُ بِهِمۡ وَيَمُدُّهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴿۱۵﴾
ترجمہ: اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے [۱۳] اور ترقی دیتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) حالت یہ ہے کہ وہ عقل کے اندھے ہیں [۱۴]
اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالۡهُدٰيص فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ﴿۱۶﴾
ترجمہ: یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے سو نافع نہ ہوئی ان کی سوداگری [۱۵] اور نہ ہوئے راہ پانے والے [۱۶]
مَثَلُهُمۡ كَمَثَلِ الَّذِي اسۡتَوۡقَدَ نَارًاۚ فَلَمَّآ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوۡرِهِمۡ وَتَرَكَهُمۡ فِيۡ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۷﴾
ترجمہ: ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب روشن کر دیا آگ نے اس کے آس پاس کو تو زائل کر دی اللہ نے ان کی روشنی اور چھوڑا ان کو اندھیروں میں کہ کچھ نہیں دیکھتے [۱۷]
صُمٌّۭ بُكۡمٌ عُمۡيٌ فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُوۡنَۙ ﴿۱۸﴾
ترجمہ: بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں لوٹیں گے [۱۸]
اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِيۡٓ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌۭ بِالۡكٰفِرِيۡنَ ﴿۱۹﴾
ترجمہ: یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے زور سے مینہ پڑ رہا ہو آسمان سے اس میں اندھیرے ہیں اور گرج اور بجلی دیتے ہیں انگلیاں اپنے کانوں میں مارے کڑک کے موت کے ڈر سے اور اللہ احاطہ کرنے والا ہے کافروں کا [۱۹]
يَكَادُ الۡبَرۡقُ يَخۡطَفُ اَبۡصَارَهُمۡؕ كُلَّمَآ اَضَآءَ لَهُمۡ مَّشَوۡا فِيۡهِقۙ وَاِذَآ اَظۡلَمَ عَلَيۡهِمۡ قَامُوۡاؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمۡعِهِمۡ وَاَبۡصَارِهِمۡؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌع ﴿۲۰﴾
ترجمہ: قریب ہے کہ بجلی اچک لے ان کی آنکھیں جب چمکتی ہے ان پر تو چلنے لگے ہیں اس کی روشنی میں اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لے جائے ان کے کان اور آنکھیں بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۲۰]
حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 8–20 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
تفسیری حواشی
[۱] اور وہ ہر گز مومن نہیں: یعنی وہ دل سے ایمان نہیں لائے، جو کہ ایمان کی اصل حقیقت ہے۔ وہ محض زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو دھوکا دے سکیں۔
[۲] اور دراصل کسی کو دغا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سوچتے: ان کا یہ دھوکا نہ تو اللہ پر چل سکتا ہے کیونکہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتا ہے، اور نہ ہی مومنوں پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے ذریعے اور مختلف نشانیوں سے مسلمانوں کو ان کے فریب سے باخبر کر دیتا ہے۔ حقیقت میں اس فریب کاری کا برا انجام خود انہی پر الٹتا ہے، مگر وہ اپنی غفلت، نادانی اور شرارت کے سبب اس بات پر غور نہیں کرتے۔ اگر ذرا سوچیں تو سمجھ جائیں کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے وہ دراصل اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔
[۳] ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھا دی اللہ نے ان کی بیماری: ان کے دلوں میں منافقت، اسلام سے بیزاری اور مسلمانوں کے خلاف حسد اور دشمنی کی بیماری پہلے سے موجود تھی۔ جب انہوں نے قرآن کا نزول دیکھا، اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھی اور مسلمانوں کی ترقی اور کامیابیوں کا مشاہدہ کیا، تو ان کی یہ باطنی جلن اور بیماری اور زیادہ بڑھ گئی۔
[۴] اس بات پر کہ جھوٹ کہتے تھے: یہاں جھوٹ کہنے سے مراد ایمان کا وہی جھوٹا دعویٰ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا کہ "ہم اللہ اور آخرت پر ایمان لائے"۔ یعنی یہ دردناک عذاب حقیقت میں ان کے اسی منافقانہ دعوے کی سزا ہے، نہ کہ صرف عام بات چیت میں جھوٹ بولنے کی۔
[۵] ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں: منافقین کئی طریقوں سے زمین میں بگاڑ پھیلاتے تھے: ایک تو اپنی نفسانی خواہشات میں ڈوبے ہوئے تھے اور شرعی احکام پر عمل سے کتراتے تھے؛ دوسرے، مسلمانوں اور کافروں دونوں کے پاس جا کر اپنی اہمیت جتلانے کے لیے ادھر کی باتیں ادھر پہنچاتے تھے؛ تیسرے، کافروں کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے ملتے اور دین کی مخالفت پر انہیں بالکل نہ روکتے، بلکہ ان کے شکوک و شبہات مسلمانوں کے سامنے لا کر کمزور سمجھ والے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے۔ جب کوئی انہیں اس بگاڑ سے منع کرتا تو کہتے کہ ہم تو صلح کرانے والے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام لوگ پرانے وقتوں کی طرح شیر و شکر رہیں تاکہ نئے دین سے پیدا ہونے والی دوری ختم ہو جائے۔ دنیا پرست لوگ ہر دور میں یہی رویہ اپناتے ہیں۔
[۶] لیکن نہیں سمجھتے: اصل اصلاح یہ ہے کہ سچا دین تمام باطل طریقوں پر غالب رہے، دنیاوی مفادات پر احکامِ الٰہی کو ترجیح دی جائے، اور دین کے معاملے میں کسی کی مخالفت یا موافقت کی پروا نہ کی جائے۔ منافقین مصلحت اور مصالحت کے نام پر جو رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں وہ سراسر فساد ہے، مگر انہیں اس کا ذرا بھی شعور نہیں۔
[۷] تو کہتے ہیں: یعنی منافقین یہ بات اپنے دلوں میں کہتے تھے، یا آپس میں، یا مسلمانوں کے ان کمزور لوگوں سے کہتے تھے جنہیں انہوں نے اپنا رازدار بنا رکھا تھا۔
[۸] کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف: انہوں نے سچے مسلمانوں کو اس لیے بے وقوف کہا کہ وہ اللہ کے احکام پر دل و جان سے فدا تھے، اور اس راہ میں نہ لوگوں کی مخالفت کی پروا کرتے تھے اور نہ بدلتے حالات کی مشکلات سے اپنا بچاؤ ڈھونڈتے تھے۔ اس کے برعکس منافقین نے مسلمانوں اور کافروں دونوں سے بنا رکھی تھی، اپنی خواہشات کے پیچھے آخرت سے بے پروا تھے، اور اس حد تک مصلحت پسند تھے کہ سچے دل سے ایمان اور عمل کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے؛ صرف زبانی اقرار اور مجبوری کی حد تک دکھاوے کے عمل پر قناعت کیے ہوئے تھے۔
[۹] جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے: حقیقی بے وقوف تو خود منافقین ہیں جنہوں نے دنیا کے چند روزہ اور ناپائیدار فائدوں کی خاطر آخرت کو گنوا دیا۔ فانی چیز کو اپنانا اور ہمیشہ رہنے والی کو چھوڑ دینا کتنی بڑی حماقت ہے! اس مخلوق سے تو ڈرتے ہیں جس سے انسان کئی طرح بچاؤ کر سکتا ہے، مگر اس ذات سے نہیں ڈرتے جو ہر غیب سے باخبر ہے اور جس کی پکڑ سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ایسی صلح جوئی کا کیا فائدہ جس میں سب کے مالک اور اس کے مقبول بندوں سے ہی مخالفت مول لے لی جائے؟ مگر منافقین اتنے بے عقل ہیں کہ اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے۔
[۱۰] اپنے شیطانوں کے پاس: شیطانوں سے مراد شریر لوگ ہیں، یعنی یا تو وہ کافر مراد ہیں جو کھلم کھلا کفر کرتے تھے، یا منافقین کے اپنے وہ سردار مراد ہیں جنہیں وہ بڑا مانتے تھے۔
[۱۱] بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں: یعنی اندر سے اور عقیدے کے اعتبار سے ہم بالکل تمہارے ساتھ ہیں اور کسی حالت میں تم سے الگ نہیں ہو سکتے۔
[۱۲] ہم تو ہنسی کرتے ہیں: یعنی مسلمانوں سے ظاہری میل جول کا یہ مطلب نہیں کہ ہم واقعی ان کے ساتھ ہیں۔ ہم تو دراصل ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ہمارے عمل اور قول میں کھلا تضاد ہونے کے باوجود، وہ محض زبانی کلمے پر ہمیں مسلمان سمجھ کر ہمارے جان و مال پر ہاتھ نہیں ڈالتے، مالِ غنیمت میں حصہ دار بناتے ہیں، اور ہم ان کی راز کی باتیں معلوم کر لیتے ہیں مگر وہ ہماری چالیں نہیں بھانپ پاتے۔
[۱۳] اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے: چونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ منافقین کے ساتھ ظاہری طور پر مسلمانوں جیسا سلوک کریں اور ان کے جان و مال کو نہ چھیڑیں، اس لیے منافقین سمجھے کہ جو فائدے سچے مسلمانوں کو حاصل ہیں وہ ہمیں بھی صرف زبانی دعوے سے مل گئے۔ وہ اس پر مطمئن ہو بیٹھے، حالانکہ انجام کے اعتبار سے یہی ڈھیل ان کے لیے سخت تباہی کا سبب بنے گی۔ اس لیے درحقیقت مذاق مسلمانوں کا نہیں بلکہ خود ان کا بنا؛ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس تمسخر کا پورا بدلہ اور سزا انہیں دے گا۔
[۱۴] اور ترقی دیتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں: اللہ کی طرف سے انہیں مہلت اور ڈھیل ملی تو وہ سرکشی میں اور آگے بڑھ گئے اور انجام سے بالکل غافل ہو کر خوش ہوتے رہے کہ وہ مسلمانوں سے ہنسی کر رہے ہیں، حالانکہ معاملہ اس کے بالکل الٹ تھا۔
[۱۵] ﴿فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ﴾ (سو نافع نہ ہوئی ان کی سوداگری): سوداگری اور تجارت سے مراد وہی بات ہے جو اس سے پہلے بیان ہوئی، یعنی ہدایت کے بدلے گمراہی کو خرید لینا۔
[۱۶] اور نہ ہوئے راہ پانے والے: منافقین نے ظاہر میں ایمان قبول کیا اور دل میں کفر چھپائے رکھا، جس کی وجہ سے آخرت میں عذاب کے مستحق بنے اور دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوئے، کیونکہ اللہ نے قرآن میں ان کی حقیقت سب پر کھول دی۔ اگر وہ سچا ایمان لاتے تو دونوں جہانوں میں سرخرو ہوتے۔ اس طرح ان کے اس سودے نے نہ دنیا میں کوئی فائدہ دیا اور نہ آخرت میں۔ وہ محض زبانی کلمے کو کافی سمجھ کر اس خسارے اور رسوائی میں گرفتار ہو گئے۔
[۱۷] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی...: منافقوں کی حالت ایسی ہے جیسے کسی نے گھپ اندھیری رات میں جنگل کا راستہ دیکھنے کے لیے آگ جلائی، اور جب آگ نے اردگرد کو روشن کیا اور راستہ دکھائی دینے ہی لگا تھا کہ اللہ نے اس کی روشنی بجھا دی اور وہ تاریکی میں حیران کھڑا رہ گیا کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح منافقین نے مسلمانوں کے خوف سے کلمۂ شہادت کی روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہا، مگر ابھی جان و مال کے تحفظ کا تھوڑا سا دنیاوی فائدہ ہی پایا تھا کہ کلمے کی وہ ظاہری روشنی اور فوائد ختم ہو گئے اور مرتے ہی وہ دردناک عذاب میں جا گرے۔
[۱۸] بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں لوٹیں گے: وہ ایسے بہرے ہیں جو حق بات سنتے نہیں، ایسے گونگے ہیں جو سچائی کا اعتراف نہیں کرتے، اور ایسے اندھے ہیں جو اپنا نفع اور نقصان دیکھ نہیں پاتے۔ جو شخص بیک وقت بہرا، گونگا اور اندھا ہو وہ بھلا سیدھی راہ پر کیسے واپس آئے؟ اگر صرف اندھا ہوتا تو کسی کو پکار کر یا کسی کی سن کر راستہ پا لیتا۔ اس لیے اب ان سے حق کی طرف لوٹنے کی کوئی امید نہیں۔
[۱۹] یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے زور سے مینہ پڑ رہا ہو...: ان منافقین کی دوسری مثال ان مسافروں جیسی ہے جو طوفانی بارش میں پھنس گئے ہوں۔ آسمان پر گہرے بادلوں، موسلادھار بارش اور رات کے سبب گھپ اندھیرا چھایا ہو، اور ساتھ ہی بجلی کی کڑک اس قدر خوفناک ہو کہ وہ موت کے ڈر سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہوں تاکہ دھماکے سے جان نہ نکل جائے۔ منافقین بھی شریعت کے احکام، وعیدوں اور اپنی رسوائی کے خوف سے سخت کشمکش اور پریشانی میں مبتلا ہیں، اور بیکار تدبیروں سے جان بچانا چاہتے ہیں؛ مگر اللہ کی قدرت نے تمام منکرین کا گھیراؤ کر رکھا ہے اور وہ اس کی پکڑ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے۔
[۲۰] قریب ہے کہ بجلی اچک لے ان کی آنکھیں...: منافقین اپنی گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں، لیکن جب اسلام کا غلبہ، فتوحات اور معجزات دیکھتے ہیں یا شرعی تنبیہات سنتے ہیں تو وقتی طور پر چونک کر سیدھے راستے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، اور جب دین کی راہ میں کوئی دنیاوی تکلیف یا قربانی سامنے آتی ہے تو ٹھٹک کر کفر پر اڑ جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے اندھیرے اور طوفان میں بجلی چمکی تو دو قدم چل پڑے، اور جب اندھیرا چھایا تو وہیں جامد کھڑے رہ گئے۔ چونکہ اللہ ہر بات سے باخبر ہے اور اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، اس لیے ایسے حیلوں اور چالاکیوں سے کوئی کام نہیں بن سکتا۔
ضروری علمی وضاحت
قرآنِ کریم میں منافقین کے طرزِ عمل کو دل کی ایک بیماری (مرض) قرار دیا گیا ہے۔ باطنی امراض کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ جب انسان ان کا بروقت علاج نہیں کرتا تو حق کی ہر نئی دلیل اور ہدایت ان کے حسد اور عناد کو مزید بھڑکاتی ہے، جس سے بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے۔
آیت ۱۵ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے منافقین کی سرکشی میں ڈھیل دینے کا جو ذکر ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب انسان مسلسل حق کا انکار کرتا ہے اور فریب کاری پر اصرار کرتا ہے، تو اللہ کا قانونِ مہلت حرکت میں آتا ہے۔ بظاہر انہیں دنیاوی کامیابیاں اور مہلت ملتی رہتی ہے، مگر درحقیقت یہی مہلت ان کی دائمی پکڑ کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
متعلقہ قرآن و حدیث
رسول اللہ ﷺ نے منافق کے باطنی تضاد اور اس کی عملی علامتوں کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: (صحیح البخاری، حدیث 33)
صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر 33
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ".
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اسے امانت دار بنایا جائے تو خیانت کرے۔»
مکمل سند و متن (عربی)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ".
اہم الفاظ و مفاہیم
- يُخَادِعُونَ (مادہ: خ د ع): کسی کو دھوکا دینا، اپنے اصل ارادے کو چھپا کر ظاہر میں کچھ اور دکھانا۔ آیت میں اس سے مراد ان کا جھوٹا زبانی اقرار ہے۔
- مَرَضٌ (مادہ: م ر ض): صحت اور اعتدال سے ہٹ جانا۔ یہاں اس سے مراد دل کا کھوٹ، شک، حسد اور نفاق ہے۔
- السُّفَهَاءُ (مادہ: س ف ہ): نادان اور بے عقل لوگ، جو نفع اور نقصان کی تمیز نہ رکھتے ہوں۔
- صَيِّبٍ (مادہ: ص و ب): آسمان سے شدت کے ساتھ برسنے والی موسلادھار بارش۔
- يَعْمَهُونَ (مادہ: ع م ہ): بصیرت کا اندھا پن، حیرانی اور سرگردانی میں بھٹکنا۔
تدبر و عملی رہنمائی
- دوغلے پن سے بچاؤ: منافقت کا سب سے بڑا روپ یہ ہے کہ انسان مجلس دیکھ کر اپنا رنگ بدلے؛ نیک لوگوں میں نیکی کا دم بھرے اور بروں کی محفل میں ان کے گناہوں پر خوش ہو۔ ہر مسلمان کو اپنے ظاہر و باطن میں یکسانیت پیدا کرنی چاہیے۔
- سچی وفاداری: دین کی راہ میں وقتی فائدوں اور مصلحتوں کو مستقل سچائی پر ترجیح دینا خسارے کا سودا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اچھے اور برے دونوں حالات میں حق کا ساتھ دے۔
- اصلاح کے نام پر فساد کا ادراک: معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے اکثر اپنی نادانی کو "اصلاح پسندی" کا نام دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ کہیں ہماری مصلحت اندیشی دین کی بنیادوں کو نقصان تو نہیں پہنچا رہی۔
خلاصۂ تفسیر
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی نفسیات، ان کے جھوٹے دعووں اور باطنی تضادات کو بے نقاب فرمایا ہے۔ وہ دنیاوی مفاد کی خاطر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں اور خود کو دھوکا دے رہے تھے، جسے وہ اپنی ہوشیاری سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دو جامع مثالوں کے ذریعے واضح فرمایا کہ ان کی یہ ظاہری روشنی اور وقتی چالاکیاں جلد ختم ہو جائیں گی اور وہ ہمیشہ کے خسارے اور عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
ماخذ و حوالہ جات
- تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)
- صحیح البخاری (حدیث ۳۳)
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
