سورۃ البقرہ آیات ۱۰۴ تا ۱۱۲ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس قسط میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ یہودی اور دیگر مخالفین اسلام اور…
فہرستِ مضامین
سیاق و سباق / ربطِ آیات
پچھلے رکوع میں مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب کی چالوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے اس رکوع میں بتایا جا رہا ہے کہ یہود اور مشرکین کس طرح اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے ہیں اور قرآن کے احکام پر اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ اس رکوع کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ اہل کتاب کی سازشوں سے متاثر ہونے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے اور ان کے بے بنیاد اعتراضات کی پرواہ کیے بغیر صرف اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے۔
آیات کا متن اور ترجمہ
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَقُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡاؕ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
ترجمہ: اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا اور کہو انظرنا اور سنتے رہو اور کافروں کو عذاب ہے دردناک [۱]
مَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَلَا الۡمُشۡرِكِيۡنَ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴿۱۰۵﴾
ترجمہ: دل نہیں چاہتا ان لوگوں کا جو کافر ہیں اہل کتاب میں اور نہ مشرکوں میں اس بات کو کہ اترے تم پر کوئی نیک بات تمہارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسکو چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے [۲]
مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَاؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴿۱۰۶﴾
ترجمہ: جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلا دیتے ہیں تو بھیج دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس کے برابر کیا تجھکو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۳]
اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴿۱۰۷﴾
ترجمہ: کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور نہیں تمہارے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار [۴]
اَمۡ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡـَٔلُوۡا رَسُوۡلَكُمۡ كَمَا سُئِلَ مُوۡسٰي مِنۡ قَبۡلُؕ وَمَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ ﴿۱۰۸﴾
ترجمہ: کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے جیسے سوال ہو چکے ہیں موسٰی سے اس سے پہلے اور جو کوئی کفر لیوے بدلے ایمان کے تو وہ بہکا سیدھی راہ سے [۵]
وَدَّ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًاۚۖ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَقُّۚ فَاعۡفُوۡا وَاصۡفَحُوۡا حَتّٰي يَاۡتِيَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴿۱۰۹﴾
ترجمہ: دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب کا کہ کسی طرح تم کو پھیر کر مسلمان ہوئے پیچھے کافر بنا دیں بسبب اپنے دلی حسد کے بعد اس کے کہ ظاہر ہو چکا ان پر حق [۶] سو تم در گذر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جبتک بھیجے اللہ اپنا حکم [۷] بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۸]
وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴿۱۱۰﴾
ترجمہ: اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیج دو گے اپنے واسطے بھلائی پاؤ گے اس کو اللہ کے پاس بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے [۹]
وَقَالُوۡا لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰيؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿۱۱۱﴾
ترجمہ: اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہ جاویں گے جنت میں مگر جو ہوں گے یہودی یا نصرانی [۱۰] یہ آرزؤیں باندھ لی ہیں انہوں نے کہدے لے آؤ سند اپنی اگر تم سچے ہو
بَلٰيق مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ فَلَهٗٓ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖص وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَع ﴿۱۱۲﴾
ترجمہ: کیوں نہیں جس نے تابع کر دیا منہ اپنا اللہ کے اور وہ نیک کام کرنے والا ہے تو اس کے لئے ہے ثواب اس کا اپنے رب کے پاس اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہو نگے [۱۱]
حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 104–112 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
تفسیری حواشی
[۱] اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا: مدینہ کے دورِ آغاز میں مسلمان نبی کریم ﷺ سے کوئی بات سمجھنے کے لیے عرض کرتے تھے کہ (راعنا)، یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیے اور ہماری رعایت کیجیے۔ یہودی اس موقع کی تاک میں رہتے اور اس لفظ کو ذرا سا دبا کر بولتے جس سے اس کا معنی گالی یا بیوقوف بن جاتا۔ مسلمانوں کو منع کر دیا گیا کہ تم یہ لفظ استعمال نہ کرو بلکہ اس کی بجائے (انظرنا) کہو، جس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہماری طرف دیکھیے، اور بات کو شروع ہی سے توجہ سے سنو تاکہ بار بار پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔
[۲] دل نہیں چاہتا ان لوگوں کا: اہل کتاب اور مشرکینِ مکہ دونوں کو یہ بات سخت ناگوار گزرتی ہے کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھلائی یا قرآن نازل ہو۔ اہل کتاب کی خواہش یہ تھی کہ آخری نبی ان میں سے پیدا ہو اور مشرکین چاہتے تھے کہ ان کی اپنی قوم سے ہو۔ لیکن اللہ کی رحمت پر کسی کا زور نہیں؛ وہ جسے چاہے اپنی نبوت اور فضل کے لیے منتخب کرے، اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔
[۳] جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت: یہودیوں نے ایک اور اعتراض یہ اٹھایا کہ اگر تورات اور قرآن ایک ہی خدا کی کتابیں ہیں تو پھر پچھلے احکام کیوں بدل دیے جاتے ہیں؟ کیا خدا پہلے سے نہیں جانتا تھا کہ بعد میں کیا حکم دینا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ احکام کا بدلنا یا کسی حکم کو وقت کے تقاضے کے تحت ہٹا کر اس کی جگہ بہتر یا اس جیسی دوسری بات لے آنا اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
[۴] کیا تجھ کو معلوم نہیں: اس آیت میں یاد دلایا گیا ہے کہ جب زمین و آسمان کی پوری بادشاہی ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے سوا کوئی تمہارا مددگار نہیں، تو پھر بندوں کے لیے کیا چیز بہتر ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ کرنے والا بھی وہی ہے۔ اس کی تدبیر پر اعتراض کرنے کا کسی کو حق نہیں۔
[۵] کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو: مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہودیوں کی باتوں میں آ کر اپنے پیغمبر سے ایسے بے جا سوالات نہ کرو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیے گئے تھے۔ جو شخص ایمان چھوڑ کر کفر کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ سیدھی اور سچی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔
[۶] دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب کا: بہت سے یہودیوں کو اس بات سے شدید جلن ہے کہ تم مسلمان ہو گئے ہو۔ وہ دل کی حسد کی آگ میں جلتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں واپس کافر بنا دیں۔ لیکن اللہ کا حکم ہے کہ فی الحال ان کی زیادتیوں پر درگذر کرو اور صبر سے کام لو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔
[۷] حبتک بھیجے اللہ اپنا حکم: یعنی جب تک اللہ کی طرف سے کوئی دوسرا حکم نہ آئے، ان کی تکلیف دہ باتوں پر صبر کرو۔ بعد میں یہ حکم آ گیا تھا کہ ان کی بدعہدی کی وجہ سے انہیں مدینہ سے نکال دیا جائے۔
[۸] بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے: اس بات سے کمزور مسلمانوں کے دلوں میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے کہ یہود کیوں طاقتور نظر آ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمائے گا اور ان کے مقابلے میں یہودیوں کو ذلیل کرے گا۔
[۹] اور قائم رکھو نماز: اہل کتاب کی دشمنی اور سازشوں کے مقابلے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ظاہری پریشانیوں میں الجھنے کے بجائے اپنی نمازوں اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں اور اچھے اعمال کرتے رہیں۔ جو نیکی بھی انسان آگے بھیجے گا، اللہ کے ہاں اسے ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا، کیونکہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
[۱۰] اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہ جاویں گے جنت: یہود اور نصاریٰ دونوں کا دعویٰ یہ تھا کہ صرف وہی جنت میں جائیں گے اور باقی سب جہنمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ان کی اپنی خیال آرائیاں اور من گھڑت امیدیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو کوئی دلیل یا سند پیش کرو۔
[۱۱] کیونكہ جس نے تابع کر دیا منہ اپنا اللہ کے: حقیقت یہ ہے کہ جنت میں داخلے کا دارومدار کسی خاص گروہ کا حصہ ہونے پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ انسان اپنا آپ اللہ کے حوالے کر دے اور اچھے اعمال کرتا رہے۔ ایسے فرماں برداروں کے لیے ان کے رب کے پاس بہترین اجر ہے، اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔
اہم الفاظ و مفاہیم
- راعنا: مادہ ر ع ی۔ لغوی معنی: ہماری رعایت کر, ہماری طرف متوجہ ہو۔ سیاقِ سباق میں یہ وہ لفظ تھا جسے بظاہر اچھے معنی میں بولا جاتا تھا مگر یہودی اس میں تحریف کر کے گالی کا سا مفہوم نکالتے تھے، اس لیے اس کے استعمال سے منع کر دیا گیا۔
- انظرنا: مادہ ن ظ ر۔ معنی: ہماری طرف دیکھیے یا ہماری بات پر توجہ فرمائیے۔ (راعنا) کے متبادل کے طور پر اس کے استعمال کا حکم دیا گیا۔
- نسخ: مادہ ن س خ۔ معنی: کسی حکم کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ کرنا۔
- أسلم وجهه لله: معنی: اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے حکم کے تابع کر دینا اور اس کی رضا کے آگے سر جھکا دینا۔
تدبر و عملی رہنمائی
اس رکوع میں قرآن پاک نے مسلمانوں کو ایک بہت اہم حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ حق کی راہ پر چلنے والوں کو مخالفتوں اور حسد کا سامنا ہمیشہ کرنا پڑے گا۔ اہل کتاب کا رویہ یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی سے جلتے تھے اور طرح طرح کے اعتراضات اٹھا کر ان کے دلوں میں شک کے بیج بونا چاہتے تھے۔ ایسے میں مسلمانوں کو دو ٹوک ہدایت دی گئی ہے: ایک تو یہ کہ دشمنوں کی ہر چال کا جواب جذباتی ہو کر دینے کے بجائے صبر، برداشت اور عبادات (خصوصاً نماز اور زکوٰۃ) کے ذریعے دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ انسان کو کسی نسل یا گروہ کا حصہ ہونے پر فخر کرنے کے بجائے اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کرنی چاہیے کہ اس کا عمل اللہ کے ہاں کیسا ہے۔ جب انسان سچے دل سے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے اور نیکی کا راستہ نہیں چھوڑता، تو پھر اسے دنیا کی کسی مخالفت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
خلاصۂ تفسیر
اس قسط میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ یہودی اور دیگر مخالفین اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان کسی طرح اپنے دین سے پھر جائیں۔ ان کی ان سازشوں اور اعتراضات (جیسے احکام کی تبدیلی پر اعتراض یا الفاظ میں تحریف کی کوشش) سے مرعوب ہونے کے بجائے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کریں، اپنی نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں، اور کسی کی تنگ نظر قوم پرستی کے فریب میں آنے کے بجائے خالصتاً اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہوں، کیونکہ کامیابی اور نجات کا انحصار صرف اخلاص اور اچھے اعمال پر ہے۔
ماخذ و حوالہ جات
- تفسیرِ عثمانی (مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)
- بیان القرآن (مولانا اشرف علی تھانویؒ)
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
