نوائے فاروقی

نوائے فاروقی

علم، حقیقت اور آگاہی، قرآن و سنت کی روشنی میں

قرآنِ کریم کی تلاوت اور اردو ترجمہ، تدبرِ قرآن، احادیثِ نبوی ﷺ (اربعین نووی اور ریاض الصالحین) اور مستند تاریخِ اسلام: عربی متن، آسان اردو ترجمہ اور مختصر تشریح کے ساتھ۔

تدبرِ قرآن | سورۃ البقرہ — آیات ۸۳ تا ۸۶

سورۃ البقرہ آیات ۸۳ تا ۸۶ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیے گئے بنیادی اخلاقی اور ایمانی عہد کی یاد دہانی…

فہرستِ مضامین
  1. سیاق و سباق / ربطِ آیات
  2. آیات کا متن اور ترجمہ
  3. تفسیری حواشی
  4. اہم الفاظ و مفاہیم
  5. تدبر و عملی رہنمائی
  6. خلاصۂ تفسیر
  7. ماخذ و حوالہ جات

سیاق و سباق / ربطِ آیات

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان اپنی مذہبی کتاب کے صرف ان حصوں پر عمل کرے جو اس کے فائدے میں ہوں، اور باقی کو نظر انداز کر دے؟ پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کے مختلف رویوں اور اللہ تعالیٰ کی مسلسل عنایات کے مقابلے میں ان کی ناسپاسی کا تذکرہ تھا۔ زیرِ نظر آیات میں اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اس بنیادی عہد (میثاق) کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا، اور پھر تاریخی حقیقت کی روشنی میں ان کے اس منافقانہ رویے کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے جہاں وہ شریعت کے احکام میں اپنی پسند اور مصلحت کے مطابق انتخاب (cherry-picking) کرتے تھے۔ اس رکوع کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ شریعت کوئی ایسا مجموعہ نہیں جس میں سے اپنی مرضی کے احکام چن لیے جائیں اور ناپسند احکام چھوڑ دیے جائیں؛ دین پر پورا کا پورا عمل کرنا ہی ایمان کا تقاضا ہے۔

آیات کا متن اور ترجمہ

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ‌قف‌ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّذِي الۡقُرۡبٰي وَالۡيَتٰمٰي وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَؕ ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡكُمۡ وَاَنۡتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۸۳﴾

ترجمہ: اور جب ہم نے لیا قرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت نہ کرنا مگر اللہ کی اور ماں باپ سے سلوک نیک کرنا اور کنبہ والوں سے اور یتیموں اور محتاجوں سے او رکہیو سب لوگوں سے نیک بات اور قائم رکھیو نماز اور دیتے رکھیو زکوٰۃ پھر تم پھر گئے مگر تھوڑے سے تم میں اور تم ہو ہی پھرنے والے [۱]

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ لَا تَسۡفِكُوۡنَ دِمَآءَكُمۡ وَلَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ ﴿۸۴﴾

ترجمہ: اور جب لیا ہم نے وعدہ تمہارا کہ نہ کرو گے خون آپس میں اور نہ نکال دو گے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے اقرار کر لیا اور تم مانتے ہو [۲]

ثُمَّ اَنۡتُمۡ هٰٓؤُلَآءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَتُخۡرِجُوۡنَ فَرِيۡقًا مِّنۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِهِمۡؗ تَظٰهَرُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِؕ وَاِنۡ يَّاۡتُوۡكُمۡ اُسٰرٰي تُفٰدُوۡهُمۡ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيۡكُمۡ اِخۡرَاجُهُمۡؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ وَتَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡكُمۡ اِلَّا خِزۡيٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَاۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰٓي اَشَدِّ الۡعَذَابِؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۵﴾

ترجمہ: پھر تم وہ لوگ ہو کہ ایسے ہی خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے [۳] اور اگر وہی آویں تمہارے پاس کسی کے قیدی ہو کر تو ان کا بدلا دیکر چھڑاتے ہو حالانکہ حرام ہے تم پر ان کا نکال دینا بھی تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو [۴] سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن پہنچائے جاویں سخت سے سخت عذاب میں اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کاموں سے [۵]

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِؗ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ‌ع‌ ﴿۸۶﴾

ترجمہ: یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا ہو گا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی [۶]

حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 83–86 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ

تفسیری حواشی

[۱] اور تم ہو ہی پھرنے والے: اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے کے بعد ان سے منہ موڑ لینا اور اپنے کیے ہوئے پختہ وعدوں کو توڑ دینا، بنی اسرائیل کی محض وقتی لغزش نہ تھی بلکہ یہ ان کی مستقل عادت اور مزاج بن چکا تھا۔ چند سچے بندوں کے علاوہ پوری قوم کی تاریخ اسی بے وفائی سے بھری پڑی ہے۔

[۲] نہ کرو گے خون آپس میں: تورات میں اللہ تعالیٰ نے ان سے صریح عہد لیا تھا کہ نہ تو تم اپنی ہی قوم کے لوگوں کا ناحق خون بہاؤ گے اور نہ ہی ظلم و زیادتی کے ذریعے انہیں ان کے گھروں اور وطن سے بے دخل کرو گے۔

[۳] چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے: ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو بڑے قبیلے آباد تھے: بنو قریظہ اور بنو نضیر۔ اسی طرح عرب مشرکین کے بھی دو قبیلے تھے: اوس اور خزرج۔ ان دونوں عرب قبیلوں میں پرانی دشمنی اور جنگیں چلتی رہتی تھیں۔ بنو قریظہ نے اوس کا ساتھ دیا اور بنو نضیر نے خزرج کے ساتھ حلیفانہ معاہدہ کر لیا۔ جب ان دونوں عرب قبیلوں کی باہم جنگ ہوتی تو یہ یہودی قبیلے اپنے حلیفوں کی خاطر ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر آتے؛ اپنے ہی ہم مذہب بھائیوں پر حملے کرتے، انہیں قتل کرتے، ان کے گھر بار مسمار کرتے اور انہیں جلاوطن کر دیتے۔

[۴] تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو: ان کی منافقت اور تضاد بیانی کی انتہا یہ تھی کہ جب جنگ کے نتیجے میں ان کا کوئی یہودی بھائی دشمن کے ہاتھ قید ہو جاتا، تو تورات کے اس حکم کا واسطہ دے کر کہ "اپنے قیدی کو چھڑانا فرض ہے"، سب مل کر چندہ جمع کرتے اور فدیہ دے کر اسے آزاد کراتے۔ اس پر ان کو جھنجھوڑا گیا کہ جب تمہارا ہم قوم غیروں کے قبضے میں آئے تو اسے چھڑانے کے لیے تم فوراً کھڑے ہو جاتے ہو، مگر خود اپنے ہاتھوں سے اس پر ظلم کرنے، اسے قتل کرنے اور جلاوطن کرنے سے ذرا نہیں جھجکتے! اگر اللہ کا حکم ماننا ہے تو تمام احکام پر چلو، نہ کہ صرف اس حکم پر جو تمہاری ساکھ اور قومی حمیت کو راس آئے۔

[۵] سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی: جو شخص یا قوم دین کے احکام کے ساتھ یہ کھیل کھیلے کہ اپنی مرضی اور فائدے کی باتوں کو تو اپنا لے اور جو حکم اپنی خواہش، ذاتی مفاد یا سیاسی مصلحت کے خلاف پڑے اسے پسِ پشت ڈال دے، اس کا یہ عمل کفر ہی کے برابر ہے۔ ایمان کے ٹکڑے نہیں ہو سکتے کہ آدمی آدھی شریعت مانے اور آدھی کا انکار کرے۔ ایسے دہریے پن اور منافقانہ رویے کا نتیجہ دنیا میں ذلت و رسوائی ہے (جیسا کہ مدینہ کے یہودیوں کو جلاوطنی اور شکست کی صورت میں دیکھنا پڑا) اور آخرت میں سخت ترین عذاب ہے۔

[۶] نہ ہلکا ہو گا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی: انہوں نے آخرت کی ابدی کامیابی اور اللہ کی رضا کے بدلے دنیا کے وقتی مفادات، سیاسی اتحاد اور انا کی تسکین کو خرید لیا۔ انہوں نے اپنے دنیاوی حلیفوں کے معاہدے تو بڑی سختی سے نبھائے، مگر اللہ سے کیے گئے احکام و عہد کی کوئی پروا نہ کی۔ جب اللہ کا انصاف قائم ہوگا تو ایسے لوگوں کو نہ تو عذاب سے کوئی چھوٹ ملے گی اور نہ ہی کوئی طاقت ان کی حمایت یا سفارش کر سکے گی۔

اہم الفاظ و مفاہیم

  • مِيثَاقَ: پختہ عہد، مضبوط اقرار جو کسی معاملے میں قطعی طور پر لیا جائے۔
  • تَسْفِكُونَ: تم بہاتے ہو (مادہ: س ف ک)۔ عربی میں خون بہانے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔
  • أُسَارَىٰ: قیدی (واحد: اَسِیْر)۔ جنگ میں گرفتار ہونے والے افراد۔
  • تُفَادُوهُمْ: تم فدیہ (بدلہ) دے کر انہیں چھڑاتے ہو (مادہ: ف د ی)۔
  • خِزْيٌ: ذلت، رسوائی، بے عزتی اور ناکامی۔

تدبر و عملی رہنمائی

  1. دین میں انتخابی روش سے بچاؤ: شریعت میں پسند ناپسند کی گنجائش نہیں ہوتی۔ عبادات تو شوق سے ادا کرنا مگر مالی معاملات، اخلاقی ذمہ داریوں اور حقوق العباد میں من مانی کرنا اسی "بعض کتاب پر ایمان لانے اور بعض کے انکار" کا جدید روپ ہے۔
  2. سیاسی و دنیاوی مفادات پر دین کو ترجیح دینا: بنو قریظہ اور بنو نضیر نے محض اپنے سیاسی حلیفوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے دینی اصول پامال کر دیے۔ آج بھی جب انسان دنیاوی مفاد یا برادری کے دباؤ میں آ کر حق اور انصاف کا دامن چھوڑتا ہے تو اسی انجام کی طرف بڑھتا ہے۔
  3. حقوق کا باہمی توازن: آیت ۸۳ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور بندگی کے فوراً بعد والدین، رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں کے حقوق اور عام انسانوں سے بھلی بات کہنے کا حکم دیا۔ بندگی صرف نماز و زکوٰۃ تک محدود نہیں بلکہ مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک بھی دین کا بنیادی جزو ہے۔

خلاصۂ تفسیر

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیے گئے بنیادی اخلاقی اور ایمانی عہد کی یاد دہانی کرائی ہے، جس میں توحید، والدین و کمزوروں کے حقوق، حسنِ گفتار، اور باہمی قتل و جلاوطنی کی سخت ممانعت شامل تھی۔ اس کے مقابلے میں مدینہ کے یہودیوں کے اس عملی تضاد کو بے نقاب کیا گیا کہ وہ دنیاوی مفاد کی خاطر اپنے ہی بھائیوں کو قتل و بے دخل کرتے تھے، مگر قیدی بننے پر مذہبی بن کر فدیہ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ شریعت کے کچھ حصوں کو ماننا اور باقی کو چھوڑ دینا کھلی منافقت ہے جس کی سزا دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دائمی عذاب ہے۔

ماخذ و حوالہ جات

  1. تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (زیرِ تفسیر آیات ۸۳ تا ۸۶ کے تفسیری حواشی)
نوائے فاروقی — تدبرِ قرآن · علم | حقیقت | آگاہی
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
یہ پوسٹ شیئر کریں:
شیئر کریں