عوامی حکمرانی بمقابلہ دلوں کی حکمرانی: حضرت حاجی عبدالوہاب صاحبؒ کی حیاتِ مبارکہ
تحریر: اے بی فاروقی
آج کے جمہوری دور میں عوام پانچ سال کے لیے اپنے نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس مختصر عرصے میں ہی عوام اپنے نمائندوں سے اس قدر شاکی ہو جاتے ہیں کہ اگلے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں تو یہ قانون ہے کہ کوئی شخص دو بار سے زیادہ اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ لیکن بندگانِ خدا میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ "دلوں کی دائمی حکمرانی" عطا فرما دیتا ہے۔
اولیاء اللہ: اللہ کی پہچان کا ذریعہ
اولیاء اللہ کا اصل منصب بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لانا ہوتا ہے۔ حدیثِ قدسی کے مطابق، جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے سمع و بصر اور قوتِ عمل میں اپنی رضا شامل کر دیتا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ راتیں آہ و زاری میں گزارتے ہیں اور دن میں اللہ کی مخلوق کو خالق سے جوڑنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف دو ہی وظیفوں کے گرد گھومتا ہے
اللہ کی بڑائی کا بیان: کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کا مشاہدہ کرنا اور کروانا۔
اسوۂ رسول ﷺ کی ترویج: نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کو اپنے اور دوسروں کے اعمال میں زندہ کرنا۔
حضرت حاجی عبدالوہاب صاحبؒ: ایک عہد کا خاتمہ
گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت کے امیر اور تحریکِ ایمان کے عظیم علمبردار، حضرت اقدس حاجی عبدالوہاب صاحبؒ ہم سے جدا ہو گئے۔ آپؒ نے نصف صدی سے زائد کا عرصہ دینِ مبین کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ 1947 سے وفات تک، آپؒ نے جس جہدِ مسلسل کا مظاہرہ کیا، وہ آج کے دور میں ایک مثال ہے۔
:مرکزِ رائیونڈ کی بنیاد
تقسیمِ ہند کے بعد جب رائیونڈ میں اس کام کی بنیاد رکھی گئی، تو وہ ایک ویران جگہ تھی، لیکن مخلصین کی محنت نے اسے آج "مرجعِ خلائق" بنا دیا ہے، جہاں سے لاکھوں لوگ ہدایت کا نور لے کر پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں۔
:خونی رشتے بمقابلہ ایمانی تعلق
حاجی صاحبؒ کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی، لیکن ان کی وفات پر جس طرح خلقِ خدا کا ہجوم ٹوٹ پڑا، اس نے ثابت کر دیا کہ "انما المومنون اخوۃ" (بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں) کا رشتہ کتنا طاقتور ہے۔ 96 برس کی عمر میں جب کوئی دنیا سے جاتا ہے تو اکثر رشتہ دار اسے بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، لیکن حاجی صاحبؒ کے لیے ہزاروں آنکھیں اشکبار تھیں اور لاکھوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے۔ یہ وہ والہانہ محبت ہے جو صرف دینِ اسلام کے مخلص خادموں کے حصے میں آتی ہے۔
:خلاصہ کلام
سیاسی حکمران اقتدار کے ذریعے لوگوں پر مسلط ہوتے ہیں اور چند سالوں میں اپنی مقبولیت کھو دیتے ہیں، جبکہ درویش منش لوگ اللہ کی رضا کی خاطر جیتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی دلوں پر راج کرتے ہیں۔ اللہ پاک حضرت حاجی صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments