یوم یکجہتی کشمیر،تاریخی پس منظراور ہماری ذمہ داریاں
تاریخی پس منظر: 1987 کے انتخابات اور عوامی ردِعمل تحریر اے بی فاروقی اگرچہ کشمیر میں حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی جڑیں بہت پرانی ہیں، لیکن اس کا ایک اہم موڑ 23 مارچ 1987 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات تھے۔ تمام مسلم نمائندہ جماعتوں نے اس امید کے ساتھ ان انتخابات میں حصہ لیا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھیں گے، لیکن عوامی رائے کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے دبا دیا گیا۔ اس سیاسی ناانصافی نے کشمیری قیادت اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ روایتی سیاسی عمل ان کے مسائل کا حل نہیں بن پا رہا۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے جدوجہدِ آزادی میں ایک نئی لہر پیدا ہوئی اور عوامی قیادت نے اپنے حقوق کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنے کو قرینِ مصلحت سمجھا۔ یومِ یکجہتی کشمیر کا آغاز کیسے ہوا؟ وادیِ کشمیر کی ابتر صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف 5 جنوری 1989 کو امیر جماعت اسلامی پاکستان، محترم قاضی حسین احمد (رحمتہ اللہ علیہ) نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے 5 فروری کو ملک گیر ہڑتال اور یکجہتی کی کال دی۔ ہر سال ۵ فرروی کو ہر رابطہ پل پر انسانی زنجیر بنائی جاتی ہے اس...