یوم یکجہتی کشمیر،تاریخی پس منظراور ہماری ذمہ داریاں
تاریخی پس منظر: 1987 کے انتخابات اور عوامی ردِعمل
تحریر
اے بی فاروقی
تمام مسلم نمائندہ جماعتوں نے اس امید کے ساتھ ان انتخابات میں حصہ لیا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھیں گے، لیکن عوامی رائے کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے دبا دیا گیا۔
اس سیاسی ناانصافی نے کشمیری قیادت اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ روایتی سیاسی عمل ان کے مسائل کا حل نہیں بن پا رہا۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے جدوجہدِ آزادی میں ایک نئی لہر پیدا ہوئی اور عوامی قیادت نے اپنے حقوق کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنے کو قرینِ مصلحت سمجھا۔
یومِ یکجہتی کشمیر کا آغاز کیسے ہوا؟
وادیِ کشمیر کی ابتر صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف 5 جنوری 1989 کو امیر جماعت اسلامی پاکستان، محترم قاضی حسین احمد (رحمتہ اللہ علیہ) نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے 5 فروری کو ملک گیر ہڑتال اور
یکجہتی کی کال دی۔
![]() |
| ہر سال ۵ فرروی کو ہر رابطہ پل پر انسانی زنجیر بنائی جاتی ہے |
اس کال پر تمام مکاتبِ فکر اور سیاسی جماعتوں نے لبیک کہا۔ اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف اور
پھر وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اس کی بھرپور حمایت کی، جس کے بعد سے یہ دن قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہر سال باقاعدگی سے منایا جا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال اور عالمی ضمیر
آج کے دور میں، خاص طور پر برہان وانی کی شہادت کے بعد، تحریکِ آزادیِ کشمیر میں ایک نیا جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کوہالہ پل پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانا ہو یا عالمی فورمز پر آواز اٹھانا، ہر عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کشمیریوں کی منزل صرف اور صرف آزادی ہے۔
موجودہ دور میں جب انسانی حقوق کے علمبردار ادارے خاموش نظر آتے ہیں، 5 فروری کا دن ان کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔
حرفِ آخر
ان شا اللہ، وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کے عوام اپنی خواہشات اور امنگوں کے مطابق آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے۔ یہ تحریک اپنی کامیابی تک جاری رہے گی، کیونکہ حق کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن مٹایا نہیں جا سکتا۔
سوشل میڈیا ہیش ٹیگز
#KashmirSolidarityDay #Kashmir #5February #NawaeFarooqi #HumanRights #KashmirFreedom


Comments