میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

میرے شیخ کی داستاں
مولانا عبدالقادر کی حیات جاویداں

 

مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ ایک عالم ربانی، عظیم مصلح، مربی اور استاد الاساتذہ تھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے رکن اور جمعیت اتحاد العلماء کے صدر کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، وہ کلیہ الدعوہ الاسلامیہ چہلہ بانڈی مظفرآباد کے بانی بھی تھے۔

اتحاد امت کے داعی

مولانا ندیم رحمتہ اللہ علیہ اتحاد امت کے ایک عظیم داعی تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی اور ان کے اسٹیج پر ہمیشہ تمام مکاتب فکر کے لوگ موجود ہوتے تھے۔ ان کی وفات کو ایک سال ہو چکا ہے، لیکن ایک شاگرد، دوست اور مربی کے طور پر ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات ناقابل فراموش ہیں۔

زندگی کا مقصد

مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی خودی اور خودداری سے عبارت تھی۔ انہوں نے پاکستان کے کونے کونے میں دعوت اسلام اور نظام اسلامی کے نفاذ کے اہم پہلو کو اجاگر کیا۔ وہ حسن اخلاق کے مالک تھے اور جو بھی ان سے ملتا، ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ ان سے ملنے جلنے والے لوگ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

شاندار خطیب

مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ ایک شاندار خطیب تھے۔ ان کی تقاریر کا سامعین پر گہرا اثر ہوتا تھا۔ مجھے اپنے طالب علمی کے دور کی ایک تقریر یاد ہے جس میں مولانا نے اعانت جماعت کی اپیل کی تھی اور لوگوں نے اسی وقت ان کی فرمائش پر اتنی اعانت جمع کی تھی کہ مولانا کو کہنا پڑا کہ باقی اعانت بعد میں ذمہ داران کو دی جائے۔

 یہ ان کی شخصیت کا کرشمہ تھا کہ لوگ

ان کی آواز پر اپنی جمع پونجی بھی قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔رمضان المبارک کی پرنور ساعتوں میں مولانا کا ایک بیان جو انہوں نے مسجد الرحمٰن چہلہ بانڈی متصل کلیہ الدعوہ الاسلامیہ میں قرآن کے اعجازات پر کیا تھا، مجھے اب بھی یاد ہے۔ انہوں نے ایک صحابی کا واقعہ بیان کیا تھا جب انہوں نے تلاوت شروع کی تو ان کا گھوڑا اچھلنا شروع ہو گیا اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے لے کر آسمان تک نور کا ایک ہالہ بن گیا۔ ایسا پر اثر بیان میں نے شاید ہی اس سے پہلے یا بعد میں کسی سے سنا ہو۔ ان کے بیان میں ایسا سحر تھا کہ سامعین پر سکوت طاری ہو جاتا تھا اور وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں رہتا تھا۔

مطالعہ کتب کا شوق

مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ کو مطالعہ کتب کا بہت شوق تھا۔ وہ ہر کتاب کے مطالعاتی نوٹس لیتے تھے اور طلباء کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اس وقت فروعی اختلافات کو بھلا کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک کسی سے محبت کے لیے اس کا مسلمان ہونا کافی تھا۔ وہ تمام مسالک کے لوگوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے تھے اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ ان کے سمجھانے اور سکھانے کا انداز بہت دلنشین تھا۔ ان کی اردو بہت اعلیٰ اور جامع ہوا کرتی تھی۔ وہ جب بھی ملتے، پند و نصائح سے نوازتے اور اپنے اندر اسلامی اقدار کو زندہ کرنے کی تلقین کرتے تھے۔

نصیحتیں

مولانا عبدالقادر ندیم رحمتہ اللہ علیہ اکثر یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اپنے ملک میں رہ کر کوئی کام کر لو، کوئی روزگار کر لو۔ باہر کے ملکوں میں بھی روزی کا مالک اللہ ہی ہے۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ زندگی گزارو، ان کو وقت دو۔ زندگی بہت قیمتی ہے، اس کو اسلام اور نظام اسلامی کے نفاذ کے لیے وقف کر دو۔ وہ اپنے سابق طلباء کی خبر گیری فرماتے اور ان کے بارے میں جب معلوم ہوتا کہ وہ کسی اچھے عہدے پر ہیں تو بہت خوشی کا اظہار کرتے۔ الغرض، وہ ایک مشفق باپ کی طرح شفقت فرماتے تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کی کامیابی پر نہال ہوتے تھے اور ان کے لیے ہمیشہ دعاگو رہتے تھے۔

دعا اور امید

مظفرآباد:چہلہ بانڈی میں واقع کلیہ کی عمارت
اللہ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی اسلام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ کلیہ الدعوہ الاسلامیہ ان کا لگایا ہوا پودا ہے، اس کی آبیاری ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ادارے کی مالی ضروریات کا خیال رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ اللہ مولانا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

#مولانا_عبدالقادر_ندیم #علماء #مصلح #مربی #استاد #دین #اسلام #اتحاد_امت #دعوت_اسلام #نظام_اسلامی #کلیہ_الدعوہ_الاسلامیہ

Comments

Popular posts from this blog

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ