سورۃ البقرہ آیات ۷۲ تا ۸۲ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے گائے کے ذبح کے واقعے کا حقیقی پس منظر واضح فرمایا کہ کس…
فہرستِ مضامین
سیاق و سباق / ربطِ آیات
ذرا سوچیے، اگر کسی شخص کے سامنے ایک مردہ انسان دوبارہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کی نشان دہی کر دے، تو کیا اس کے بعد بھی شک و شبہ یا ضد کی کوئی گنجائش باقی رہ سکتی ہے؟
پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے بار بار غیر ضروری سوالات کیے۔ اس رکوع میں پہلے اسی واقعے کا اصل پس منظر اور نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ گائے کے ذبح کا حکم دراصل ایک پراسرار قتل کے راز کو کھولنے کے لیے دیا گیا تھا۔ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ لینے کے باوجود ان کے دلوں پر کوئی مثبت اثر نہ ہوا بلکہ وہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے۔ اس کے بعد کلام کا رخ ان یہودیوں کے رویے کی طرف مڑتا ہے جو نبی کریم ﷺ کے دور میں موجود تھے؛ ان کے علماء کی بددیانتیاں، کتابِ الٰہی میں تحریف، منافقانہ طرزِ عمل اور نجات کے بارے میں ان کے من گھڑت نظریات کھول کر واضح کیے گئے ہیں، اور آخر میں نجات کا آفاقی اور ابدی الٰہی قانون بیان کر دیا گیا ہے۔
آیات کا متن اور ترجمہ
وَاِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِيۡهَاؕ وَاللّٰهُ مُخۡرِجٌ مَّا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَۚ ﴿۷۲﴾
ترجمہ: اور جب مار ڈالا تھا تم نے ایک شخص کو پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے [۱]
فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡهُ بِبَعۡضِهَاؕ كَذٰلِكَ يُحۡيِ اللّٰهُ الۡمَوۡتٰي وَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۳﴾
ترجمہ: پھر ہم نے کہا مارو اس مردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا [۲] اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردو ں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی قدرت کے نمونے تاکہ تم غور کرو [۳]
ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالۡحِجَارَةِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةًؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾
ترجمہ: پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس سب کے بعد [۴] سو وہ ہو گئے جیسے پتھر یا ان سے بھی سخت اور پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں جن سے جاری ہوتی ہیں نہریں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور نکلتا ہے ان سے پانی اور ان میں ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے [۵]
اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا لَكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهٗ مِنۭۡ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾
ترجمہ: اب کیا تم اے مسلمانوں توقع رکھتے ہو کہ وہ مانیں تمہاری بات اور ان میں ایک فرقہ تھا کہ سنتا تھا اللہ کا کلام پھر بدل ڈالتے تھے اس کو جان بوجھ کر اور وہ جانتے تھے [۶]
وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡٓا اٰمَنَّاۚۖ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ اِلٰي بَعۡضٍ قَالُوۡٓا اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوۡكُمۡ بِهٖ عِنۡدَ رَبِّكُمۡؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۶﴾
ترجمہ: اور جب ملتے ہیں مسلمانوں سے کہتے ہیں ہم مسلمان ہوئے اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس تو کہتے ہیں تم کیوں کہہ دیتے ہو ان سے جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر تاکہ جھٹلائیں تم کو اس سے تمہارے رب کے آگے کیا تم نہیں سمجھتے [۷]
اَوَلَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۷﴾
ترجمہ: کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں [۸]
وَمِنۡهُمۡ اُمِّيُّوۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِيَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾
ترجمہ: اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی سوائے جھوٹی آرزوؤں کے اور ان کے پاس کچھ نہیں مگر خیالات [۹]
فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ يَكۡتُبُوۡنَ الۡكِتٰبَ بِاَيۡدِيۡهِمۡق ثُمَّ يَقُوۡلُوۡنَ هٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ لِيَشۡتَرُوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًاؕ فَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا كَتَبَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا يَكۡسِبُوۡنَ ﴿۷۹﴾
ترجمہ: سو خرابی ہے ان کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہہ دیتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مول سو خرابی ہے ان کو اپنے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی اس کمائی سے [۱۰]
وَقَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدَةًؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا فَلَنۡ يُّخۡلِفَ اللّٰهُ عَهۡدَهٗٓ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾
ترجمہ: اور کہتے ہیں ہم کو ہر گز آگ نہ لگے گی مگر چند روز گنے چنے [۱۱] کہدو کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار کہ اب ہرگز خلاف نہ کرے گا اللہ اپنے قرار کے یا جوڑتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے کیوں نہیں [۱۲]
بَلٰي مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيۡٓـَٔتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾
ترجمہ: جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے [۱۳] سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّةِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَع ﴿۸۲﴾
ترجمہ: اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے نیک وہی ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے
حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 72–82 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
تفسیری حواشی
[۱] ایک دوسرے پر دھرنے لگے: بنی اسرائیل کے ماضی کا یہ واقعہ ہے کہ ان کے بزرگوں میں سے کچھ لوگوں نے "عامیل" نامی ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا۔ قتل کے بعد وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے اور اصل بات چھپانے کی کوشش کرنے لگے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما لیا تھا کہ جس حقیقت کو وہ چھپا رہے ہیں (یعنی قاتل کی اصل شناخت اور ان کے اپنے ایمان کی کمزوری)، اسے ہر حال میں سامنے لا کر رہے گا۔
[۲] اس گائے کا ایک ٹکڑا: اللہ کے حکم سے جب ذبح شدہ گائے کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے جسم سے چھوایا گیا تو وہ فوراً اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر اٹھ بیٹھا۔ اس کے زخموں سے خون بہنے لگا اور اس نے صاف لفظوں میں اپنے قاتلوں کے نام بتا دیے، جو دراصل اسی مقتول کے بھتیجے تھے۔ انہوں نے مال و دولت حاصل کرنے کے لالچ میں اپنے چچا کو جنگل لے جا کر مار ڈالا تھا۔ اپنے قاتلوں کا نام بتانے کے بعد وہ شخص دوبارہ انتقال کر گیا۔
[۳] اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کو: جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک بے جان مردے کو ذبح شدہ جانور کے ایک بے جان ٹکڑے کے ذریعے دیکھتے ہی دیکھتے زندہ فرما دیا، بالکل اسی طرح وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو مرنے کے بعد اپنی مکمل قدرت سے دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی ایسی کھلی نشانیاں اس لیے دکھاتا ہے تاکہ لوگ عقل سے کام لیں اور سمجھ جائیں کہ مردوں کو زندہ کرنا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔
[۴] اس سب کے بعد: یعنی عامیل کے دوبارہ زندہ ہونے کا اتنا کھلا معجزہ دیکھ لینے کے بعد بھی ان کے دلوں میں نرمی پیدا نہ ہوئی اور وہ ایمان کی طرف مائل نہ ہوئے۔
[۵] پتھر یا ان سے بھی سخت: ان کے دلوں کی سختی کا موازنہ پتھروں سے کیا گیا ہے، بلکہ ان کے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئے۔ پتھروں کی تو تین ایسی حالتیں ہیں جن میں کوئی نہ کوئی بھلائی یا اثر نظر آتا ہے: پہلی قسم کے پتھر وہ ہیں جن سے بڑی بڑی نہریں اور وافر پانی بہہ نکلتا ہے جس سے مخلوق کو بڑا فائدہ پہنچتا ہے۔ دوسری قسم کے پتھر وہ ہیں جو بیچ سے پھٹ جاتے ہیں اور ان سے کچھ پانی رس کر نکل آتا ہے، اس میں پہلی قسم جتنا بڑا نفع نہ سہی مگر کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ تیسری قسم کے وہ پتھر ہیں جو بلندی سے اللہ کے خوف کے اثر سے نیچے لڑھک پڑتے ہیں؛ ان سے دوسروں کو بظاہر نفع نہ پہنچے مگر کم از کم ان میں خود اللہ کی ہیبت کا ایک اثر موجود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ان ہٹ دھرم لوگوں کے دل ان تینوں قسم کے پتھروں سے بدتر نکلے؛ نہ تو ان کی ذات سے کسی بندے کو کوئی بھلائی یا نفع پہنچا، اور نہ ہی ان کے اپنے اندر خوفِ خدا کا کوئی اثر باقی رہا۔ اور یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و کرتوتوں سے ہرگز بے خبر نہیں ہے۔
[۶] بدل ڈالتے تھے اس کو: اے مسلمانو! کیا تم اب بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہو کہ یہ لوگ تم پر ایمان لے آئیں گے؟ ان کی تاریخ تو یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا گروہ گزرا ہے جو خود کلامِ الٰہی سنتا تھا اور پھر اسے جان بوجھ کر بدل دیتا تھا۔ اس سے مراد یا تو وہ ستر افراد ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوہِ طور پر کلامِ الٰہی سننے گئے تھے، اور انہوں نے واپس آ کر جھوٹ بول دیا کہ کلام کے آخر میں اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر تم احکام پر عمل کر سکو تو کر لینا، نہ کر سکو تو چھوڑ دینے کا بھی تمہیں اختیار ہے۔ یا پھر اس سے مراد ان کے وہ علماء ہیں جو تورات کے احکام اور الفاظ میں جان بوجھ کر رد و بدل کرتے تھے؛ کبھی نبی کریم ﷺ کی صفات و علامات کو بدل دیتے اور کبھی زنا کی سزا کے طور پر سنگسار کرنے (رجم) کے حکم کو کتاب سے غائب کر دیتے۔
[۷] جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر: یہودیوں میں سے کچھ لوگ جو منافقت کا راستہ اپنائے ہوئے تھے، جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنی کتاب کی باتیں بیان کر کے ان کی خوشامد کرتے کہ ہاں تمہارے نبی سچے ہیں اور ان کا ذکر ہماری کتاب میں موجود ہے۔ لیکن جب وہ آپس میں اکیلے ہوتے تو ان کے دوسرے ساتھی انہیں سخت ڈانٹتے کہ تم کیوں مسلمانوں کو اپنی کتاب کے ایسے راز بتاتے ہو جن سے ان کے حق میں دلیل مضبوط ہو؟ کیا تمہیں اتنی عقل بھی نہیں کہ قیامت کے دن وہ تمہارے رب کے حضور تمہاری ہی بتائی ہوئی باتوں کو تمہارے خلاف بطورِ حجت پیش کریں گے کہ تم سچائی جاننے کے باوجود ایمان کیوں نہ لائے، اور پھر تمہارے پاس کوئی جواب نہ ہوگا!
[۸] جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں: کیا وہ اتنی بنیادی بات بھی نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ تو ان کے چھپے اور کھلے سب احوال سے پوری طرح واقف ہے؟ وہ جن باتوں کو مسلمانوں سے چھپانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ جب چاہے مسلمانوں پر ظاہر فرما کر انہیں باخبر کر سکتا ہے اور اس نے بارہا ایسا فرمایا بھی۔ مثلاً انہوں نے رجم کے حکم کو چھپانے کی کوشش کی تھی، لیکن اللہ نے اسے واضح کر کے انہیں رسوا کر دیا۔ یہ شرمناک طرزِ عمل ان کے ان پڑھے لکھے لوگوں کا تھا جو علم اور فہم کے دعوے دار تھے۔
[۹] سوائے جھوٹی آرزوؤں کے: دوسری طرف ان کے عام ان پڑھ لوگوں کی حالت یہ تھی کہ انہیں آسمانی کتاب کا کوئی علمی علم نہ تھا، بس انہوں نے اپنے مفاد پرست علماء سے کچھ جھوٹی امیدیں اور من گھڑت باتیں سن رکھی تھیں اور انہی پر تکیہ کیے بیٹھے تھے۔ مثلاً یہ خیال کہ "جنت میں تو صرف یہودی ہی جائیں گے" یا یہ کہ "ہمارے بزرگ پیغمبر ہمیں ہر حال میں بخشوا لیں گے"۔ حقیقت میں ان باتوں کی کوئی شرعی دلیل ان کے پاس نہ تھی، یہ محض بے بنیاد خیالات اور وہم و گمان تھے۔
[۱۰] لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے: پس بڑی ہلاکت و بربادی ہے ان بددیانت علماء کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے من گھڑت باتیں لکھتے ہیں اور پھر ان جاہل عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے، تاکہ اس جھوٹ کے بدلے دنیا کا حقیر مفاد اور مال کما سکیں۔ مثلاً تورات میں نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک لکھا تھا کہ "آپ حسین و جمیل، گھنگھریالے بالوں والے، سیاہ چشم، درمیانے قد اور گندمی رنگت کے ہوں گے"۔ لیکن ان بدبختوں نے اسے بدل کر لکھ دیا کہ "وہ لمبے قد، نیلی آنکھوں اور سیدھے بالوں والے ہوں گے"، تاکہ ان کے عام لوگ حضور ﷺ کو پہچان کر ایمان نہ لے آئیں اور علماء کی سرداری اور نذرانے بند نہ ہو جائیں۔ لہٰذا بربادی ہے ان کے لیے اس تحریر کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی، اور بربادی ہے ان کے لیے اس ناجائز کمائی کی وجہ سے جو وہ اس بددیانتی سے سمیٹ رہے ہیں۔
[۱۱] چند روز گنے چنے: وہ اپنی قوم میں یہ باطل خیال پھیلائے ہوئے تھے کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند گنتی کے دنوں کے سوا چھو بھی نہ سکے گی۔ اس مدت کے بارے میں ان کے مختلف دعوے تھے: بعض کہتے تھے صرف سات دن، بعض کہتے تھے چالیس دن یعنی جتنے دن ان کے آبا و اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، بعض چالیس سال کہتے تھے یعنی جتنے سال میدانِ تیہ میں بھٹکتے رہے، اور بعض کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو صرف اتنے ہی دن سزا ملے گی جتنی اس کی دنیاوی عمر تھی۔
[۱۲] کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار: اے نبی، آپ ان سے فرمائیے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کا کوئی تحریری وعدہ ہے جس کی وہ کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا؟ یا تم اللہ کے ذمے ایسی جھوٹی باتیں لگاتے ہو جن کی کوئی حقیقت تم خود بھی نہیں جانتے؟ یہ خیال بالکل باطل ہے کہ کوئی شخص محض یہودی ہونے کی بنا پر ہمیشہ کے عذاب سے بچ جائے گا۔ نجات اور عذاب کا ایک اٹل الٰہی اصول ہے جس کی وضاحت اگلی آیت میں کی جا رہی ہے۔
[۱۳] گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے: گناہ کے احاطہ کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ برائی اور کفر انسان پر ہر طرف سے ایسا غالب آ جائے کہ اس کی ذات کا کوئی ایک رُخ بھی گناہ کے غلبے سے خالی نہ بچے۔ ظاہر ہے کہ اگر دل کے کسی گوشے میں ذرہ برابر ایمان اور تصدیق باقی ہو، تو پھر گناہ کا یہ مکمل گھیراؤ ممکن نہیں رہتا۔ پس یہ حالت صرف کافر ہی پر صادق آ سکتی ہے جو ایمان سے بالکل خالی ہو۔ ایسے ہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلنے والے ہیں۔
اہم الفاظ و مفاہیم
- فَادَّارَأْتُمْ: مادہ «د-ر-أ» ہے، بنیادی معنی دھکیلنے یا ہٹانے کے ہیں۔ آیت میں اس کا مطلب ہے: تم ایک دوسرے پر جرم دھکیلنے اور الزام تراشی کرنے لگے۔
- قَسَتْ: مادہ «ق-س-و» ہے، بنیادی معنی سختی اور کھردرا پن کے ہیں۔ آیت میں دلوں کی وہ حالت مراد ہے جہاں نصیحت قبول کرنے اور رحم کھانے کی صلاحیت ختم ہو جائے۔
- أُمِّیُّوْنَ: مادہ «أ-م-م» ہے، "اُمّی" کی جمع ہے یعنی وہ لوگ جو لکھنا پڑھنا نہ جانتے ہوں۔ یہاں مراد بنی اسرائیل کے وہ عام لوگ ہیں جو تورات کے اصل متون سے بے خبر تھے۔
- أَمَانِیَّ: مادہ «م-ن-ی» ہے، "اُمنیۃ" کی جمع ہے۔ اس کے معنی دلی آرزو، جھوٹی تمنا اور من گھڑت خیالات کے ہیں۔
- أَحَاطَتْ: مادہ «ح-و-ط» ہے، چاروں طرف سے گھیر لینے کو کہتے ہیں۔ آیت میں گناہ کا اس حد تک مسلط ہو جانا مراد ہے کہ ایمان کا نام و نشان باقی نہ رہے۔
تدبر و عملی رہنمائی
- معجزات سے زیادہ دل کی آمادگی ضروری ہے: بنی اسرائیل نے مردے کو اپنی آنکھوں سے زندہ ہوتے دیکھا، مگر دل کی سختی دور نہ ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض بڑی نشانیاں یا دلائل انسان کو راہِ راست پر نہیں لاتے جب تک کہ دل میں سچائی کو قبول کرنے کی طلب اور عاجزی نہ ہو۔
- سخت دلی سے پناہ: قرآن نے پتھروں کی مختلف صفات گنوا کر واضح کیا کہ بے جان مادے میں بھی اللہ کے حکم کا اثر ہو سکتا ہے، مگر بدقسمت انسان کا دل کبھی پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ دل کی سختی گناہوں پر اصرار اور کلامِ الٰہی سے بے رغبتی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
- مذہبی پیشوائیت کا زوال اور مفاد پرستی: اہلِ کتاب کے علماء نے دنیوی مفادات اور عوام پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے احکامِ الٰہی کو مسخ کیا۔ یہ ہر دور کے اہلِ علم کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے کہ وہ دنیوی فائدے یا عوام کی خوشنودی کے لیے دین کی غلط تعبیر نہ کریں۔
- بے بنیاد خوش فہمیوں سے نجات: نجات کا دارومدار کسی خاص نسل، خاندان یا گروہ سے نسبت پر نہیں ہے۔ یہ خیال باطل ہے کہ "ہم چونکہ فلاں بزرگ یا امت سے ہیں، اس لیے عذاب سے محفوظ رہیں گے"۔ اللہ کا انصاف سب کے لیے یکساں ہے؛ ابدی کامیابی صرف سچے ایمان اور نیک اعمال پر موقوف ہے۔
خلاصۂ تفسیر
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے گائے کے ذبح کے واقعے کا حقیقی پس منظر واضح فرمایا کہ کس طرح ایک مقتول کے زندہ ہونے سے اس کے قاتل بے نقاب ہوئے اور قیامت کی حیات بعد الموت کی عملی دلیل سامنے آئی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے دلوں کی غیر معمولی سختی، ان کے علماء کی بددیانتی، کلامِ الٰہی میں تحریف اور ان پڑھ عوام کی خوش فہمیوں کا پردہ چاک کیا گیا۔ آخر میں یہ اٹل فیصلہ سنا دیا گیا کہ نجات کسی نسلی امتیاز پر نہیں بلکہ کفر و گناہ کے مکمل گھیراؤ کی صورت میں ہمیشہ کی جہنم ہے، اور سچے ایمان و صالح اعمال پر ہمیشہ کی جنت ہے۔
ماخذ و حوالہ جات
- تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (زیرِ تفسیر آیات: البقرۃ: ۷۲ تا ۸۲)
- ترجمہ قرآنِ مجید — شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
