سورۃ البقرہ آیات ۴۷ تا ۵۹ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے آباء و اجداد پر کیے گئے عظیم احسانات یاد دلائے…
فہرستِ مضامین
سیاق و سباق / ربطِ آیات
پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کو دعوتِ حق دی گئی تھی کہ وہ اپنی خواہشات اور دنیاوی مفادات کو چھوڑ کر اس آخری کتاب اور نبیِ آخر الزماں ﷺ پر ایمان لائیں جس کی بشارت ان کی اپنی کتابوں میں موجود تھی۔
اس رکوع کا مرکزی موضوع اللہ تعالیٰ کے وہ عظیم احسانات ہیں جو وقتاً فوقتاً بنی اسرائیل پر کیے گئے، اور ان کے مقابلے میں ان کی مسلسل ناشکری اور سرکشی کا تاریخی جائزہ ہے۔
انسان کا فطری خاصہ ہے کہ جب اسے کسی کے پے در پے احسانات یاد دلائے جائیں تو اس کے دل میں محسن کی محبت اور اطاعت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کی گئی تاریخی عنایات، فرعون سے نجات، دریا کا پھٹنا، من و سلویٰ کا نزول اور سنگین خطاؤں کے بعد بار بار معافی کو تفصیل سے گنوایا ہے، تاکہ وہ غور کریں کہ جس پروردگار نے ان پر اتنے کرم فرمائے، اسی کے بھیجے ہوئے آخری رسول ﷺ کی اطاعت ان پر سب سے پہلے لازم تھی۔
یہ مضمون اگلی آیات میں بھی جاری رہے گا جہاں ان کی تاریخ کے مزید واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
آیات کا متن اور ترجمہ
يٰبَنِيۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِيَ الَّتِيۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَنِّيۡ فَضَّلۡتُكُمۡ عَلَي الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿۴۷﴾
ترجمہ: اے بنی اسرائیل یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کئے اور اس کو کہ میں نے تم کو بڑائی دی تمام عالم پر [۱]
وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا لَّا تَجۡزِيۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَيۡـًٔا وَّلَا يُقۡبَلُ مِنۡهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤۡخَذُ مِنۡهَا عَدۡلٌ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
ترجمہ: اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی اور قبول نہ ہو اس کی طرف سے سفارش اور نہ لیا جائے اس کی طرف سے بدلہ اور نہ ان کو مدد پہنچے [۲]
وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴿۴۹﴾
ترجمہ: اور یاد کرو اس وقت کو جبکہ رہائی دی ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے جو کرتے تھے تم پر بڑا عذاب ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمہاری عورتوں کو [۳] اور اس میں آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بڑی [۴]
وَاِذۡ فَرَقۡنَا بِكُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَيۡنٰكُمۡ وَاَغۡرَقۡنَآ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
ترجمہ: اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمہاری وجہ سے دریا کو پھر بچا دیا ہم نے تم کو اور ڈبا دیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھ رہے تھے [۵]
وَاِذۡ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰٓي اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۭۡ بَعۡدِهٖ وَاَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۵۱﴾
ترجمہ: اور جب ہم نے وعدہ کیا موسٰی سے چالیس رات کا پھر تم نے بنا لیا بچھڑا موسٰی کے بعد اور تم ظالم تھے [۶]
ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنۡكُمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴿۵۲﴾
ترجمہ: پھر معاف کیا ہم نے تم کو اس پر بھی تاکہ تم احسان مانو [۷]
وَاِذۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَي الۡكِتٰبَ وَالۡفُرۡقَانَ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴿۵۳﴾
ترجمہ: اور جب ہم نے دی موسٰی کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا کرنے والے احکام تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ [۸]
وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰي لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ اِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ بِاتِّخَاذِكُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡٓا اِلٰي بَارِئِكُمۡ فَاقۡتُلُوۡٓا اَنۡفُسَكُمۡؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ عِنۡدَ بَارِئِكُمۡؕ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ ﴿۵۴﴾
ترجمہ: اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم سے [۹] اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنا کر سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان [۱۰] یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک پھر متوجہ ہوا تم پر [۱۱] بیشک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان
وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يٰمُوۡسٰي لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰي نَرَي اللّٰهَ جَهۡرَةً فَاَخَذَتۡكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۵﴾
ترجمہ: اور جب تم نے کہا اے موسٰی ہم ہرگز یقین نہ کریں گے تیرا جب تک کہ نہ دیکھ لیں اللہ کو سامنے پھر آلیا تم کو بجلی نے اور تم دیکھ رہے تھے
ثُمَّ بَعَثۡنٰكُمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ مَوۡتِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴿۵۶﴾
ترجمہ: پھر اٹھا کھڑا کیا ہم نے تم کو مر گئے پیچھے تاکہ تم احسان مانو [۱۲]
وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰيؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰكِنۡ كَانُوۡٓا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴿۵۷﴾
ترجمہ: اور سایہ کیا ہم نے تم پر ابر کا اور اتارا تم پر من اور سلویٰ [۱۳] کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دیں [۱۴] اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے [۱۵]
وَاِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ فَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطٰيٰكُمۡؕ وَسَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿۵۸﴾
ترجمہ: اور جب ہم نے کہا داخل ہو اس شہر میں [۱۶] اور کھاتے پھرو اس میں جہاں چاہو فراغت سے اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے [۱۷] اور کہتے جاؤ بخش دے تو معاف کر دیں گے ہم تمہارے قصور اور زیادہ بھی دیں گے نیکی والوں کو [۱۸]
فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَع ﴿۵۹﴾
ترجمہ: پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو کہہ دی گئی تھی ان سے پھر اتارا ہم نے ظالموں پر عذاب آسمان سے ان کی عدول حکمی پر [۱۹]
حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 47–59 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
تفسیری حواشی
[۱] تمام عالم پر: تقویٰ اور ایمان کے اعلیٰ درجے پر پہنچنا محض محنت اور مشقت سے مشکل ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک آسان راستہ بتایا اور وہ ہے شکر گزاری۔ اسی مقصد کے لیے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات یاد دلاتے ہیں جو وقتاً فوقتاً بنی اسرائیل پر نازل ہوئے، اور ساتھ ہی ان کی بد اعمالیوں کی نشاندہی بھی فرماتے ہیں، کیونکہ انسان بلکہ حیوان کی بھی یہ جبلت ہے کہ احسان کرنے والے کی محبت اور فرماں برداری دل میں گھر کر لیتی ہے۔ دنیا کے تمام لوگوں پر فضیلت دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس دور میں بنی اسرائیل کا عروج تھا، اس وقت سے لے کر اس قرآنی خطاب کے نازل ہونے تک وہ دنیا کے تمام گروہوں پر برتر رہے اور کوئی ان کے برابر نہ تھا۔ لیکن جب انہوں نے نبیِ آخر الزماں ﷺ اور قرآنِ مجید کی مخالفت کی تو یہ فضیلت ان سے چھن گئی، ان پر غضب اور گمراہی کی مہر لگ گئی، اور رسول اللہ ﷺ کے پیروکاروں کو تمام امتوں پر فضیلت کا مقام عطا ہوا۔
[۲] اور نہ ان کو مدد پہنچے: جب دنیا میں کوئی شخص کسی مصیبت یا گرفتاری میں پھنس جاتا ہے تو اس کے خیر خواہ چار طریقوں سے اسے چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں: پہلے تو اس کا واجب حق خود ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اثر و رسوخ اور سفارش کے ذریعے رہائی دلانا چاہتے ہیں؛ اگر یہ بھی نہ چلے تو تاوان یا فدیہ دے کر گلو خلاصی کراتے ہیں؛ اور اگر کوئی تدبیر نہ بنے تو طاقت کے زور پر اپنے حامیوں کو لا کر چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی ترتیب سے واضح فرما دیا کہ قیامت کے دن اللہ کا مقرب ترین بندہ بھی کسی نافرمان، باغی اور کافر کو ان چاروں طریقوں میں سے کسی طریقے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ بنی اسرائیل کا یہ خام خیال تھا کہ وہ جیسے بھی گناہ کریں، عذاب سے محفوظ رہیں گے کیونکہ ان کے بزرگ اور باپ دادا جو انبیاء تھے، انہیں بخشوا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گھمنڈ کو باطل قرار دیا۔ اس آیت سے اس برحق شفاعت کا انکار لازم نہیں آتا جس کے اہلِ سنت قائل ہیں اور جس کا ذکر قرآن و حدیث کی دیگر واضح نصوص میں موجود ہے۔
[۳] زندہ چھوڑتے تھے تمہاری عورتوں کو: فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر اس کے نجومیوں اور کاہنوں نے یہ دی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو تیری سلطنت اور تیرے دین کو برباد کر دے گا۔ اس خطرے کے پیشِ نظر فرعون نے یہ ظالمانہ حکم جاری کیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی بیٹا پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے اور بچیوں کو خدمت گزاری کے لیے زندہ چھوڑ دیا جائے۔ اس شدید ظلم کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا بھی فرمایا اور فرعون ہی کے محل میں زندہ و سلامت پروان چڑھایا۔
[۴] اور اس میں آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بڑی: لفظِ "بلا" عربی میں مختلف معانی رکھتا ہے۔ اگر اس کا اشارہ فرعون کی طرف سے بیٹوں کو ذبح کیے جانے کی طرف ہو تو اس کے معنی شدید مصیبت اور دکھ کے ہیں؛ اگر اس سے مراد فرعون کے اس ظلم سے نجات پانا ہو تو اس کا مطلب بڑی نعمت و احسان ہے؛ اور اگر اس پورے واقعے اور حالات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کا مفہوم ایک بڑی آزمائش اور امتحان کا ہے۔
[۵] اور تم دیکھ رہے تھے: اللہ کے اس عظیم احسان کو یاد کرو کہ جب تمہارے آبا و اجداد فرعون کے خوف سے نکلے تو آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر تعاقب میں تھا۔ اس کسمپرسی کے عالم میں ہم نے سمندر کو پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنا دیا، تمہیں بخیریت پار اتار لیا اور تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا۔
[۶] اور تم ظالم تھے: یہ واقعہ بھی عبرت اور احسان شناسی کے لائق ہے کہ ہم نے تورات عطا کرنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہِ طور پر چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا۔ مگر ان کے طور پر تشریف لے جانے کے فوراً بعد بنی اسرائیل نے سونے کا ایک بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی۔ یہ کتنا بڑا ظلم اور کھلی نا انصافی تھی کہ سچے خدا کو چھوڑ کر ایک بے جان بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
[۷] تاکہ تم احسان مانو: اتنے کھلے شرک اور سنگین جرم کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے فوری طور پر تمہیں نیست و نابود نہیں کیا (جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو اس سے کم درجے کے قصور پر غرق کر دیا گیا تھا)، بلکہ تم سے درگزر فرمایا اور تمہاری توبہ قبول کی، تاکہ تم اللہ کی اس مہربانی کی قدر کرو اور اس کے شکر گزار بندے بنو۔
[۸] تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ: کتاب سے مراد تورات ہے، اور "فرقان" سے مراد وہ شرعی احکام ہیں جو حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔ فرقان سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وہ روشن معجزات بھی ہو سکتے ہیں جن سے حق اور باطل، سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز قائم ہوا؛ یا خود تورات ہی کو کتاب اور فرقان دونوں صفات کے ساتھ یاد فرمایا گیا کیونکہ وہ ایک آسمانی کتاب بھی تھی اور حق و باطل کو جدا کرنے والی بھی۔
[۹] اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم سے: یہاں "قوم" سے خاص طور پر وہ لوگ مراد ہیں جو بچھڑے کی پوجا کرنے کے شرک میں مبتلا ہوئے تھے۔
[۱۰] اور مار ڈالو اپنی اپنی جان: اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کو سجدہ نہیں کیا تھا، وہ ان لوگوں کو قتل کریں جنہوں نے اس کی پوجا کی تھی۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس وقت بنی اسرائیل کے تین گروہ بن گئے تھے: ایک وہ جنہوں نے نہ پوجا کی اور دوسروں کو سختی سے روکا بھی؛ دوسرا گروہ وہ جس نے بچھڑے کو سجدہ کیا؛ اور تیسرا وہ جنہوں نے خود تو سجدہ نہیں کیا مگر پوجا کرنے والوں کو روکا بھی نہیں۔ چنانچہ دوسرے گروہ (پوجا کرنے والوں) کو حکم ہوا کہ وہ قتل ہونے کے لیے تیار ہو جائیں، اور تیسرے گروہ (خاموش تماشائیوں) کو حکم ہوا کہ وہ ان مشرکوں کو قتل کریں تاکہ ان کی خاموشی اور عدم مداخلت کا کفارہ ادا ہو سکے؛ جبکہ پہلا پرہیزگار گروہ اس توبہ اور سزا سے مستثنیٰ رہا کیونکہ وہ اس گناہ سے بالکل پاک تھا۔
[۱۱] پھر متوجہ ہوا تم پر: علماء کے درمیان اس بات میں رائے کا فرق ہے کہ کیا قتل ہو جانا بذاتِ خود عینِ توبہ تھا، یا پھر یہ توبہ کی قبولیت کی ایک لازمی شرط اور طریقہ تھا۔ اس کی مثال اسلامی شریعت میں جان بوجھ کر قتل کرنے والے (قاتلِ عمد) کی سی ہے، جس کی سچی توبہ کی تکمیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو مقتول کے وارثوں کے حوالے کر دے، اب ان کی مرضی ہے کہ وہ قصاص لیں یا معاف کریں۔ اسی طرح ان کا خود کو سزا کے لیے پیش کرنا ان کی توبہ کی درستی کا ذریعہ بنا اور اللہ نے ان پر رحم فرمایا۔
[۱۲] تاکہ تم احسان مانو: اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب اتنے انعامات کے بعد تم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ گستاخانہ مطالبہ کیا کہ ہم آپ کی بات کا اس وقت تک ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے آمنے سامنے نہ دیکھ لیں۔ اس سرکشی پر آسمانی بجلی (کڑک) نے تمہیں آ لیا اور تم دیکھتے ہی دیکھتے بے جان ہو کر گر پڑے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ستر چنیدہ افراد کو کوہِ طور پر کلامِ الٰہی سنوانے کے لیے لے گئے تھے۔ جب انہوں نے کلام سنا تو کہنے لگے کہ ہم محض پردے کے پیچھے سے سننے پر مطمئن نہیں ہوتے، ہمیں کھلم کھلا خدا کو دکھاؤ۔ اس پر ان ستر افراد پر بجلی کا عذاب آیا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عاجزانہ دعا کے نتیجے میں اللہ نے مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی بخشی تاکہ تم اس عظیم احسان پر شکر بجا لاؤ۔
[۱۳] اور اتارا تم پر من اور سلویٰ: فرعون کے غرق ہونے کے بعد جب بنی اسرائیل حکمِ الٰہی کے مطابق مصر سے شام کی طرف چلے تو وادیِ تیہ (صحرا) میں سر چھپانے کے خیمے پھٹ گئے اور دھوپ کی سخت تپش نے ستایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن بھر بادل کا سایہ کیے رکھا۔ جب صحرا میں کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا تو اللہ نے غیب سے "مَنّ اور سلویٰ" نازل فرمایا۔ "مَنّ" ایک میٹھی، شیریں چیز تھی جو رات کو شبنم کی طرح لشکر کے اردگرد سفید دانوں کی صورت میں گرتی تھی اور ہر شخص صبح کو اپنی ضرورت کے مطابق اسے جمع کر لیتا تھا۔ اور "سلویٰ" ایک پرندہ تھا (جسے بٹیر کہتے ہیں)، شام کے وقت ہزاروں کی تعداد میں لشکر کے آس پاس جمع ہو جاتے تھے، لوگ اندھیرا ہوتے ہی انہیں آسانی سے پکڑ لیتے اور بھون کر کھاتے۔ ایک طویل عرصے تک وہ صحرا میں اسی آسمانی خوان پر پلتے رہے۔
[۱۴] کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دیں: یعنی اللہ کی عطا کردہ اس نفیس اور لذیذ غذا کو مزے سے کھاؤ اور اسی پر قناعت کرو؛ نہ تو کل کے لیے لالچ کر کے ذخیرہ کرو اور نہ ہی ناشکری کرتے ہوئے کسی دوسری غذا کی فرمائش کرو۔
[۱۵] بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے: انہوں نے پہلی نا فرمانی یہ کی کہ کل کے خوف سے گوشت کو بچا کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ سڑنے اور بدبودار ہونے لگا۔ دوسری نا فرمانی یہ کی کہ انہوں نے اس بہترین خوراک سے اکتا کر دال، گیہوں، ککڑی اور پیاز جیسی ادنیٰ چیزوں کا مطالبہ شروع کر دیا، جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کی مشقتوں اور پریشانیوں میں گرفتار ہوئے۔ اس نافرمانی سے انہوں نے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا۔
[۱۶] داخل ہو اس شہر میں: جب بنی اسرائیل صحرا میں بھٹکتے ہوئے تنگ آ گئے اور من و سلویٰ سے بیزار ہو گئے تو انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم ہوا۔ یہ شہر "اریحا" تھا جہاں قومِ عاد کی ایک شاخ قومِ عمالقہ آباد تھی، اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد بیت المقدس ہے۔
[۱۷] داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے: حکم دیا گیا کہ شہر کے پھاٹک میں سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے داخل ہو (یہ بدنی اور عملی شکر کا اظہار تھا)، اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ سر جھکا کر داخل ہونا ہے۔
[۱۸] اور زیادہ بھی دیں گے نیکی والوں کو: ساتھ ہی یہ ہدایت دی گئی کہ زبان سے "حِطَّةٌ" یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما دے کہتے ہوئے داخل ہو (یہ زبانی شکر اور استغفار تھا)۔ اللہ نے وعدہ فرمایا کہ جو شخص یہ عاجزی اختیار کرے گا، ہم اس کے سابقہ قصور معاف کر دیں گے اور جن کے اندر نیکی کا جذبہ زیادہ ہوگا، انہیں مزید اجر و ثواب سے نوازیں گے۔
[۱۹] ان کی عدول حکمی پر: مگر ان ظالموں نے اللہ کے حکم کا مذاق اڑایا اور الفاظ کو بدل ڈالا۔ انہوں نے توبہ اور استغفار کے کلمے "حِطَّةٌ" کی جگہ تمسخر اڑاتے ہوئے "حِنْطَةٌ" (یعنی ہمیں گیہوں چاہیے) کہنا شروع کر دیا، اور سجدے یا عاجزی کے ساتھ داخل ہونے کے بجائے اپنی سرینوں کے بل زمین پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے۔ اس کھلی سرکشی اور نافرمانی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ان پر طاعون کی وبا کا عذاب نازل کیا، جس کے نتیجے میں صرف ایک دوپہر کے اندر ان کے ستر ہزار آدمی ہلاک ہو گئے۔
ضروری علمی وضاحت
1. شفاعت کا قرآنی مفہوم اور یہود کا مغالطہ: آیت 48 میں جس شفاعت کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد وہ زبردستی یا خود ساختہ شفاعت ہے جس کا عقیدہ مشرکین اور یہود رکھتے تھے کہ وہ چاہے جیسے جرائم کریں، ان کے برگزیدہ اسلاف انہیں ہر حال میں چھڑا لیں گے۔ قرآن نے اس باطل تصور کو سختی سے رد کیا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ عقیدے کے مطابق آخرت میں انبیاء اور صالحین کی شفاعت برحق ہے، لیکن اس کی دو بنیادی شرائط ہیں: اول یہ کہ اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے والے کو اجازت عطا فرمائے، اور دوم یہ کہ جس کے حق میں شفاعت کی جا رہی ہو وہ صاحبِ ایمان ہو اور اللہ اس سے راضی ہو۔ کسی کافر یا مشرک کے لیے شفاعت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
2. بنی اسرائیل کی فضیلت کا تاریخی دائرہ: آیت 47 میں بنی اسرائیل کو تمام جہانوں پر فضیلت دیے جانے کا ذکر ہے۔ اس فضیلت سے مراد اپنے ہم عصر زمانوں کی تمام قوموں پر برتری تھی، کیونکہ اس وقت وہی وحی اور نبوت کے امین تھے۔ یہ کوئی نسلی یا ابدی برتری نہیں تھی جو ہر حال میں برقرار رہتی، بلکہ یہ ذمہ داری سے مشروط تھی۔ جب انہوں نے احکامِ الٰہی کی تضحیک کی اور آخری رسول ﷺ کی نبوت کا انکار کیا، تو یہ امامت ان سے چھین کر امتِ محمدیہ کو سونپ دی گئی، جیسا کہ سورۂ آلِ عمران میں فرمایا گیا:
كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِؕ وَلَوۡ اٰمَنَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡؕ مِنۡهُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَاَكۡثَرُهُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
ترجمہ: تم ہو بہتر سب امتوں سے جو بھیجی گئی عالم میں حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو برے کاموں سے اور ایمان لاتے ہو اللہ پر اور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو ان کے لئے بہتر تھا کچھ تو ان میں سے ہیں ایمان پر اور اکثر ان میں نافرمان ہیں (سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ: 110)
اہم الفاظ و مفاہیم
- يَسُومُونَكُمْ: (مادہ: س و م) — وہ تم پر مسلط کرتے تھے، تمہیں چکھاتے تھے، مسلسل سخت تکلیف میں مبتلا رکھتے تھے۔
- بَلَآءٌ: (مادہ: ب ل و) — اس کے بنیادی معنی جانچنے اور آزمانے کے ہیں۔ سیاق کے لحاظ سے اس کا اطلاق سخت مصیبت پر بھی ہوتا ہے اور نعمت پر بھی، کیونکہ دونوں ہی انسان کے لیے امتحان ہیں۔
- فَرَقْنَا: (مادہ: ف ر ق) — ہم نے پھاڑ دیا، جدا جدا کر دیا، دو ٹکڑے کر دیا۔
- حِطَّةٌ: (مادہ: ح ط ط) — بوجھ کا اتار دینا، گرانا۔ یہاں مراد یہ دعا ہے کہ "اے اللہ! ہمارے گناہوں کا بوجھ ہم پر سے اتار دے اور ہمیں بخش دے"۔
- رِجْزًا: (مادہ: ر ج ز) — اضطراب اور سخت عذاب۔ یہاں آسمان سے نازل ہونے والی طاعون کی ہلاکت خیز وبا مراد ہے۔
تدبر و عملی رہنمائی
- خاندانی وجاہت بے معنی ہے: انسان کا اصل سرمایہ اس کا اپنا عمل اور ایمان ہے۔ کسی بڑے دینی گھرانے، بزرگوں کی نسل یا مقدس نسبت پر تکیہ کر کے فرائض سے غفلت برتنا ہلاکت کا راستہ ہے۔
- شکر گزاری نعمتوں کی محافظ ہے: بنی اسرائیل پر مَنّ و سلویٰ، ابر کا سایہ اور پانی کے چشمے جاری ہوئے، مگر قناعت کے بجائے طمع اور ناشکری نے انہیں آزمائش میں ڈال دیا۔ نعمت کی قدر نہ کی جائے تو وہ زحمت بن جاتی ہے۔
- دینی احکام کا احترام: شریعت کے احکام میں اپنی مرضی کے معنی پہنانا یا ان کا تمسخر اڑانا سخت ترین گناہ ہے۔ جب بنی اسرائیل نے "حِطَّة" کو "حِنْطَة" بنا کر دین کا مذاق اڑایا تو ان پر آسمانی عذاب ٹوٹ پڑا۔ دینی شعائر کا ادب ہر مؤمن پر لازم ہے۔
خلاصۂ تفسیر
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے آباء و اجداد پر کیے گئے عظیم احسانات یاد دلائے ہیں—جن میں فرعون کے ظلم سے رہائی، سمندر کا دو لخت ہونا، بچھڑے کی پوجا جیسے سنگین گناہ کے بعد توبہ کی توفیق، کوہِ طور پر ہلاکت کے بعد نئی زندگی، اور صحرا میں بادل کے سائے اور مَنّ و سلویٰ کا انتظام شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی ناشکری، گستاخانہ مطالبات، دینی احکام میں تحریف اور تمسخر کا پردہ چاک کر کے واضح کیا گیا ہے کہ آخرت میں کسی کے باپ دادا کی وجاہت کام نہیں آئے گی۔ نجات کا واحد راستہ سچی توبہ، عاجزی اور اللہ و اس کے آخری رسول ﷺ کی غیر مشروط اطاعت ہے۔
ماخذ و حوالہ جات
- تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (زیرِ تفسیر آیات 47 تا 59)۔
- قرآنِ مجید — تفسیری ربط اور فہمِ آیات کے لیے۔
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
