سورۃ البقرہ آیات ۳۰ تا ۳۹ کی تفسیر (تفسیرِ عثمانی کی روشنی میں): اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور زمین پر ان کی خلافت کا اعلان بیان کیا گیا ہے۔…
فہرستِ مضامین
سیاق و سباق / ربطِ آیات
گزشتہ رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تمام نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ زمین کی ساری چیزیں انسان کے نفع کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اس کائنات میں کس حیثیت سے بسایا گیا اور اسے یہ ساری نعمتیں کس مقصد کے تحت دی گئیں؟
اس چوتھے رکوع کا مرکزی موضوع زمین پر انسانی خلافت کا آغاز، فضیلتِ علم، ابلیس کی سرکشی، اور زمین پر انسان کے لیے الٰہی ضابطۂ ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا اعلان فرما کر واضح کیا کہ انسان محض ایک عام مخلوق نہیں بلکہ زمین پر اللہ کا خلیفہ اور نمائندہ ہے۔ یہ مضمون اگلی قسط میں بنی اسرائیل کے تذکرے سے جڑتا ہے، جنہیں اسی خلافت اور امانت کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے نافرمانی کی روش اختیار کی۔
آیات کا متن اور ترجمہ
وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اِنِّيۡ جَاعِلٌ فِي الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةًؕ قَالُوۡٓا اَتَجۡعَلُ فِيۡهَا مَنۡ يُّفۡسِدُ فِيۡهَا وَيَسۡفِكُ الدِّمَآءَۚ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَؕ قَالَ اِنِّيۡٓ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾
ترجمہ: اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک نائب [۱] کہا فرشتوں نے کیا قائم کرتا ہے تو زمین میں اس کو جو فساد کرے اس میں اور خون بہائے اور ہم پڑھتے رہتے ہیں تیری خوبیاں اور یاد کرتے ہیں تیری پاک ذات کو [۲] فرمایا بیشک مجھ کو معلوم ہے جو تم نہیں جانتے [۳]
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَي الۡمَلٰٓئِكَةِ فَقَالَ اَنۭۡ بِـُٔوۡنِيۡ بِاَسۡمَآءِ هٰٓؤُلَآءِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿۳۱﴾
ترجمہ: اور سکھلا دیے اللہ نے آدم کو نام سب چیزوں کے پھر سامنے کیا ان سب چیزوں کو فرشتوں کے پھر فرمایا بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر تم سچے ہو
قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَاؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ﴿۳۲﴾
ترجمہ: بولے پاک ہے تو ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا تو نے ہم کو سکھایا بیشک تو ہی ہے اصل جاننے والا حکمت والا [۴]
قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَنۭۡ بِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۚ فَلَمَّآ اَنۭۡ بَاَهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكُمۡ اِنِّيۡٓ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۙ وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
ترجمہ: فرمایا اے آدم بتا دے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام پھر جب بتا دیے اس نے ان کے نام فرمایا کیا نہ کہا تھا میں نے تم کو کہ میں خوب جانتا ہوں چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو [۵]
وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّآ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰي وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴿۳۴﴾
ترجمہ: اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان [۶] اس نے نہ مانا اور تکبر کیا اور تھا وہ کافروں میں کا [۷]
وَقُلۡنَا يٰٓاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَاص وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴿۳۵﴾
ترجمہ: اور ہم نے کہا اے آدم رہا کر تو اور تیری عورت جنت میں اور کھاؤ اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو اور پاس مت جانا اس درخت کے پھر تم ہو جاؤ گے ظالم [۸]
فَاَزَلَّهُمَا الشَّيۡطٰنُ عَنۡهَا فَاَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيۡهِص وَقُلۡنَا اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّۚ وَلَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيۡنٍ ﴿۳۶﴾
ترجمہ: پھر ہلا دیا ان کو شیطان نے اس جگہ سے پھر نکالا ان کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے [۹] اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے [۱۰] اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک [۱۱]
فَتَلَقّٰٓي اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيۡهِؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ ﴿۳۷﴾
ترجمہ: پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے رب سے چند باتیں پھر متوجہ ہو گیا اللہ اس پر بیشک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان [۱۲]
قُلۡنَا اهۡبِطُوۡا مِنۡهَا جَمِيۡعًاۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّيۡ هُدًي فَمَنۡ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۸﴾
ترجمہ: ہم نے حکم دیا نیچے جاؤ یہاں سے تم سب [۱۳] پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے [۱۴]
وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَع ﴿۳۹﴾
ترجمہ: اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ ہیں دوزخ میں جانے والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
حوالہ: سُورَةُ البَقَرَةِ (سورۃ نمبر 2)، آیت 30–39 — ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
تفسیری حواشی
[۱] زمین میں ایک نائب: پچھلی آیات میں بتایا گیا تھا کہ زمین کی ساری چیزیں تمہارے لیے پیدا کی گئیں۔ اب انسان پر کی گئی اس عظیم ترین نعمت کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اللہ کا نائب اور خلیفہ بنایا گیا۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ انسان کو اتنی بڑی کائنات کا مالک و مختار کیوں بنایا گیا، تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور ان کے منصبِ خلافت کے اس واقعے نے اس کا تسلی بخش جواب دے دیا۔
[۲] کیا قائم کرتا ہے تو زمین میں اس کو جو فساد کرے: فرشتوں کے دل میں یہ خلجان پیدا ہوا کہ ایسی مخلوق کو خلیفہ کیوں بنایا جا رہا ہے جس میں خون خرابہ اور فساد پھیلانے والے بھی ہوں گے، جبکہ ہم ہر وقت اطاعت اور بندگی میں لگے رہتے ہیں؟ چنانچہ انہوں نے یہ بات حقیقت سمجھنے اور حکمت جاننے کے لیے پوچھی، اللہ کے فیصلے پر اعتراض کے طور پر ہرگز نہیں پوچھی۔ فرشتوں کو انسان کی اس کمزوری کا اندازہ کیسے ہوا؟ اس کے کئی امکانات ہیں: یا تو انہوں نے انسان سے پہلے زمین پر بسنے والے جنات کے فساد پر قیاس کیا، یا اللہ تعالیٰ نے خود پہلے بتا دیا تھا، یا لوحِ محفوظ پر لکھا دیکھ لیا تھا، یا وہ یہ سمجھے کہ خلیفہ اور حاکم کی ضرورت ہی وہیں پیش آتی ہے جہاں ظلم اور فساد کو روکنا مقصود ہو، یا پھر حضرت آدم علیہ السلام کے جسدِ خاکی کی ساخت دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ اس مخلوق میں جذبات اور خواہشات بھی رکھی گئی ہیں۔
[۳] بیشک مجھ کو معلوم ہے جو تم نہیں جانتے: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ابتدا میں مختصر اور جامع جواب دیا کہ انسان کی پیدائش اور اس کو خلیفہ بنانے میں جو مصلحتیں اور حکمتیں ہمارے پیشِ نظر ہیں، تم ابھی ان سے واقف نہیں ہو۔ اگر تم ان حکمتوں کو جان لیتے تو انسان کی خلافت اور اس کی فضیلت پر ذرا بھی شک نہ کرتے۔
[۴] بیشک تو ہی ہے اصل جاننے والا حکمت والا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے دل میں بلا واسطہ کلام ڈال کر کائنات کی تمام چیزوں کے نام، ان کی حقیقتیں، فائدے، نقصانات اور خاصیتیں سکھا دیں۔ اس علمی کمال کے بغیر دنیا کا نظام چلانا اور خلافت کی ذمہ داری نبھانا ممکن ہی نہ تھا۔ اس کے بعد فرشتوں کو حقیقت سمجھانے کے لیے ان چیزوں کو سامنے لا کر پوچھا گیا کہ اگر تمہارا یہ خیال درست ہے کہ تم زمین کی خلافت سنبھال سکتے ہو تو ان کے نام اور احوال بتاؤ۔ فرشتے اپنی بے بسی اور لاعلمی کا اقرار کرتے ہوئے پکار اٹھے کہ اے پروردگار! تو ہر عیب اور کوتاہی سے پاک ہے، ہمارا علم صرف اسی قدر ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا؛ اصل علم اور حکمت کا مالک تو صرف تو ہی ہے۔ وہ سمجھ گئے کہ اس وسیع علم کے بغیر زمین کا انتظام نہیں چل سکتا، اور جو تھوڑا سا علم ہمیں حاصل ہے وہ اس منصب کے لیے کافی نہیں۔
[۵] کیا نہ کہا تھا میں نے تم کو کہ میں خوب جانتا ہوں: جب حضرت آدم علیہ السلام کو حکم ہوا تو انہوں نے ایک ایک کر کے تمام چیزوں کے نام اور ان کے احوال فرشتوں کے سامنے بیان کر دیے، جس پر فرشتے دنگ رہ گئے اور حضرت آدم علیہ السلام کے علمی دائرے کے قائل ہو گئے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یاد دلایا کہ کیا ہم نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں صرف ہمارے علم میں ہیں، اور جو کچھ تم زبان پر لاتے ہو یا دلوں میں چھپائے بیٹھے ہو، ہم سب جانتے ہیں۔ اس واقعے سے یہ واضح ہو گیا کہ عبادت کے مقابلے میں علم کا درجہ کتنا بلند ہے۔ فرشتے عبادت میں اتنے آگے ہیں کہ گناہوں سے معصوم ہیں، مگر علم میں انسان ان سے فائق نکلا؛ اس لیے زمین کی خلافت انسان ہی کے سپرد ہوئی اور فرشتوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔ عبادت مخلوق کی صفت ہے مگر علم اللہ کی صفت ہے، اور نائب اسی کو بنایا جاتا ہے جس میں اصل ہستی کی صفات کا نمایاں عکس ہو۔
[۶] تو سب سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان: جب حضرت آدم علیہ السلام کا خلیفہ ہونا ثابت ہو گیا تو فرشتوں کو اور ان کے ساتھ جنات کو حکم دیا گیا کہ وہ آدم علیہ السلام کے آگے تعظیمی سجدہ کریں، بالکل ویسے ہی جیسے بادشاہ اپنے ولی عہد کا تقرر کر کے درباریوں کو نذرانے پیش کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ اطاعت میں کوئی ابہام نہ رہے۔ سب نے یہ سجدہ ادا کیا مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔ ابلیس دراصل جنات کی نسل سے تھا مگر فرشتوں کے ساتھ میل جول رکھتا تھا۔ اس کی سرکشی کا پس منظر یہ تھا کہ جنات ہزاروں سال سے زمین میں آباد تھے؛ جب انہوں نے فساد مچایا تو فرشتوں نے اللہ کے حکم سے انہیں پہاڑوں اور جزائر میں دھکیل دیا۔ ابلیس ان میں بڑا عالم اور عابد تھا، اس نے جنات کی سرکشی سے بیزاری ظاہر کی اور فرشتوں کے ساتھ رہنے لگا۔ وہ اس لالچ میں عبادت کرتا رہا کہ تمام جنات کے خاتمے کے بعد زمین کی حکومت مجھے سونپی جائے گی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان ہوا تو اس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا، اور وہ اپنی خود نمائی والی عبادت کو اکارت جاتا دیکھ کر حسد کی آگ میں جل کر نافرمان بن گیا۔
[۷] اور تھا وہ کافروں میں کا: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے علم میں پہلے ہی سے کافر تھا جس کا اظہار اب سب کے سامنے ہو گیا؛ یا یہ کہ اس انکار کے نتیجے میں وہ کافر ہو گیا۔ اس نے محض سجدہ چھوڑا نہیں تھا بلکہ تکبر کرتے ہوئے اللہ کے حکم کو حکمت کے خلاف اور اپنی شان کے لیے عار سمجھ کر رد کر دیا تھا۔
[۸] اور پاس مت جانا اس درخت کے: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں عزت و سکون کے ساتھ بسایا گیا، اور مختلف روایات کے مطابق وہ درخت گیہوں، انگور، انجیر یا ترنج میں سے کوئی پودا تھا، جس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جب ابلیس کو دربار سے نکالا گیا تو اس کا حسد اور بھڑک اٹھا۔ اس نے حضرت آدم اور حوا کو طرح طرح سے بہکایا اور جھوٹی قسمیں کھا کر یقین دلایا کہ اگر تم اس درخت کو چکھ لو گے تو ہمیشہ کے لیے مقرب بن جاؤ گے، اور ممانعت کے حکم کی من گھڑت تاویلیں پیش کر کے انہیں اس سے کھانے پر آمادہ کر دیا۔
[۹] پھر نکالا ان کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے: اس چوک کے نتیجے میں حضرت آدم، حضرت حوا اور ان کی آئندہ نسل کو یہ حکم ملا کہ وہ جنت سے زمین پر اتر جائیں۔ جنت بے فکری، طہارت اور چین کی جگہ ہے، وہ گناہ، آزمائش اور دشمنی کے معاملات کے لیے نہیں بنی؛ لہٰذا ان امور کے لیے دنیا ہی مناسب ٹھہری جسے آزمائش کی جگہ بنایا گیا ہے۔
[۱۰] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے: زمین پر بسنے کے بعد انسانوں کے درمیان باہمی کھینچ تان اور دشمنی کی کیفیات پیدا ہوں گی، شیطان انسان کا دشمن ہوگا اور انسانوں کے باہمی مفادات ٹکرائیں گے جس کے باعث دکھ اور تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں گی۔
[۱۱] ایک وقت تک: زمین پر قیام ہمیشہ کے لیے نہیں ہے بلکہ ایک متعین مدت تک ہے۔ ہر انسان کے حق میں یہ مدت اس کی موت تک ہے، اور پوری کائنات کے لیے قیامت کے دن تک؛ اس کے بعد سب کو لوٹ کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔
[۱۲] پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے رب سے چند باتیں: جب حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا عتاب سنا اور جنت سے زمین پر تشریف لائے تو ندامت اور شرمندگی کے سمندر میں ڈوب کر رونے اور گڑگڑانے لگے۔ اس بے بسی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کے دل میں توبہ کے چند الفاظ القا فرمائے، جن کے ذریعے ان کی توبہ قبول ہوئی؛ وہ الفاظ یہ تھے: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا (اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا)۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول تو فرما لی مگر انہیں فوراً جنت میں واپس بھیجنے کے بجائے زمین پر رہنے کا فیصلہ برقرار رکھا، کیونکہ مصلحت یہی تھی کہ وہ زمین ہی کے لیے خلیفہ بنائے گئے تھے، جنت کے لیے نہیں۔ مزید یہ کہ فرمانبرداروں کے لیے دنیا کا قیام نقصان دہ نہیں بلکہ درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے، اور نافرمانوں کے لیے جہنم کا فیصلہ کرنے کی خاطر اس امتحانی دنیا کا ہونا ضروری تھا۔
[۱۳] نیچے جاؤ یہاں سے تم سب: زمین پر اترنے کا یہ حکم دوبارہ تاکید کے طور پر دیا گیا تاکہ اب زندگی گزارنے کا بنیادی قانون اور ضابطہ بیان کیا جا سکے۔
[۱۴] نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے: کسی آنے والی مصیبت کے خدشے کو 'خوف' کہتے ہیں اور جو تکلیف گزر چکی ہو اس کے صدمے کو 'حزن' (غم) کہتے ہیں؛ جیسے کسی بیمار کے فوت ہو جانے کا اندیشہ 'خوف' ہے اور انتقال کے بعد کا دکھ 'حزن' ہے۔ آیت میں اگر دنیاوی کیفیت مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی ہدایت پر چلیں گے انہیں یہ اندیشہ نہ ہوگا کہ شاید یہ راستہ غلط ہو، اور نہ وہ اس غم میں مبتلا ہوں گے کہ جنت کی نعمت چھن گئی، کیونکہ عنقریب وہ دوبارہ جنت ہی میں جانے والے ہیں۔ اگر اس سے مراد آخرت کا معاملہ ہو تو مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اہل ہدایت کو ہر قسم کے خوف اور حزن سے نجات ملے گی۔ قیامت کے روز خوف کی نفی اس لیے صادق آتی ہے کہ مجرمانہ خوف سے وہ محفوظ ہوں گے، اگرچہ اللہ کے جلال و ہیبت کا طبعی خوف ہر ایک کو لاحق ہوگا۔
ضروری علمی وضاحت
خلافتِ ارضی کا تقاضا محض عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ زمین پر اللہ کے دیے ہوئے علم اور اختیارات کے ذریعے عدل و انصاف کا قیام ہے۔ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے کہ خلیفہ سے مراد ایسی مخلوق ہے جس کی نسلیں یکے بعد دیگرے زمین میں ایک دوسرے کی جگہ لیں گی اور احکامِ الٰہی کی تنفیذ کریں گی۔ فرشتوں کا سوال کسی حسد یا عناد پر مبنی نہ تھا بلکہ انہوں نے انسانی فطرت میں موجود شہوت اور غضب کے تقاضوں کو بھانپ کر یہ جاننا چاہا تھا کہ اس مخلوق کی تخلیق کا بنیادی راز کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا کہ خیر و شر کے اختیارات کے باوجود جو بندے اپنے علم اور ارادے سے اللہ کی بندگی کا راستہ چنیں گے، ان کا مقام ان ہستیوں سے بلند ہوگا جن کے اندر نافرمانی کی صلاحیت ہی نہیں رکھی گئی۔
متعلقہ قرآن و حدیث
حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی جن باتوں کے ذریعے توبہ کی تھی، ان کلمات کی صراحت قرآنِ مجید کے دوسرے مقام پر یوں فرمائی گئی ہے:
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ اَنۡفُسَنَاسكته وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمہ: بولے وہ دونوں اے رب ہمارے ظلم کیا ہم نے اپنی جان پر اور اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور ہو جائیں گے تباہ (سُورَةُ الأَعۡرَافِ: 23)
اہم الفاظ و مفاہیم
- خَلِيفَةً: مادّہ (خ - ل - ف)؛ پیچھے آنے والا یا نمائندہ۔ آیت میں اس سے مراد وہ ہستی ہے جو زمین میں اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کرنے کے لیے اس کا نائب بن کر آئے۔
- نُقَدِّسُ: مادّہ (ق - د - س)؛ پاکی بیان کرنا اور ہر عیب سے پاک ماننا۔ فرشتوں کا مقصد یہ تھا کہ ہم آپ کی ذاتِ اقدس کو ہر برائی سے پاک قرار دیتے ہیں۔
- رَغَدًا: مادّہ (ر - غ - د)؛ کشادگی، فراخی اور بغیر کسی تنگی کے بھرپور رزق و آسائش۔
- فَأَزَلَّهُمَا: مادّہ (ز - ل - ل)؛ پھسلا دینا، لغزش میں ڈال دینا۔ مراد یہ کہ شیطان نے ان کے قدموں کو استقامت سے ہٹا دیا۔
- تَلَقَّىٰ: مادّہ (ل - ق - ی)؛ سامنے سے لینا، حاصل کرنا یا سیکھ لینا۔ یعنی آدم علیہ السلام نے اللہ کے سکھائے ہوئے کلمات کو دل کی گہرائی سے قبول کیا۔
تدبر و عملی رہنمائی
- علم کا حقیقی کردار: انسان کی فضیلت کا اصل سبب مال، طاقت یا نسل نہیں بلکہ وہ سچا علم ہے جو کائنات کی حقیقتوں کو سمجھنے اور اللہ کی معرفت حاصل کرنے میں مدد دے۔
- تکبر کی تباہ کاری: ابلیس ہزاروں سال کی عبادت کے باوجود صرف حسد اور تکبر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ ہو گیا۔ عبادت کی کثرت انسان کو اس وقت تک فائدہ نہیں پہنچاتی جب تک دل تکبر سے پاک نہ ہو۔
- توبہ کا طریقہ: گناہ یا لغزش کے بعد مایوس ہونے کے بجائے فوراً عاجزی کے ساتھ اللہ کی طرف پلٹنا انبیاء کی سنت ہے۔ توبہ کا دروازہ ہر خطا کار کے لیے ہمیشہ کھلا ہے۔
- شیطانی ہتھکنڈوں سے ہوشیاری: شیطان نیکی اور خیر خواہی کا لبادہ اوڑھ کر اور من گھڑت تاویلیں گھڑ کر انسان کو بہکاتا ہے؛ لہٰذا الٰہی احکام کی صریح خلاف ورزی پر کسی تاویل کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔
خلاصۂ تفسیر
اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور زمین پر ان کی خلافت کا اعلان بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اشیاء کے علم کے ذریعے انسان کی برتری فرشتوں پر ثابت فرمائی اور سب کو آدم کے آگے جھکنے کا حکم دیا، جس سے ابلیس نے تکبر کرتے ہوئے انکار کر دیا۔ بعد ازاں ابلیس نے فریب دے کر حضرت آدم اور حوا کو شجرِ ممنوعہ سے کھلوا دیا، جس پر انہیں دنیا میں اترنے کا حکم ملا۔ توبہ کی قبولیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانی زندگی کا یہ حتمی قانون مقرر فرمایا کہ جو لوگ وحی اور الٰہی ہدایت کی پیروی کریں گے وہ ہر خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے، جبکہ کفر و سرکشی کرنے والے ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
ماخذ و حوالہ جات
- تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ
- تفسیر ابنِ کثیر — عماد الدین حافظ ابنِ کثیرؒ
بنیادی ماخذ: تفسیرِ عثمانی — مولانا شبیر احمد عثمانیؒ · ترجمہ: شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ
