جمہوریت، سیاسی بیانیہ اور تبدیلی کے دعوے: ایک تجزیاتی مطالعہ
تحریر: اے بی فاروقی
جمہوریت کا سادہ مفہوم "عوامی حاکمیت" ہے، جہاں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی کا اندازہ دو پیمانوں سے لگایا جاتا ہے: پہلا "انفراسٹرکچر" یعنی سڑکیں، پانی اور بجلی، اور دوسرا "نظریاتی و شعوری ارتقاء"۔ ترقی یافتہ ممالک میں شعوری بیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں آج بھی لوگ صرف اسی تبدیلی کو مانتے ہیں جو سڑک یا کھمبے کی صورت میں نظر آئے۔
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور جمہوریت
پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سیاسی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ ایک طویل عرصہ آمریت کی نذر ہوا اور جب جمہوری دور کا آغاز ہوا تو نادیدہ قوتوں کی مداخلت نے اسے مستحکم نہ ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے بعد 2013 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا سے "تحریکِ انصاف" ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔ اس کامیابی کے پیچھے "تبدیلی" اور "نیا پاکستان" کا وہ پرکشش نعرہ تھا جس نے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔
نوجوان نسل اور میرٹ کا سوال
عمران خان صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نوجوانوں کو سیاست میں آگے لائیں گے، لیکن عملی طور پر صورتحال مختلف نظر آئی۔ راقم ایسے کئی باصلاحیت نوجوانوں سے واقف ہے جنہوں نے پارٹی کے لیے دن رات ایک کر دیے، لیکن جب موقع دینے کی باری آئی تو انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ میرٹ کی جگہ روایتی سیاست دانوں کو ترجیح دینا اس نظریاتی تبدیلی کے گلے پر پہلی چھری ثابت ہوئی جس کا خواب نوجوانوں کو دکھایا گیا تھا۔
خیبر پختونخوا حکومت: دعوے اور حقیقت
تحریکِ انصاف نے میٹرو اور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر کڑی تنقید کی اور تعلیم و صحت کو ترجیح دینے کا اعلان کیا، مگر خیبر پختونخوا میں ان شعبوں کی حالت زار میں کوئی مثالی تبدیلی نظر نہ آئی۔
بلین ٹری سونامی: اس منصوبے میں کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات نے میڈیا میں کافی بحث چھیڑی۔
پولیس اصلاحات: پولیس کو غیر سیاسی کرنے کے دعوے تو بہت ہوئے، لیکن ڈی آئی خان جیسے واقعات نے نظام کے نقائص کو بے نقاب کر دیا۔
کرپشن کا خاتمہ: احتساب کا نعرہ لگانے والی پارٹی نے جب دوسری جماعتوں کے "الیکٹ ایبلز" کو اپنے ساتھ ملانا شروع کیا، تو احتساب کے عمل پر سوالیہ نشان لگ گئے۔
سیاسی کلچر اور اخلاقی اقدار
انصاف کی فراہمی اور نئے پاکستان کی بات باتوں کی حد تک تو دلکش لگتی ہے، لیکن اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے افسوسناک پہلو سیاسی جلسوں کے ماحول میں آنے والی تبدیلی ہے۔ سیاسی اجتماعات جو کبھی سنجیدہ فکر و تدبر کا مرکز ہوتے تھے، اب وہاں ایک ایسا کلچر پروان چڑھ رہا ہے جو ہماری روایتی اور اخلاقی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔ سیاسی بیانیے میں شائستگی کا فقدان اور جلسوں کا مخصوص ماحول سنجیدہ حلقوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
خلاصہ :
کیا محض نعروں اور جلسوں سے تبدیلی ممکن ہے؟ عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اسی تبدیلی کے خواہاں تھے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ حقیقی تبدیلی سڑکوں یا بجلی کے کھمبوں سے نہیں، بلکہ نظام کی شفافیت، میرٹ کی بالادستی اور اخلاقی اقدار کے تحفظ سے آتی ہے۔ سوچیے گا ضرور!

Comments