انتخابی موسم اور نظریات کا زوال: کیا '62-63' محض ایک خواب ہے؟
تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی)
پاکستان میں الیکشن کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی وفاداریوں کی تبدیلی کا وہ موسم بھی لوٹ آیا ہے جہاں سیاسی پرندے اپنی من پسند شاخوں کی تلاش میں اڑان بھرتے نظر آتے ہیں۔ نظریات اور افکار کے پہاڑ یکایک ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں، اور میرٹ کا خون کرنے والے اچانک شفافیت کے علمبردار بن کر ابھر رہے ہیں۔ ہر ایک کا یہی دعویٰ ہے کہ ملک و ملت کی تقدیر صرف وہی بدل سکتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا؟
انتخابات کے بعد کا منظرنامہ
تاریخ گواہ ہے کہ الیکشن کے فوراً بعد "تبدیلی" کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور حکومتی فیصلوں سے مایوسی کی بو آنے لگتی ہے۔ عوام کی توجہ بانٹنے کے لیے چینی اور آٹے کی قطاریں لگائی جاتی ہیں، جہاں سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ کر کھڑا ہوتا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور "جمہوریت ڈی ریل ہونے" کے نعرے لگانا ہمارا مستقل سیاسی رواج بن چکا ہے۔
سیاست: خدمت یا منافع بخش کاروبار؟
ہمارے ملک میں سیاست دانوں کی اکثریت کے لیے سیاست عوامی خدمت کے بجائے "روزی کمانے کا ذریعہ" بن چکی ہے۔ ایک دکاندار کی طرح الیکشن پر سرمایہ لگایا جاتا ہے اور پھر پانچ سال تک منافع در منافع کی وصولی کے لیے عوام کو مہنگائی اور مصائب کی چکی میں پیسا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ اکثر "حالات کا کیا بھروسہ" کہہ کر سوئس بینکوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
آئینِ پاکستان اور '62-63' کی پرخار وادی
1973 کا متفقہ آئین تمام خوبیوں کا مرقع ہے، مگر افسوس اس کے عملی نفاذ سے ہمیشہ جی چرایا گیا۔ خاص طور پر آرٹیکل 62 اور 63 کا تذکرہ آتے ہی سیاسی حلقوں میں ایک بے چینی پھیل جاتی ہے۔ ٹاک شوز میں بیٹھ کر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ "ان شرائط پر کوئی پورا نہیں اتر سکتا"۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ شرائط ناقابلِ عمل تھیں، تو انہیں آئین کا حصہ کیوں بنایا گیا؟
آرٹیکل 62 کے تحت رکنِ پارلیمنٹ کی اہلیت کا خلاصہ
وہ اچھے کردار کا حامل ہو اور اسلامی احکامات سے انحراف کے لیے مشہور نہ ہو۔
اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو، فرائض کا پابند ہو اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو۔
وہ سمجھدار، پارسا، ایماندار اور امین ہو۔
کسی اخلاقی پستی یا جھوٹی گواہی کے جرم میں سزا یافتہ نہ ہو۔
نظریہ پاکستان اور ملک کی سالمیت کا وفادار ہو۔
خلاصہ کلام
اگر صرف ان دو آرٹیکلز (62 اور 63) پر مکمل روح کے ساتھ عمل درآمد ہو جائے، تو ملک کو ایسی مخلص قیادت میسر آ سکتی ہے جو "دجلہ کے کنارے کتے کے بھوکا مرنے" پر بھی خود کو جوابدہ سمجھے۔ جب تک سیاست کو "مقدس امانت" کے بجائے "کاروبار" سمجھا جائے گا، عوام ظلمت کے اندھیروں میں ڈوبتی رہے گی۔ تبدیلی کا اصل راز نعروں میں نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی اور صالح قیادت کے چناؤ میں چھپا ہے۔
Comments