8 اکتوبر 2005: جب زندگی کا پہیہ تھم گیا — ایک طالبِ علم کی آپ بیتی
ازقلم: اے بی فاروقی
آج 8 اکتوبر ہے۔ زندگی کا پہیہ حسبِ معمول چل رہا ہے، لیکن جب بھی یہ تاریخ آتی ہے، یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں۔ 2005 میں یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ تھا۔ لوگ سحری و تہیجد سے فارغ ہو کر اپنے معمولات میں مصروف تھے۔ بچے سکولوں کو جا چکے تھے، مائیں گھروں کے کاموں میں لگی تھیں اور بزرگ دھوپ سینک رہے تھے۔
راقم الحروف اس وقت کالج میں اپنے پسندیدہ استاد کی کلاس میں محوِ تعلیم تھا کہ یکایک زمین لرزنے لگی۔ وہ 1830 کی قدیم عمارت جب جھولنے لگی تو ہر طرف "لا الہ الا اللہ" کی صدائیں گونجنے لگیں۔ ہم بوکھلا کر میدان کی طرف بھاگے، جہاں خوف کا ایک ایسا سماں تھا جسے بیان کرنا ناممکن ہے۔
راولپنڈی سے رنگلہ تک کا کٹھن سفر
اس دور میں رابطے کے ذرائع محدود تھے۔ موبائل فون ہر ایک کے پاس نہیں تھا، اور پی سی او سے گھر کا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ جب ٹی وی پر مارگلہ ٹاور کے گرنے کے مناظر دیکھے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ میں اپنے خاندان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین تھا، چنانچہ فوری طور پر راولپنڈی سے آزاد کشمیر کے لیے رختِ سفر باندھا۔
پنڈی سے کوہالہ تک سڑکیں ٹھیک تھیں، لیکن جیسے ہی ہم آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہوئے، مناظر بدل گئے۔ پہاڑوں سے گرتے پتھر اور آفٹر شاکس کے خوف کے باوجود ہمارا رخ اپنے گاؤں "سارمنڈل" کی طرف تھا۔ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں عبور کرتے ہوئے جب ہم اپنے علاقے پہنچے تو معلوم ہوا کہ قیامت گزر چکی ہے۔
اپنوں کی جدائی اور صبر کا امتحان
گاؤں پہنچ کر معلوم ہوا کہ گھر کے تمام افراد اللہ کے فضل سے سلامت ہیں، لیکن محلے میں صفِ ماتم بچھی تھی۔ 80 گھروں کے اس چھوٹے سے گاؤں میں 18 سے زائد جنازے تھے، جن میں بچے اور بوڑھے سب شامل تھے۔ دل اس وقت مزید افسردہ ہو گیا جب معلوم ہوا کہ ہماری عزیزہ ماموں زاد اور تایا زاد کی صاحبزادی اس دنیا سے کوچ کر چکی ہیں۔
ایک اور المناک سانحہ
اس زلزلے کے اثرات میری زندگی پر بہت گہرے ہیں۔ زلزلے کے چند ہی دن بعد، ایک خیمے میں لگنے والی آگ نے ہمارے خاندان پر ایک اور قیامت ڈھا دی۔ اس حادثے میں میرے دو بھائی اور ایک بہن خالقِ حقیقی سے جا ملے، جبکہ دو بھائی شدید زخمی ہوئے۔ یہ وہ دکھ تھا جس نے مسکراہٹیں چھین لیں۔ زخمی بھائیوں کو بعد ازاں سرکاری سطح پر بہتر معالجے کے لیے واہ کینٹ منتقل کیا گیا، جہاں طویل علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوئے، لیکن ان کے جسموں پر موجود جلنے کے نشانات آج بھی اس المناک دن کی یاد دلاتے ہیں۔
حرفِ آخر
8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ تاریخ کا وہ باب ہے جس نے کئی گھر اجاڑ دیے اور بے شمار لوگوں کو تاحیات صدمے دے گیا۔ آج بھی جب یہ دن آتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ایسی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

Comments