اسلام دینِ فطرت ہے: رسم و رواج کی غلامی اور ہماری ذمہ داری

از قلم اے بی فاروقی
اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ "دینِ فطرت" ہے۔ اس کی ہر تعلیم انسانی جبلت اور فطرت کے عین مطابق ہے۔
تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جب سے انسان اس دنیا میں آیا، اللہ رب العزت نے کم و بیش سوا لاکھ انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسانوں کو خود ساختہ معبودوں اور توہمات کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں لے آئیں۔
:تاریخی تناظر اور انبیاء کی جدوجہد
ہر دور میں انبیاء کرام نے اپنے معاشرے میں موجود برائیوں کا قلع قمع کیا۔ کہیں ناپ تول میں کمی تھی، کہیں اخلاقی پستی اور کہیں جنسی بے راہ روی؛ اللہ کے فرستادوں نے ان خرافات کے خلاف آواز بلند کی۔ جن لوگوں نے ان کی دعوت کو مانا وہ کامیاب ہوئے اور جنہوں نے سرکشی اختیار کی، وہ رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔
:رسم و رواج کی زنجیریں اور غیرتِ ایمانی
آج ہم خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ہم اللہ کی رضا سے زیادہ "معاشرتی دباؤ" اور "رسم و رواج" کے غلام بن چکے ہیں۔ ہمیں یہ فکر زیادہ لاحق رہتی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" حالانکہ قرآنِ کریم کا واضح اعلان ہے کہ اہلِ ایمان ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔
اگر ہم اللہ کو راضی کرنے کا تہیہ کر لیں، تو دنیا کی ناراضگی کی پروا کرنا ایمان کا تقاضا نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی بے شمار رسومات جڑ پکڑ چکی ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
:معاشی تنگدستی اور سماجی خرافات
اگر ہم صرف درج ذیل چند رسومات کو ختم کر دیں، تو ہمارا معاشرہ بہت سی معاشی تنگیوں سے نجات پا سکتا ہے
شادی بیاہ کے اخراجات: اسلام میں شادی انتہائی سادہ اور بابرکت عمل ہے۔ نکاح، ایجاب و قبول، حق مہر اور بقدرِ استطاعت ولیمہ کے علاوہ باقی تمام رسومات محض اسراف اور دکھاوا ہیں۔ یہ پیسہ کسی یتیم، مسافر یا طالبِ علم کی مدد پر خرچ ہو سکتا ہے۔
:اختلاطِ مرد و زن
شادیوں اور دیگر تقریبات میں مرد و زن کا آزادانہ اختلاط اخلاقی گراوٹ کا باعث بن رہا ہے، جو ایک پاکیزہ معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
:موت سے وابستہ رسومات 
جب کوئی عزیز اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو رسمِ قل، ساتواں یا چالیسواں جیسی رسومات ہندوآنہ معاشرے کے اثرات ہیں۔ اسلام میں دعا اور ایصالِ ثواب کی ترغیب ہے، نہ کہ ان مخصوص ایام کی جن سے غریب خاندان مزید قرض تلے دب جائے۔
:خلاصہ
ہمیں اپنی زندگیوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ کیا ہم اللہ کے احکامات کے تابع ہیں یا معاشرے کے خود ساختہ قوانین کے؟ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اسوہِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالیں اور ان تمام بیڑیوں کو توڑ دیں جو ہمیں دینِ فطرت سے دور کرتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ