ملالہ یوسفزئی اور عالمی پذیرائی: ایک طالبہ سے 'گل مکئی' تک کا سفر


تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی)
پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں ملالہ یوسفزئی کا نام ایک ایسی پہچان بن چکا ہے جس کی مثال شاید ہی کسی دوسرے طالب علم میں مل سکے۔ ملالہ کو آج ہمت و حوصلے کی علامت قرار دیا جاتا ہے، مگر اس غیر معمولی پذیرائی پر ایک بڑا حلقہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ خاص طور پر یہ نکتہ کہ آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ نے اتنی قلیل مدت میں وہ عالمی مقام کیسے حاصل کر لیا جو دہائیوں سے کام کرنے والے بڑے بڑے دانشوروں اور پی ایچ ڈی اسکالرز کے حصے میں بھی نہ آ سکا؟
میڈیا کا کردار اور بیانیے کی تشکیل
پاکستانی میڈیا کی "گل مکئی" نے چند ہی دنوں میں وہ شہرت حاصل کی جو کسی خواب سے کم نہیں۔ وہ ڈائیریاں لکھتی ہیں، ہر سماجی مسئلے پر پختہ رائے رکھتی ہیں اور انٹرنیشنل افیئرز سے لے کر پاکستان کے تعلیمی نظام میں تبدیلی تک، ہر موضوع پر ان کا کلام حرفِ آخر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بیانات کو اخبارات کے سرورق اور نیوز بلیٹنز میں کسی بڑی عالمی شخصیت کی طرح جگہ دی جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ اور 'ملالہ ڈے'
ملالہ کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب وہ طالبان کے حملے میں زخمی ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد ان کی شخصیت کو ایک نئی زندگی ملی۔ ان کی 16ویں سالگرہ کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر نیویارک میں 80 ملکوں کے بچوں کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، جہاں وہ مہمانِ خصوصی تھیں۔ اس دن کو "ملالہ ڈے" سے معنون کیا گیا۔ وہاں انہوں نے کتاب اور قلم کی اہمیت پر وہ مشہور خطاب کیا جس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی۔ ان کا موقف تھا کہ شدت پسند تعلیم کی طاقت اور خواتین کی برابری سے خوفزدہ ہیں۔
سوالات اور تحفظات
جہاں ایک طرف دنیا ان کی مدح سرا ہے، وہیں ناقدین کچھ اہم سوالات بھی اٹھاتے ہیں
ثقافتی تضادات: بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے کچھ خیالات پشتون روایات اور مقامی اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
خاندان کی منتقلی: ملالہ کے ساتھ ساتھ ان کے والد کی انگلینڈ میں رہائش اور وہاں سے پاکستان کے تعلیمی نظام کو بدلنے کے دعوے بھی بحث کا مرکز بنے رہتے ہیں۔
عالمی اداروں کا جھکاؤ: اقوامِ متحدہ کے سربراہ بانکی مون سمیت دیگر عالمی شخصیات کا ملالہ کے لیے غیر معمولی پیکجز کا اعلان کرنا کئی لوگوں کو حیرت میں ڈالتا ہے۔
حرفِ آخر
پاکستان میں ایسی بے شمار تنظیمیں اور مخلص افراد موجود ہیں جو ملالہ کی پیدائش سے بھی پہلے سے تعلیم کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر انہیں شاید وہ عالمی اسٹیج میسر نہ آ سکا جو "آٹھویں کی طالبہ" کو ملا۔ کیا یہ ملالہ کی خداداد صلاحیت ہے، یا عالمی طاقتوں کا کوئی خاص ایجنڈا؟ اس کا فیصلہ وقت اور تاریخ کے قارئین پر چھوڑنا ہی بہتر ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ