ادعیہ ماثورہ

ادعیۂ ماثورہ: مفہوم، فضیلت اور اہمیت

اےبی فاروقی

الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، حضرت محمد ﷺ پر جن کی حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کی اصلاح کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انہی ذرائعِ اصلاح میں ایک نہایت اہم ذریعہ دعا ہے۔ دعا نہ صرف بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتی ہے بلکہ دل کی کیفیت، نیت کی پاکیزگی اور روحانی سکون کا بھی سبب بنتی ہے۔


ادعیۂ ماثورہ کیا ہیں؟

ادعیۂ ماثورہ سے مراد وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم ﷺ سے قولاً یا عملاً ثابت ہوں اور جنہیں آپ ﷺ نے خود پڑھا، سکھایا یا ان کی ترغیب دی۔

یہ دعائیں قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ﷺ سے ماخوذ ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں سب سے زیادہ مستند، جامع اور بابرکت مانا جاتا ہے۔


ادعیۂ ماثورہ کی فضیلت

1. قبولیت کے زیادہ قریب
چونکہ یہ دعائیں براہِ راست نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں، اس لیے ان کی قبولیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

2. جامعیت اور حکمت
ان دعاؤں میں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی سمیٹ دی گئی ہے، جو انسانی عقل سے بالاتر جامعیت رکھتی ہے۔

3. سنت کی پیروی
ان دعاؤں کو پڑھنا دراصل سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ہے، جو خود ایک عظیم سعادت ہے۔

4. روحانی سکون اور اطمینان
ان اذکار و دعاؤں کے ذریعے دل کو سکون، ذہن کو اطمینان اور روح کو تازگی ملتی ہے۔

5. حفاظت اور برکت
صبح و شام، سونے جاگنے، سفر اور دیگر مواقع کی مسنون دعائیں انسان کے لیے حفاظت کا ذریعہ بنتی ہیں۔


ادعیۂ ماثورہ کی اہمیت  

ادعیۂ ماثورہ کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کو نہ صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات سکھائیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کے لیے دعائیں بھی تعلیم فرمائیں۔

  • کھانے پینے کی دعائیں
  • سونے اور جاگنے کی دعائیں
  • گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعائیں
  • سفر اور مشکل حالات کی دعائیں

یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام میں دعا کو ایک مکمل طرزِ زندگی کا حصہ بنایا گیا ہے۔


آج کے دور میں ضرورت

موجودہ دور کی مصروف اور پریشان کن زندگی میں انسان ذہنی دباؤ، بے سکونی اور خوف کا شکار ہے۔ ایسے میں ادعیۂ ماثورہ ایک روحانی ڈھال کی حیثیت رکھتی ہیں، جو نہ صرف انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہیں بلکہ اسے اندرونی مضبوطی بھی عطا کرتی ہیں۔


خلاصہ

ادعیۂ ماثورہ وہ قیمتی خزانہ ہیں جو ہمیں نبی کریم ﷺ کی طرف سے عطا ہوا۔ ان کا اہتمام نہ صرف ہماری عبادات کو سنوارتا ہے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کو بھی برکت، سکون اور کامیابی سے بھر دیتا ہے۔


پیغامِ نوائے فاروقی

آئیں! ہم سب ادعیۂ ماثورہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، انہیں یاد کریں، سمجھیں اور روزمرہ معمولات میں شامل کریں تاکہ ہم دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی حاصل کر سکیں۔  
گھر میں داخل ہونے  کی دعا


اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِاسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا، وَبِاسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا 

ترجمہ:

 "اے اللہ! میں تجھ سے داخل ہونے اور نکلنے کی بہتری مانگتا ہوں۔ اللہ کے نام سے داخل ہوتے ہیں، اللہ کے نام سے نکلتے ہیں، اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں"۔


فضیلت:


یہ دعا گھر میں برکت اور شیطانی اثرات سے حفاظت کا سبب بنتی ہے۔


گھر سے نکلنے  کی دعا


بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ


ترجمہ

میں اللہ کا نام لے کر نکلا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے بچنے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
(سنن الترمذي، 5/490، بيروت)، (مشکاۃ شریف)


فضیلت


حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص گھر سے نکل کر یہ دعا پڑھ لے تو شیطان ہٹ جاتا ہے یعنی اس کے بہکانے اور ایذاء دینے سے باز رہتا ہے۔

(مشکاۃ شریف)
اس دعا کو پڑھنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتا ہے اور شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ اس لیے جب بھی گھر سے نکلیں تو یہ دعا پڑھنا نہ بھولیں۔


مسجد میں داخل ہونے کی دعا


اللّٰهُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ
ترجمہ
اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
(صحیح مسلم، کتابُ الصَّلاۃ، باب فضل الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ)

فضیلت

مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس میں داخل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرنا چاہیے۔ اس دعا کو پڑھنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے اور مسجد میں داخل ہونے کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے۔
اس دعا کے ساتھ درود شریف پڑھنا بھی مستحب ہے۔
(ابوداؤد، کتابُ الصَّلاۃ، باب الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ)
مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے اندر رکھیں اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے باہر نکالیں۔ 

مسجد سے نکلنے کی دعا


اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

ترجمہ

اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔
(صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل الدعاء عند الخروج من المسجد)


فضیلت


جب کوئی شخص مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی اور رزق حلال کا سوال کرتا ہے۔


کھانا شروع کرنے سے پہلے کی دعا


بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلَىٰ بَرَكَةِ اللّٰهِ

ترجمہ 

اللہ کے نام سے اور اللہ کی برکت کے ساتھ (شروع کرتا ہوں)
(ترمذی، کتاب الاطعمہ، باب ما یقول اذا بدأ الطعام، حدیث نمبر: 1858)

ایک اور روایت میں یہ دعا بھی وارد ہوئی ہے

اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ

ترجمہ

اے اللہ! تو ہمیں اس میں برکت دے اور ہمیں اس سے بہتر کھانا عطا فرما۔
(ابوداؤد، کتاب الاطعمہ، باب ما یقول اذا اکل، حدیث نمبر: 3768)


اگر کسی شخص کو شروع کی دعا یاد نہ رہےکھانے کےدوران یہ پڑھے

بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ

ترجمہ

 اللہ کے نام سے شروع اور آخر۔
(ترمذی، کتاب الاطعمہ، باب ما یقول اذا نسی ان یسمی، حدیث نمبر: 1859)

فضیلت

کھانا کھانے سے پہلے دعا پڑھنا سنت ہے۔ اس سے کھانے میں برکت ہوتی ہے اور شیطان دور رہتا ہے۔ دعا پڑھنے کے بعد کھانا کھانا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

کھانا کھانے کے بعد کی مسنون دعائیں



اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّيْ وَلَا قُوَّةٍ

ترجمہ

 تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جنہوں نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری کسی طاقت و قوت کے مجھے یہ رزق دیا۔
(سنن ابو داؤد، کتاب الاطعمہ، باب ما یقول اذا فرغ من طعامہ)

دیگر دعائیں جو عام طور پر پڑھی جاتی ہے


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَفَانِي وَأَرْضَانِي

ترجمہ

 تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو کافی ہوگیا اور جس نے مجھے راضی کیا۔
(ابن ماجہ)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ

ترجمہ


تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمانوں میں سے بنایا۔


(مسند احمد، حدیث نمبر: 12379)


فضیلت

کھانا کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ان دعاؤں کو پڑھنا چاہیے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف ہوتا ہے اور دل میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ نیز، یہ دعائیں پڑھنے سے انسان شیطان کے وسوسوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔

جب کسی کے ہاں کھانا کھائیں تو میزبان کے لیے دعا کرنا سنت ہے

اللّٰهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي

ترجمہ

اے اللہ! جو مجھے کھلائے اسے کھلا اور جو مجھے پلائے اسے پلا۔
(صحیح مسلم، کتاب الاشربة، باب الدعاء لمن سقاہ أو أطعمہ)

فضیلت

یہ دعا میزبان کے حق میں ایک قسم کی جزاء ہے کہ جس نے آپ کو کھانا کھلایا یا پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے۔ اس دعا میں میزبان کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا بھی شامل ہے۔
اس دعا کو پڑھنے سے میزبان خوش ہوتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی مہمان نوازی کو سراہا گیا ہے۔ نیز، یہ دعا پڑھنے سے مہمان اور میزبان کے درمیان تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔

دودھ پینے کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے

اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ

ترجمہ

اے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت ڈال اور ہمیں اس سے زیادہ عطا کر۔
(مسند احمد، حدیث نمبر: 22695)

فضیلت

یہ دعا دودھ کے فوائد اور برکت میں اضافے کے لیے ہے۔ دودھ ایک مکمل غذا ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ اس دعا کو پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا ہوتا ہے اور اس سے مزید برکت کی امید کی جاتی ہے۔
یہ دعا عام طور پر کھانے پینے کی چیزوں کے لیے پڑھی جاتی ہے اور دودھ بھی ایک بہترین غذا ہے، اس لیے دودھ پینے کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ