Posts

اسلام دینِ فطرت ہے: رسم و رواج کی غلامی اور ہماری ذمہ داری

Image
از قلم اے بی فاروقی اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ "دینِ فطرت" ہے۔ اس کی ہر تعلیم انسانی جبلت اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جب سے انسان اس دنیا میں آیا، اللہ رب العزت نے کم و بیش سوا لاکھ انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسانوں کو خود ساختہ معبودوں اور توہمات کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں لے آئیں۔ :تاریخی تناظر اور انبیاء کی جدوجہد ہر دور میں انبیاء کرام نے اپنے معاشرے میں موجود برائیوں کا قلع قمع کیا۔ کہیں ناپ تول میں کمی تھی، کہیں اخلاقی پستی اور کہیں جنسی بے راہ روی؛ اللہ کے فرستادوں نے ان خرافات کے خلاف آواز بلند کی۔ جن لوگوں نے ان کی دعوت کو مانا وہ کامیاب ہوئے اور جنہوں نے سرکشی اختیار کی، وہ رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔ :رسم و رواج کی زنجیریں اور غیرتِ ایمانی آج ہم خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ہم اللہ کی رضا سے زیادہ "معاشرتی دباؤ" اور "رسم و رواج" کے غلام بن چکے ہیں۔ ہمیں یہ فکر زیادہ لاحق رہتی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" حالانکہ قرآنِ کری...

موت کی حقیقت اور ایک دردناک جدائی: بھائی لیاقت مرحوم کی یاد میں

تحریر: اے بی فاروقی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک مشہور قول ہے: "الموت لیس منہ الفوت" یعنی موت سے کوئی فرار نہیں۔ یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے۔ کبھی یہ بڑھاپے کی دستک بن کر آتی ہے اور کبھی بھرپور جوانی کے رنگوں کو لمحوں میں مٹا دیتی ہے۔ نبوی اسوہ اور غمِ اولاد غم اور جدائی کے لمحات میں ہمیں سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کی زندگی سے حوصلہ ملتا ہے۔ جب آپ ﷺ کے لختِ جگر آپ کی آغوش میں آخری سانسیں لے رہے تھے، تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ یہ آنسو انسانی فطرت اور اپنی اولاد سے گہری محبت کا اظہار تھے۔ مشرکینِ مکہ نے جب طنز کیا تو اللہ رب العزت نے سورۃ الکوثر نازل فرما کر دشمنوں کو "ابتر" (بے نام و نشان) قرار دیا اور نبی کریم ﷺ کی شان کو رہتی دنیا تک بلند کر دیا۔ بھائی لیاقت: سادگی اور خلوص کا پیکر کسی جوان کی موت اہلِ خانہ کے لیے ایک ایسا زخم ہوتی ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ بھائی لیاقت ایک ایسی ہی شخصیت تھے جن کی کمی آج بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ ایک سادہ، مخلص اور باکردار نوجوان تھے۔ ان کی شخصیت کی نمایاں خوبیاں: سچائی اور دیانتداری: وہ ہم...

انتخابی موسم اور نظریات کا زوال: کیا '62-63' محض ایک خواب ہے؟

تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) پاکستان میں الیکشن کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی وفاداریوں کی تبدیلی کا وہ موسم بھی لوٹ آیا ہے جہاں سیاسی پرندے اپنی من پسند شاخوں کی تلاش میں اڑان بھرتے نظر آتے ہیں۔ نظریات اور افکار کے پہاڑ یکایک ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں، اور میرٹ کا خون کرنے والے اچانک شفافیت کے علمبردار بن کر ابھر رہے ہیں۔ ہر ایک کا یہی دعویٰ ہے کہ ملک و ملت کی تقدیر صرف وہی بدل سکتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا؟ انتخابات کے بعد کا منظرنامہ تاریخ گواہ ہے کہ الیکشن کے فوراً بعد "تبدیلی" کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور حکومتی فیصلوں سے مایوسی کی بو آنے لگتی ہے۔ عوام کی توجہ بانٹنے کے لیے چینی اور آٹے کی قطاریں لگائی جاتی ہیں، جہاں سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ کر کھڑا ہوتا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور "جمہوریت ڈی ریل ہونے" کے نعرے لگانا ہمارا مستقل سیاسی رواج بن چکا ہے۔ سیاست: خدمت یا منافع بخش کاروبار؟ ہمارے ملک میں سیاست دانوں کی اکثریت کے لیے سیاست عوامی خدمت کے بجائے "روزی کمانے کا ذریعہ" بن چکی ہے۔ ایک د...

قاضی حسین احمدؒ — ایک فکری رہنما اور نظریاتی سیاست کا استعارہ

Image
✍️ از قلم: اے بی فاروقی 🌿 تعارف پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد اسلامی اقدار اور آئینی اصولوں پر رکھی گئی۔ اس ریاست کی بقا اور استحکام کے لیے ہمیشہ ایسے رہنماؤں کی ضرورت رہی ہے جو فکر، عمل اور کردار کے ساتھ قوم کی رہنمائی کریں۔ انہی شخصیات میں ایک نمایاں نام قاضی حسین احمدؒ کا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی فکر، سیاسی جدوجہد اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ 📌 فکری جدوجہد اور سیاسی کردار قاضی حسین احمدؒ نے اپنی سیاست کو محض اقتدار کی نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کی صورت میں آگے بڑھایا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ: ملکی نظام کی اصلاح آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہونی چاہیے قومی وحدت اور باہمی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے معاشرتی مسائل کا حل سنجیدہ مکالمے اور اصلاحی عمل میں پوشیدہ ہے انہوں نے مختلف ادوار میں پارلیمانی سیاست اور احتجاجی سیاست دونوں میں فعال کردار ادا کیا اور ہمیشہ اصولی موقف کو ترجیح دی۔ 🎓 تعلیم، تربیت اور علمی خدمات 1938 میں نوشہرہ کے علاقے میں پیدا ہونے والے قاضی حسین احمدؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے جغرافیہ می...

عالمِ اسلام کا بحران اور جمہوریت کے دہرے معیار: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی تاریخِ انسانی کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی اصولوں کی جنگ لڑی گئی، حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ آج کے دور میں جہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کے گیت گائے جاتے ہیں، وہیں امتِ مسلمہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ان دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔ منتخب جمہوری حکومتوں کا خاتمہ، انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی طاقتوں کی معنی خیز خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ "انصاف" کے پیمانے ہر ایک کے لیے مختلف ہیں۔ اسلام اور دہشت گردی کا غلط العام تصور بدقسمتی سے آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک خاص بیانیہ (Narrative) ترتیب دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپنے معاشرے میں اسلامی اقدار کو رائج کرنا دہشت گردی ہے؟ کیا عوامی اکثریت کی رائے سے منتخب ہو کر ان کے حقوق کی بات کرنا جرم ہے؟ کیا حجاب اور حیا کی ترویج انتہا پسندی ہے؟ یا پھر عالمی فورمز پر ناموسِ رسالت ﷺ کی بات کرنا دہشت گردی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام امن اور عدل کا دین ہے، مگر جب بھی کوئی "اسلامسٹ" حکومت وجود میں آتی ہے تو دنیا بھر کے لادین عناصر اسے اپنے لیے خطرہ کیوں محسوس کرنے لگتے ہیں؟ ا...

ملالہ یوسفزئی اور عالمی پذیرائی: ایک طالبہ سے 'گل مکئی' تک کا سفر

Image
تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں ملالہ یوسفزئی کا نام ایک ایسی پہچان بن چکا ہے جس کی مثال شاید ہی کسی دوسرے طالب علم میں مل سکے۔ ملالہ کو آج ہمت و حوصلے کی علامت قرار دیا جاتا ہے، مگر اس غیر معمولی پذیرائی پر ایک بڑا حلقہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ خاص طور پر یہ نکتہ کہ آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ نے اتنی قلیل مدت میں وہ عالمی مقام کیسے حاصل کر لیا جو دہائیوں سے کام کرنے والے بڑے بڑے دانشوروں اور پی ایچ ڈی اسکالرز کے حصے میں بھی نہ آ سکا؟ میڈیا کا کردار اور بیانیے کی تشکیل پاکستانی میڈیا کی "گل مکئی" نے چند ہی دنوں میں وہ شہرت حاصل کی جو کسی خواب سے کم نہیں۔ وہ ڈائیریاں لکھتی ہیں، ہر سماجی مسئلے پر پختہ رائے رکھتی ہیں اور انٹرنیشنل افیئرز سے لے کر پاکستان کے تعلیمی نظام میں تبدیلی تک، ہر موضوع پر ان کا کلام حرفِ آخر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بیانات کو اخبارات کے سرورق اور نیوز بلیٹنز میں کسی بڑی عالمی شخصیت کی طرح جگہ دی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور 'ملالہ ڈے' ملالہ کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب وہ طالبان کے حملے میں زخمی ہوئیں۔ اس واقعے کے ...

ثقافتی یلغار اور ہماری قومی پہچان: ایک لمحہ فکریہ

تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی ثقافت، زبان اور اقدار کی حفاظت کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہماری معاشرتی زندگی پر غیروں کے کلچر کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوآنہ رسوم و رواج سے لے کر مغربی طرزِ زندگی تک، ہم نے اپنی اسلامی اور مشرقی پہچان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ معاشرتی بگاڑ اور خاندانی اقدار کا زوال ہمارے معاشرے میں ذات پات کا نظام اور شادی بیاہ کی فضول رسومات اسلامی طرزِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ وہ حیا اور سادگی جو ہماری پہچان تھی، اب دکھاوے اور اسراف کی نذر ہو چکی ہے۔ نام نہاد جدت پسندی کے نام پر ڈھیلے ڈھالے اور باحیا لباس کو "دقیانوسی" قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بوائے فرینڈ کلچر اور آزادانہ میل جول کو فروغ مل رہا ہے۔ اس میں رہی سہی کسر موبائل فون کے غلط استعمال اور میڈیا کی یلغار نے پوری کر دی ہے۔ تعلیمی نظام اور فکری جمود ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ایک صالح قیادت پیدا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ نصاب میں شامل بعض مواد ہماری نسلوں کو اپنی تاریخ اور ہیروز سے دور کر رہا ہے۔ جہاں محمد ب...