موت کی حقیقت اور ایک دردناک جدائی: بھائی لیاقت مرحوم کی یاد میں

تحریر: اے بی فاروقی

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک مشہور قول ہے: "الموت لیس منہ الفوت" یعنی موت سے کوئی فرار نہیں۔ یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے۔ کبھی یہ بڑھاپے کی دستک بن کر آتی ہے اور کبھی بھرپور جوانی کے رنگوں کو لمحوں میں مٹا دیتی ہے۔

نبوی اسوہ اور غمِ اولاد

غم اور جدائی کے لمحات میں ہمیں سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کی زندگی سے حوصلہ ملتا ہے۔ جب آپ ﷺ کے لختِ جگر آپ کی آغوش میں آخری سانسیں لے رہے تھے، تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ یہ آنسو انسانی فطرت اور اپنی اولاد سے گہری محبت کا اظہار تھے۔ مشرکینِ مکہ نے جب طنز کیا تو اللہ رب العزت نے سورۃ الکوثر نازل فرما کر دشمنوں کو "ابتر" (بے نام و نشان) قرار دیا اور نبی کریم ﷺ کی شان کو رہتی دنیا تک بلند کر دیا۔


بھائی لیاقت: سادگی اور خلوص کا پیکر

کسی جوان کی موت اہلِ خانہ کے لیے ایک ایسا زخم ہوتی ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ بھائی لیاقت ایک ایسی ہی شخصیت تھے جن کی کمی آج بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ ایک سادہ، مخلص اور باکردار نوجوان تھے۔

ان کی شخصیت کی نمایاں خوبیاں:

  • سچائی اور دیانتداری: وہ ہمیشہ سچی بات کرنے اور محنت کی کمائی پر یقین رکھتے تھے۔

  • خدمتِ خلق: گاؤں کی ترقی اور لوگوں کے کام آنا ان کی جبلت میں شامل تھا۔

  • والدین کی خدمت: والدین کے لیے وہ ایک سایہ دار شجر کی مانند تھے۔

  • خوش اخلاقی: ان کے چہرے پر ہر وقت رہنے والی مسکراہٹ ان کی پہچان تھی۔

وہ ایک حقیقی دیہی معاشرے کا خوبصورت کردار تھے جو تعلیم سے زیادہ عملی زندگی میں محنت اور کھیتوں کی ہریالی میں سکون تلاش کرتے تھے۔


بیماری کا کٹھن سفر اور جدائی

تقریباً 24 سال کی عمر میں بھائی لیاقت کی شادی ہوئی، ابھی زندگی کی خوشیوں کا آغاز ہی ہوا تھا کہ تقدیر نے امتحان لے لیا۔ شادی کے دو سال بعد انہیں کینسر جیسا جان لیوا مرض لاحق ہو گیا۔

  • ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں تشخیص ہوئی۔

  • سی ایم ایچ (CMH) میں طویل علاج اور کیموتھراپی کے تکلیف دہ مراحل گزرے۔

مالی مشکلات اور جسمانی تکلیف کے باوجود انہوں نے کمالِ صبر کا مظاہرہ کیا، لیکن بالآخر 4 مئی 2013 کو وہ داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔


حرفِ آخر

بھائی لیاقت جیسے لوگ جسمانی طور پر تو ہم سے جدا ہو جاتے ہیں، لیکن اپنی نیکیوں، خدمت اور اخلاق کی وجہ سے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی جدائی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اصل گھر وہی ہے جہاں ہم سب کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔

اللہ پاک بھائی لیاقت کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کی تمام لغزشوں کو معاف فرما کر اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

میرے شیخ کی داستان مولانا عبدالقادررحمتہ اللہ علیہ کی حیات جاویداں

عورت مارچ اور ہمارا معاشرہ | اسلامی نقطہ نظر سے مکمل تجزیہ

کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ مظفرآباد کا دورہ