Posts

ریاستِ مدینہ کا تصور اور عصری سیاست: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں "ریاستِ مدینہ" کا تصور ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک ہندو رکنِ اسمبلی رمیش کمار کی جانب سے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی گئی، جس نے ایوان کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ قرارداد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ شراب ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو سراہا، لیکن اکثریت کی رائے کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ شراب کی حرمت اور اسلامی تعلیمات اسلام میں شراب کی حرمت "نصِ قطعی" سے ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز کو گناہِ کبیرہ اور تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب حرمتِ شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرامؓ نے اطاعت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک نظریاتی ریاست میں ایسے قوانین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں شعائرِ اسلام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہو۔ ریاستِ مدینہ کا دعویٰ اور عملی اقدامات موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو "ریاستِ مدینہ" کے نقشِ قدم پر چلا...

عوامی حکمرانی بمقابلہ دلوں کی حکمرانی: حضرت حاجی عبدالوہاب صاحبؒ کی حیاتِ مبارکہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی آج کے جمہوری دور میں عوام پانچ سال کے لیے اپنے نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس مختصر عرصے میں ہی عوام اپنے نمائندوں سے اس قدر شاکی ہو جاتے ہیں کہ اگلے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں تو یہ قانون ہے کہ کوئی شخص دو بار سے زیادہ اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ لیکن بندگانِ خدا میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ "دلوں کی دائمی حکمرانی" عطا فرما دیتا ہے۔ اولیاء اللہ: اللہ کی پہچان کا ذریعہ اولیاء اللہ کا اصل منصب بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لانا ہوتا ہے۔ حدیثِ قدسی کے مطابق، جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے سمع و بصر اور قوتِ عمل میں اپنی رضا شامل کر دیتا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ راتیں آہ و زاری میں گزارتے ہیں اور دن میں اللہ کی مخلوق کو خالق سے جوڑنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف دو ہی وظیفوں کے گرد گھومتا ہے اللہ کی بڑائی کا بیان: کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کا مشاہدہ کرنا اور کروانا۔ اسوۂ رسول ﷺ کی ترویج: نبی کریم...

انسانیت کا تحفظ اور اسلام کا پیغامِ امن: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی امن و امان کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں شدت پسندی کے جو واقعات رونما ہوئے، ان کا نشانہ معصوم انسانیت بنی۔ اسلام، جو کہ امن کا داعی دین ہے، کسی بھی بے گناہ  کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور حقِ زندگی قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: "جس نے کسی انسان کو (ناحق) قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا" (سورۃ المائدہ: 32)۔ اس نصِ قطعی سے ثابت ہوتا ہے کہ معصوم شہریوں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے کرنا صریحاً اسلامی اصولوں کی نفی اور فساد فی الارض ہے۔ اسلامی قوانین کے مطابق، کسی کو انفرادی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے۔ یہاں تک کہ جنگ کی حالت میں بھی اسلام نے بچوں، بوڑھوں، خواتین، اور حتیٰ کہ درختوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ شدت پسندی کے پیچھے چھپے محرکات علمائے کرام نے متفقہ طور پر انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کیا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان کو جس جانی و مالی نقصان کا...

تحفظِ ناموسِ صحابہؓ اور مولانا حق نواز جھنگویؒ: ایک تاریخی مطالعہ

Image
از قلم اے بی فاروقی تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ دینِ فطرت کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے۔ قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ "انا نحن نزلنا ذکر وانا لہ لحفظون" کی صورت میں موجود ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر دور میں ایسے رجالِ کار پیدا فرمائے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو شعائرِ اسلام اور صحابہ کرامؓ کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ ان مخلص شخصیات میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا حق نواز جھنگویؒ کا بھی ہے۔ ابتدائی زندگی اور علمی سفر مولانا حق نواز جھنگوی 1952 میں جھنگ کے ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد محض دو سال کی قلیل مدت میں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ علمِ دین کی پیاس آپ کو وقت کے بڑے علمی مراکز تک لے گئی خانیوال: جہاں سے آپ نے علمِ قرآت حاصل کیا۔ دارالعلوم کبیر والا: جہاں آپ نے تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم سیکھے۔ خیر المدارس ملتان: یہاں سے آپ نے دورہ حدیث مکمل کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔ تحریکِ ناموسِ صحابہؓ کا قیام آپ کی خطابت میں بلا کا اثر تھا۔ آپ نے اپنی دعوت کا آغاز جھنگ کی "پپلیاں والی مسجد" سے کیا۔ 6 ستمبر 1986 کو آپ نے ملک کی نظریاتی حد...

8 اکتوبر 2005: جب زندگی کا پہیہ تھم گیا — ایک طالبِ علم کی آپ بیتی

Image
آ ازقلم: اے بی فاروقی آج 8 اکتوبر ہے۔ زندگی کا پہیہ حسبِ معمول چل رہا ہے، لیکن جب بھی یہ تاریخ آتی ہے، یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں۔ 2005 میں یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ تھا۔ لوگ سحری و تہیجد سے فارغ ہو کر اپنے معمولات میں مصروف تھے۔ بچے سکولوں کو جا چکے تھے، مائیں گھروں کے کاموں میں لگی تھیں اور بزرگ دھوپ سینک رہے تھے۔ راقم الحروف اس وقت کالج میں اپنے پسندیدہ استاد کی کلاس میں محوِ تعلیم تھا کہ یکایک زمین لرزنے لگی۔ وہ 1830 کی قدیم عمارت جب جھولنے لگی تو ہر طرف "لا الہ الا اللہ" کی صدائیں گونجنے لگیں۔ ہم بوکھلا کر میدان کی طرف بھاگے، جہاں خوف کا ایک ایسا سماں تھا جسے بیان کرنا ناممکن ہے۔ راولپنڈی سے رنگلہ تک کا کٹھن سفر اس دور میں رابطے کے ذرائع محدود تھے۔ موبائل فون ہر ایک کے پاس نہیں تھا، اور پی سی او سے گھر کا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ جب ٹی وی پر مارگلہ ٹاور کے گرنے کے مناظر دیکھے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ میں اپنے خاندان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین تھا، چنانچہ فوری طور پر راولپنڈی سے آزاد کشمیر کے لیے رختِ سفر باندھا۔ پنڈی سے کوہالہ تک سڑکیں ٹھیک تھیں، لیکن ...

جمہوریت، سیاسی بیانیہ اور تبدیلی کے دعوے: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی جمہوریت کا سادہ مفہوم "عوامی حاکمیت" ہے، جہاں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی کا اندازہ دو پیمانوں سے لگایا جاتا ہے: پہلا "انفراسٹرکچر" یعنی سڑکیں، پانی اور بجلی، اور دوسرا "نظریاتی و شعوری ارتقاء"۔ ترقی یافتہ ممالک میں شعوری بیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں آج بھی لوگ صرف اسی تبدیلی کو مانتے ہیں جو سڑک یا کھمبے کی صورت میں نظر آئے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور جمہوریت پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سیاسی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ ایک طویل عرصہ آمریت کی نذر ہوا اور جب جمہوری دور کا آغاز ہوا تو نادیدہ قوتوں کی مداخلت نے اسے مستحکم نہ ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے بعد 2013 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا سے "تحریکِ انصاف" ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔ اس کامیابی کے پیچھے "تبدیلی" اور "نیا پاکستان" کا وہ پرکشش نعرہ تھا جس نے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ نوجوان نسل اور میرٹ کا س...

سماجیات میں 'وجہ اور اثر' کا تعلق اور عصری معاشرتی مسائل

Image
ازقلم  اے بی فاروقی سماجیات یا معاشرتی علوم کے مطالعے میں "وجہ اور اثر" (Cause and Effect) کا تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے اس کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔  اگرچہ سماجی علوم کے نتائج خالص سائنس (جیسے کیمیا یا طبیعیات) کی طرح عالمگیر نہیں ہوتے، کیونکہ انسانی رویے ثقافت، مذہب، اور ماحول کے تابع ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ایک معتدل معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ معاشرتی تضادات اور اقدار کا تصادم ہر معاشرے کی اپنی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔ جو بات ایک تہذیب میں عام سمجھی جاتی ہے، دوسری میں وہ ناپسندیدہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی معاشرے میں خاندانی نظام اور سماجی تعلقات کے پیرائے مسلم معاشرت سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلم اقدار میں عفت و پاکدامنی اور خاندانی تقدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور ان سے انحراف معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کے محرکات: ایک لمحہ فکریہ ہمارے معاشرے میں جہاں ہمدردی اور ناداری کی معاونت جیسی اعلیٰ روایات موجود ہیں، وہیں کچھ سنگین اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ قصور جیسے اندوہناک واقعات ...