Posts

8 اکتوبر 2005: جب زندگی کا پہیہ تھم گیا — ایک طالبِ علم کی آپ بیتی

Image
آ ازقلم: اے بی فاروقی آج 8 اکتوبر ہے۔ زندگی کا پہیہ حسبِ معمول چل رہا ہے، لیکن جب بھی یہ تاریخ آتی ہے، یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں۔ 2005 میں یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ تھا۔ لوگ سحری و تہیجد سے فارغ ہو کر اپنے معمولات میں مصروف تھے۔ بچے سکولوں کو جا چکے تھے، مائیں گھروں کے کاموں میں لگی تھیں اور بزرگ دھوپ سینک رہے تھے۔ راقم الحروف اس وقت کالج میں اپنے پسندیدہ استاد کی کلاس میں محوِ تعلیم تھا کہ یکایک زمین لرزنے لگی۔ وہ 1830 کی قدیم عمارت جب جھولنے لگی تو ہر طرف "لا الہ الا اللہ" کی صدائیں گونجنے لگیں۔ ہم بوکھلا کر میدان کی طرف بھاگے، جہاں خوف کا ایک ایسا سماں تھا جسے بیان کرنا ناممکن ہے۔ راولپنڈی سے رنگلہ تک کا کٹھن سفر اس دور میں رابطے کے ذرائع محدود تھے۔ موبائل فون ہر ایک کے پاس نہیں تھا، اور پی سی او سے گھر کا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ جب ٹی وی پر مارگلہ ٹاور کے گرنے کے مناظر دیکھے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ میں اپنے خاندان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین تھا، چنانچہ فوری طور پر راولپنڈی سے آزاد کشمیر کے لیے رختِ سفر باندھا۔ پنڈی سے کوہالہ تک سڑکیں ٹھیک تھیں، لیکن ...

جمہوریت، سیاسی بیانیہ اور تبدیلی کے دعوے: ایک تجزیاتی مطالعہ

Image
تحریر: اے بی فاروقی جمہوریت کا سادہ مفہوم "عوامی حاکمیت" ہے، جہاں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔ کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی کا اندازہ دو پیمانوں سے لگایا جاتا ہے: پہلا "انفراسٹرکچر" یعنی سڑکیں، پانی اور بجلی، اور دوسرا "نظریاتی و شعوری ارتقاء"۔ ترقی یافتہ ممالک میں شعوری بیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں آج بھی لوگ صرف اسی تبدیلی کو مانتے ہیں جو سڑک یا کھمبے کی صورت میں نظر آئے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور جمہوریت پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سیاسی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ ایک طویل عرصہ آمریت کی نذر ہوا اور جب جمہوری دور کا آغاز ہوا تو نادیدہ قوتوں کی مداخلت نے اسے مستحکم نہ ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے بعد 2013 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا سے "تحریکِ انصاف" ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔ اس کامیابی کے پیچھے "تبدیلی" اور "نیا پاکستان" کا وہ پرکشش نعرہ تھا جس نے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ نوجوان نسل اور میرٹ کا س...

سماجیات میں 'وجہ اور اثر' کا تعلق اور عصری معاشرتی مسائل

Image
ازقلم  اے بی فاروقی سماجیات یا معاشرتی علوم کے مطالعے میں "وجہ اور اثر" (Cause and Effect) کا تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے اس کے پسِ پردہ محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔  اگرچہ سماجی علوم کے نتائج خالص سائنس (جیسے کیمیا یا طبیعیات) کی طرح عالمگیر نہیں ہوتے، کیونکہ انسانی رویے ثقافت، مذہب، اور ماحول کے تابع ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ایک معتدل معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ معاشرتی تضادات اور اقدار کا تصادم ہر معاشرے کی اپنی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔ جو بات ایک تہذیب میں عام سمجھی جاتی ہے، دوسری میں وہ ناپسندیدہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی معاشرے میں خاندانی نظام اور سماجی تعلقات کے پیرائے مسلم معاشرت سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلم اقدار میں عفت و پاکدامنی اور خاندانی تقدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور ان سے انحراف معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کے محرکات: ایک لمحہ فکریہ ہمارے معاشرے میں جہاں ہمدردی اور ناداری کی معاونت جیسی اعلیٰ روایات موجود ہیں، وہیں کچھ سنگین اخلاقی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ قصور جیسے اندوہناک واقعات ...

اسلام دینِ فطرت ہے: رسم و رواج کی غلامی اور ہماری ذمہ داری

Image
از قلم اے بی فاروقی اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ "دینِ فطرت" ہے۔ اس کی ہر تعلیم انسانی جبلت اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جب سے انسان اس دنیا میں آیا، اللہ رب العزت نے کم و بیش سوا لاکھ انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسانوں کو خود ساختہ معبودوں اور توہمات کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں لے آئیں۔ :تاریخی تناظر اور انبیاء کی جدوجہد ہر دور میں انبیاء کرام نے اپنے معاشرے میں موجود برائیوں کا قلع قمع کیا۔ کہیں ناپ تول میں کمی تھی، کہیں اخلاقی پستی اور کہیں جنسی بے راہ روی؛ اللہ کے فرستادوں نے ان خرافات کے خلاف آواز بلند کی۔ جن لوگوں نے ان کی دعوت کو مانا وہ کامیاب ہوئے اور جنہوں نے سرکشی اختیار کی، وہ رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔ :رسم و رواج کی زنجیریں اور غیرتِ ایمانی آج ہم خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ہم اللہ کی رضا سے زیادہ "معاشرتی دباؤ" اور "رسم و رواج" کے غلام بن چکے ہیں۔ ہمیں یہ فکر زیادہ لاحق رہتی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" حالانکہ قرآنِ کری...

موت کی حقیقت اور ایک دردناک جدائی: بھائی لیاقت مرحوم کی یاد میں

تحریر: اے بی فاروقی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک مشہور قول ہے: "الموت لیس منہ الفوت" یعنی موت سے کوئی فرار نہیں۔ یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے۔ کبھی یہ بڑھاپے کی دستک بن کر آتی ہے اور کبھی بھرپور جوانی کے رنگوں کو لمحوں میں مٹا دیتی ہے۔ نبوی اسوہ اور غمِ اولاد غم اور جدائی کے لمحات میں ہمیں سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کی زندگی سے حوصلہ ملتا ہے۔ جب آپ ﷺ کے لختِ جگر آپ کی آغوش میں آخری سانسیں لے رہے تھے، تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ یہ آنسو انسانی فطرت اور اپنی اولاد سے گہری محبت کا اظہار تھے۔ مشرکینِ مکہ نے جب طنز کیا تو اللہ رب العزت نے سورۃ الکوثر نازل فرما کر دشمنوں کو "ابتر" (بے نام و نشان) قرار دیا اور نبی کریم ﷺ کی شان کو رہتی دنیا تک بلند کر دیا۔ بھائی لیاقت: سادگی اور خلوص کا پیکر کسی جوان کی موت اہلِ خانہ کے لیے ایک ایسا زخم ہوتی ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ بھائی لیاقت ایک ایسی ہی شخصیت تھے جن کی کمی آج بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ ایک سادہ، مخلص اور باکردار نوجوان تھے۔ ان کی شخصیت کی نمایاں خوبیاں: سچائی اور دیانتداری: وہ ہم...

انتخابی موسم اور نظریات کا زوال: کیا '62-63' محض ایک خواب ہے؟

تحریر: اے بی فاروقی (ایڈمن: نوائے فاروقی) پاکستان میں الیکشن کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی وفاداریوں کی تبدیلی کا وہ موسم بھی لوٹ آیا ہے جہاں سیاسی پرندے اپنی من پسند شاخوں کی تلاش میں اڑان بھرتے نظر آتے ہیں۔ نظریات اور افکار کے پہاڑ یکایک ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں، اور میرٹ کا خون کرنے والے اچانک شفافیت کے علمبردار بن کر ابھر رہے ہیں۔ ہر ایک کا یہی دعویٰ ہے کہ ملک و ملت کی تقدیر صرف وہی بدل سکتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا؟ انتخابات کے بعد کا منظرنامہ تاریخ گواہ ہے کہ الیکشن کے فوراً بعد "تبدیلی" کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور حکومتی فیصلوں سے مایوسی کی بو آنے لگتی ہے۔ عوام کی توجہ بانٹنے کے لیے چینی اور آٹے کی قطاریں لگائی جاتی ہیں، جہاں سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ کر کھڑا ہوتا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور "جمہوریت ڈی ریل ہونے" کے نعرے لگانا ہمارا مستقل سیاسی رواج بن چکا ہے۔ سیاست: خدمت یا منافع بخش کاروبار؟ ہمارے ملک میں سیاست دانوں کی اکثریت کے لیے سیاست عوامی خدمت کے بجائے "روزی کمانے کا ذریعہ" بن چکی ہے۔ ایک د...

قاضی حسین احمدؒ — ایک فکری رہنما اور نظریاتی سیاست کا استعارہ

Image
✍️ از قلم: اے بی فاروقی 🌿 تعارف پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد اسلامی اقدار اور آئینی اصولوں پر رکھی گئی۔ اس ریاست کی بقا اور استحکام کے لیے ہمیشہ ایسے رہنماؤں کی ضرورت رہی ہے جو فکر، عمل اور کردار کے ساتھ قوم کی رہنمائی کریں۔ انہی شخصیات میں ایک نمایاں نام قاضی حسین احمدؒ کا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی فکر، سیاسی جدوجہد اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ 📌 فکری جدوجہد اور سیاسی کردار قاضی حسین احمدؒ نے اپنی سیاست کو محض اقتدار کی نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کی صورت میں آگے بڑھایا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ: ملکی نظام کی اصلاح آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہونی چاہیے قومی وحدت اور باہمی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے معاشرتی مسائل کا حل سنجیدہ مکالمے اور اصلاحی عمل میں پوشیدہ ہے انہوں نے مختلف ادوار میں پارلیمانی سیاست اور احتجاجی سیاست دونوں میں فعال کردار ادا کیا اور ہمیشہ اصولی موقف کو ترجیح دی۔ 🎓 تعلیم، تربیت اور علمی خدمات 1938 میں نوشہرہ کے علاقے میں پیدا ہونے والے قاضی حسین احمدؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے جغرافیہ می...